*ایک عورت قصاب کی دکان بند ہونے سے کچھ ہی دیر پہلے اندر داخل ہوئی* اور پوچھا: "کیا آپ کے پاس ابھی مرغی دستیاب ہے؟”
*قصاب* نے ڈیپ فریزر کھولا، اس میں موجود *آخری مرغی* نکالی اور ترازو پر رکھ دی۔ وزن کیا تو وہ ڈیڑھ کلو نکلی۔ *عورت* نے مرغی کو غور سے دیکھا اور پھر سوال کیا: "کیا اس سے ذرا بڑی مرغی مل سکتی ہے؟”
*قصاب* نے وہی مرغی دوبارہ فریزر میں ڈالی، ایک لمحے بعد دوبارہ نکالی اور اس بار کمالِ ہوشیاری سے اپنا انگوٹھا ترازو کے پلڑے پر دبا دیا۔ وزن دو کلو ظاہر ہوا۔ *عورت* کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور وہ خوش ہو کر بولی: "یہ تو بہت زبردست ہے! ایسا کیجیے، مجھے یہ دونوں ہی مرغیاں دے دیں۔”
یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جب انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی دیانتداری اور ساکھ کتنی اہم ہے۔ جب آپ کی عیاری حد سے بڑھ جائے تو وہ الٹا آپ ہی کو بے وقوف ثابت کر دیتی ہے۔ اب وہ *قصاب* سر جھکائے فریزر کی گہرائیوں میں وہ ‘پہلی’ مرغی تلاش کر رہا ہے جو حقیقت میں تھی ہی نہیں۔
*عقلمند عورت* نے قصاب کی چالاکی بھانپ لی تھی، مگر بحث کرنے کے بجائے اسے اسی کے بنے ہوئے جال میں پھنسا کر خاموشی سے شرمندہ کر دیا۔ بعض اوقات عقل کا بروقت استعمال بحث و تکرار سے کہیں زیادہ موثر ہوتا ہے۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ دیانتداری انسان کی سب سے بڑی پہچان ہے، جبکہ عیاری اور دھوکہ وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے مگر آخرکار انسان کو خود ہی شرمندگی اور نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عقل مند وہی ہے جو سچائی کو اختیار کرے، کیونکہ سچ کبھی انسان کو رسوا نہیں کرتا، بلکہ جھوٹ اور فریب ہی انسان کو اس کے اپنے جال میں پھنسا دیتے
Source