ان کی کوئی دوست مڈل کلاس سے نہیں ہے سب ایلیٹ ہیں …


💥 ان کی کوئی دوست مڈل کلاس سے نہیں ہے سب ایلیٹ ہیں 🥹 ۔“

شام کا وقت تھا۔ سورج تھک کر ڈھلنے کی تیاری میں تھا۔ فلک بیک وقت نارنجی اور زرد شعاعیں بکھیر رہا تھا۔ پرندے اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے اور ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔

ان سب مناظر کو پیچھے چھوڑ کر ہم ایلیٹ کلاس کے اس پُرتعیش گھر کی مصنوعی جھیل کی طرف آتے ہیں، جہاں حریم رؤف اور حمیرہ عزیز بیٹھی تھیں۔

حریم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی پلاسٹک کی بوتل حمیرہ کی طرف بڑھائی۔ حمیرہ نے مسکراتے ہوئے بوتل تھام لی اور ایک گھونٹ پیا۔

حریم گہری نظروں سے جھیل کو دیکھ رہی تھی۔

”تم جانتی ہو، یہ جھیل مجھے اپنی جیسی لگتی ہے۔“ حمیرہ نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا، ”خاموش، لیکن گہری۔ اس کے اندر بھی نہ جانے کتنے راز چھپے ہیں، بالکل میری طرح۔ میری موم کہتی ہیں کہ میں ان کی کلاس میں اَن فِٹ ہوں۔ مجھے ان جیسا ہونا چاہیے تھا۔ لیکن وہ یہ نہیں سوچتیں کہ فطرت نے ہم سب کو الگ بنایا ہے، اور اس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں۔“

حریم نے نظریں اس کی جانب موڑیں۔

”وہ اپنی جگہ ٹھیک ہیں۔ بڑے لوگوں کے مشاہدے بڑے ہوتے ہیں۔ تم یا میں ان جیسا نہیں سوچ سکتے۔“ حریم نے اس کا دھیان بٹانے کے لیے کہا۔

حالانکہ اسے خود اپنی بات پر حیرت ہوئی۔ اس کی امی، صبیحہ خانم، بھی اسے شروع سے روکتی ٹوکتی رہتی تھیں۔ کبھی کہتیں، ”یہ کرو، وہ نہ کرو۔ تم بہت سادہ ہو، تم دنیا کو کب سمجھو گی؟ دنیا بہت مکار ہے۔“

حریم ہمیشہ سوچتی تھی کہ ایلیٹ کلاس کی لڑکیاں خوش رہتی ہوں گی اور انہیں کسی روک ٹوک کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہوگا، لیکن حقیقت اس کے تصور سے مختلف تھی۔ وہاں بعض مائیں اپنی اولاد کو دلاسہ تک نہیں دیتی تھیں۔ فادرز ڈے اور مدرز ڈے پر بھی خاندان کے افراد کی اکٹھی تصویریں اکثر صرف سوشل میڈیا پر اسٹیٹس لگانے کے لیے بنائی جاتی تھیں۔

ملازمہ کی آواز نے حریم کو خیالوں کی دنیا سے واپس لا کھڑا کیا۔ دونوں نے لان کی طرف دیکھا، جہاں ملازمہ چائے کے لوازمات میز پر سجا رہی تھی۔ وہ اٹھیں اور لان میں رکھی کرسیوں پر بیٹھ گئیں۔

اسی وقت گھر کی خاموشی کو گاڑی کے ہارن نے توڑا۔ بڑا سا گیٹ کھلا اور ایک سرخ رنگ کی چمکتی ہوئی مرسڈیز اندر داخل ہوئی۔

گاڑی سے الماس کبیر باہر نکلیں۔ اندر جانے سے پہلے اچانک ان کی نظر لان میں بیٹھی اپنی بیٹی اور حریم پر پڑی تو انہوں نے اپنے قدم لان کی طرف موڑ لیے۔

