ابرار احمد کا یومِ وفات
29 اکتوبر 2021
نام ور شاعر اور معالج ڈاکٹر ابرار احمد جمعہ کے روز ( 29 اکتوبر 2021) لاہور ر میں انتقال کر گئے ۔ ان کی عمر 67 برس تھی اور وہ کینسر کا شکار تھے ۔
ڈاکٹر ابرار احمد چھے فروری 1954 کو جڑانوالہ میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم الاصلاح ہائی سکول چنیوٹ سے حاصل کی ۔ اس کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم رہے ۔ ایف ایس سی کے بعد ابرار احمد نے نشتر میڈیکل کالج ملتان میں داخلہ لیا اور ایم بی بی ایس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی ۔ ڈاکٹر ابرار احمد ای این ٹی سپیشلسٹ تھے ۔ وہ 1993 میں اعلی تعلیم کے لیے سنگا پور گئے اور نیشنل یونیورسٹی سنگا پور سے ڈگری حاصل کی ۔ ابرار احمد نظم گو شاعر تھے ۔ ان کی نظموں کے مجموعے ” آخری دن سے پہلے “( 1993 ) اور ” غفلت کے برابر“ ( 2007 ) شائع ہوئے ۔
ابرار احمد کے اشعار
——-
ہر ایک آنکھ میں ہوتی ہے منتظر کوئی آنکھ
ہر ایک دل میں کہیں کچھ جگہ نکلتی ہے
….
یاد بھی تیری مٹ گئی دل سے
اور کیا رہ گیا ہے ہونے کو
….
کہیں کوئی چراغ جلتا ہے
کچھ نہ کچھ روشنی رہے گی ابھی
….
بھر لائے ہیں ہم آنکھ میں رکھنے کو مقابل
اک خواب تمنا تری غفلت کے برابر
….
قصے سے ترے میری کہانی سے زیادہ
پانی میں ہے کیا اور بھی پانی سے زیادہ
…
ہم یقیناً یہاں نہیں ہوں گے
غالباً زندگی رہے گی ابھی
….
میں ٹھہرتا گیا رفتہ رفتہ
اور یہ دل اپنی روانی میں رہا
…
جس کام میں ہم نے ہاتھ ڈالا
وہ کام محال ہو گیا ہے
….
تو کہیں بیٹھ اور حکم چلا
ہم جو ہیں تیرا بوجھ ڈھونے کو
….
گو فراموشی کی تکمیل ہوا چاہتی ہے
پھر بھی کہہ دو کہ ہمیں یاد وہ آیا نہ کرے
….
ڈھنگ کے ایک ٹھکانے کے لیے
گھر کا گھر نقل مکانی میں رہا
….
فراق و وصل سے ہٹ کر کوئی رشتہ ہمارا ہے
کہ اس کو چھوڑ پاتا ہوں نہ اس کو تھام رکھتا ہوں
….
جو بھی یکجا ہے بکھرتا نظر آتا ہے مجھے
جانے یوں ہے بھی کہ ایسا نظر آتا ہے مجھے
….
گنجائش افسوس نکل آتی ہے ہر روز
مصروف نہیں رہتا ہوں فرصت کے برابر
….
مرکز جاں تو وہی تو ہے مگر تیرے سوا
لوگ ہیں اور بھی اس یاد پرانی میں کہیں
…..
یوں ہی نمٹا دیا ہے جس کو تو نے
وہ قصہ مختصر ایسا نہیں تھا
….
کبھی تو ایسا ہے جیسے کہیں پہ کچھ بھی نہیں
کبھی یہ لگتا ہے جیسے یہاں وہاں کوئی ہے
…..
یہ داغ عشق جو مٹتا بھی ہے چمکتا بھی ہے
یہ زخم ہے کہ