”السلام علیکم، آنٹی!“ حریم اور حمیرہ احتراماً کھڑی ہو گئیں۔

”وعلیکم السلام! کیسی ہو، بیٹا؟ کتنے دن بعد نظر آئی ہو۔“

حریم نے حمیرہ کی طرف دیکھا اور پھر مسکراتے ہوئے دونوں دوبارہ بیٹھ گئیں۔

”آج کل ٹیسٹ ہو رہے ہیں، اس لیے زیادہ آنا نہیں ہو پاتا۔“ حریم نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے جھوٹ گھڑا۔ اب وہ کیا بتاتی کہ وہ ہر تیسرے دن ایک دوسرے کے گھر آتی تھیں، مگر الماس کبیر اپنی مصروفیات میں اس قدر مگن رہتی تھیں کہ انہیں اس بات کا علم ہی نہیں تھا۔

کافی دیر بعد حریم گھر جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کے جاتے ہی الماس کبیر کی مسکراہٹ حقارت میں بدل گئی۔

”آخر تمہاری دوسری دوستوں میں کیا کمی ہے؟ حدید بھائی کی بیٹی ربیعہ اور اقرا بھی تو ہیں۔ ان کی کوئی دوست مڈل کلاس سے نہیں ہے۔“

”ممی، وہ سب میرے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔ صرف حریم ہی میری بات سمجھتی ہے۔ آپ کی بھانجیاں اور بھتیجیاں تو دوسروں کو کیڑا سمجھتی ہیں۔“ حمیرہ نے بھی تیز آواز میں جواب دیا۔

”میں تمہیں بتا رہی ہوں، یہ غریب لوگ بہت لالچی ہوتے ہیں۔ کسی دن اپنا اصلی چہرہ دکھائیں گے، تب ہاتھ ملتی رہ جانا!“ الماس کبیر زہرخند لہجے میں کہتی ہوئی اندر چلی گئیں۔

حمیرہ کچھ دیر وہیں بیٹھی رہی، پھر اٹھی اور اپنے قدم جھیل کی طرف موڑ لیے۔

دوسری طرف حریم اندھیرا پھیلنے سے پہلے گھر لوٹ آئی۔ اس نے بیل بجائی اور گیٹ کھلنے کا انتظار کرنے لگی۔ کچھ ہی دیر بعد سیاہ گیٹ کھلا تو سامنے ربیلا پھوپھو کو دیکھ کر اس کے وجود میں انجانی سی خوشی پھیل گئی۔

”السلام علیکم، پھوپھو!“

سلام کرتے ہی وہ ان کے گلے لگ گئی۔ پھوپھو نے بھی اسے محبت سے اپنے ساتھ لگا لیا۔

”کیسی ہے میری گڑیا؟“

”میں ٹھیک ہوں۔ آپ کیسی ہیں؟ انکل، مومی اور مدثر کیسے ہیں؟“ اس نے ایک ہی سانس میں سب کا حال پوچھ لیا۔

”سب خیریت سے ہیں۔“

دونوں باہر تخت پر بیٹھ گئیں۔

”تم سناؤ، تمہاری دوست کیسی ہے؟“ ربیلا پھوپھو نے پوچھا۔

”حمیرہ ٹھیک ہے۔“

”لو جی، آ گئیں پروفیسر صاحبہ!“ صبیحہ رؤف کی غصیلی آواز برآمدے میں گونجی۔

حریم نے دھیمی آواز میں انہیں سلام کیا، لیکن جواب میں سلام کے بجائے سوال ملا۔

”میں نے تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے کہ وہ بڑے لوگ ہیں، ان سے میل جول نہ بڑھاؤ۔ لیکن پیار سے کہی ہوئی بات تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی؟“

”امی، حمیرہ بہت اچھی ہے۔ وہ کالج میں صفائی کرنے والے انکل کی بھی اتنی ہی عزت کرتی ہے جتنی میم کی۔“ حریم نے رندھی ہوئی آواز میں صفائی دی۔

”میں اس کے اخلاق نہیں پوچھ رہی! میں تمہیں تم دونوں کی دنیا میں زمین آسمان کا فرق سمجھا رہی ہوں۔“

یکایک رُبیلا پھوپھو نے ان کی بات کاٹ دی۔

”تم جاؤ، حریم! فریش ہو کر آؤ، پھر کھانا کھاتے ہیں۔“

حریم، جو پہلے ہی وہاں سے جانے کا موقع ڈھونڈ رہی تھی، فوراً اندر چلی گئی۔

اس کے جاتے ہی ربیلا پھوپھو نے صبیحہ بیگم کو سمجھایا۔

”بھابھی، آپ حریم کے ساتھ اتنا سخت رویہ نہ رکھیں، ورنہ وہ آپ سے دور ہو جائے گی۔“

”تمہارا مطلب ہے کہ میں اسے اس کے حال پر چھوڑ دوں؟ اسے اچھے برے کی تمیز بھی نہ سکھاؤں؟“ صبیحہ بیگم نے اکھڑے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔

”ارے بھابھی، میرا یہ مطلب نہیں۔ میں صرف اتنا کہہ رہی ہوں کہ بیٹیاں چوڑیوں جیسی ہوتی ہیں، نازک۔ آپ انہیں سختی سے کھینچیں گی تو وہ ٹوٹ جائیں گی، لیکن نرمی اور پیار سے سمجھائیں گی تو گرنے کے بعد بھی سنبھلنا سیکھ جائیں گی۔“

انہوں نے مزید کہا، ”آپ حریم سے یہ کہنے کے بجائے کہ ’تم پر نیلا رنگ اچھا نہیں لگتا‘، اگر یہ کہیں گی کہ ’تم پر سبز رنگ زیادہ اچھا لگتا ہے‘ تو اس کا دل بھی نہیں دکھے گا اور وہ خوشی سے آپ کی بات مان لے گی۔“

صبیحہ بیگم خاموش ہو گئیں۔ انہیں پہلی بار اپنے رویے پر دل کھول کر افسوس ہوا۔ انہوں نے سوچا کہ شاید وہ اپنی بیٹی کو دنیا کی سختیوں سے بچانے کی کوشش میں خود ہی اس کے لیے سختی کا باعث بن رہی تھیں۔

اگلی صبح واصف عزیز کے گھر میں معمول سے زیادہ چہل پہل تھی۔ آج پندرہ اکتوبر کو ان کی اکلوتی بیٹی حمیرہ کی سالگرہ تھی۔ ہال کو سجایا جا رہا تھا اور ہر ملازم اپنے ذمے کا کام پوری محنت سے انجام دے رہا تھا۔

عزیز پیلس کے ہال میں پہنچ کر حریم سجاوٹ دیکھ رہی تھی کہ حمیرہ نے پیچھے سے آ کر اسے اپنے حصار میں لے لیا۔

”تم آ گئیں! میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی۔“

حریم مسکرا دی۔ اس نے وہی گلابی فراک پہن رکھی تھی جو صبیحہ بیگم نے اسے پیار سے دی تھی۔

پارٹی اپنے عروج پر تھی۔ رنگ و بو کا سیلاب ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ ہال کے عین درمیان چھت سے جڑا ایک بڑا سا فانوس جھلملا رہا تھا۔ مہمانوں کا ہجوم، تیز موسیقی اور کیمروں کی چمک نے ماحول کو مزید پُررونق بنا دیا تھا۔

عین اسی وقت فانوس سے کانچ کا ایک نوکیلا ٹکڑا چٹخ کر الگ ہوا۔

وہ سیدھا حمیرہ کے اوپر گرنے والا تھا۔ حمیرہ بالکل اس کے نیچے کھڑی تھی اور اسے اس خطرے کی خبر تک نہ تھی۔

ہال میں ایک چیخ گونجی، لیکن کوئی آگے نہ بڑھا۔ حدید بھائی کی بیٹی ربیعہ، اقرا اور الماس کبیر کی دوسری بھانجیاں اور بھتیجیاں سہم کر وہیں کھڑی رہ گئیں۔

ایک لمحے میں حریم بجلی کی سی تیزی سے آگے بڑھی۔ اس نے پوری قوت سے حمیرہ کو دوسری طرف کھینچ لیا۔

کانچ کا ٹکڑا حمیرہ کو چھو بھی نہ سکا، لیکن حریم کے ہاتھ پر جا لگا۔ اس کی گلابی فراک پر خون کا دھبہ پھیلنے لگا۔

”حریم!“ حمیرہ نے گھبرا کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔

پورے ہال پر سناٹا چھا گیا۔ الماس کبیر دوڑتی ہوئی آئیں۔ ان کی نظریں اپنی سہمی ہوئی بیٹی سے ہوتی ہوئی حریم کے زخمی ہاتھ پر ٹھہر گئیں۔

انہیں یاد آیا کہ کل ہی تو انہوں نے کہا تھا، ”یہ غریب لوگ لالچی ہوتے ہیں، اپنا اصلی چہرہ دکھائیں گے۔“

آج اصلی چہرہ سامنے تھا۔ ان کی اپنی کلاس کی لڑکیاں تماشا دیکھتی رہ گئی تھیں، جبکہ جس مڈل کلاس لڑکی کو وہ لالچی سمجھتی تھیں، اسی نے اپنی پروا کیے بغیر ان کی بیٹی کو بچا لیا تھا۔

الماس کبیر کی آنکھوں میں پہلی بار حریم کے لیے آنسو آئے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اس کا زخمی ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔

”بیٹا، آپ ٹھیک ہیں؟“ انہوں نے نم لہجے میں پوچھا۔

حریم مسکرا کر بولی، ”میں بالکل ٹھیک ہوں، آنٹی! دیکھیں، میری چوڑیاں نہیں ٹوٹیں۔“

الماس کبیر کو بے اختیار اس پر پیار آیا۔ انہوں نے مہمانوں سے معذرت کی اور حریم کو ابتدائی طبی امداد دینے کے لیے کمرے میں لے گئیں۔

صبیحہ رؤف، جو ابھی ہال میں داخل ہوئی تھیں، یہ منظر دیکھ کر وہیں رک گئیں۔ اپنی بیٹی کے زخمی ہاتھ اور اس کے چہرے پر موجود اطمینان کو دیکھ کر ان کا دل بھر آیا۔ انہیں اپنی بیٹی پر فخر محسوس ہوا۔
مہمانوں کے درمیان گھری حمیرہ نے بمشکل خود کو کمپوز کیا۔آخر کار اسکی دوست کی قدر و قیمت اسکی ممی کو معلوم ہو چکی تھی۔شام تک مہمان جا چکے تھے۔
دن شام میں تبدیل ہو گیا تھا پرندے خاموش ہو گئے تھے چارسو گہرا سناٹا تھا۔
جھیل آج بھی گہری اور خاموش تھی جیسے اپنے اندر بے شمار کہانیاں سمیٹے ہوۓ ہو آج یہاں دو سہیلیوں کے ساتھ انکی مائیں بھی موجود تھیں۔

کافی دیر بعد الماس کبیر کی دھیمی آواز نے بھاری خاموشی کو توڑا۔

”بیٹا، آج تم نے مجھے سکھا دیا کہ انسان کی قدر و قیمت اس کے لباس اور دولت سے نہیں، بلکہ اس کے کردار سے ہوتی ہے۔“

حریم اپنی ازلی دھیمی آواز میں مسکرا کر بولی، ”آنٹی، امیری اور غریبی تو صرف انسانوں کے حالات کا فرق ہے، لیکن اچھا دل اور احساس سب کو برابر کر دیتے ہیں۔“

حریم رؤف کے جواب پر جہاں حمیرہ عزیز اور صبیحہ رؤف کو فخر ہوا تھا، وہیں الماس کبیر کے دل میں بھی اس کا مقام بلند ہو گیا تھا۔

صبیحہ بیگم کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ انہیں اپنی نند کی نصیحت یاد آ گئی کہ بچوں کو سختی سے نہیں، محبت سے سمجھانا چاہیے۔ آج ان کی بیٹی نے اپنے عمل سے وہ سبق سکھا دیا تھا جسے وہ خود سمجھنے میں دیر کر گئی تھیں۔جھیل کے کنارے بیٹھی سہیلیاں مطمئن تھیں۔ آج وہ ماؤں کے ساتھ بیٹھیں مسرور تھیں۔

ختم شد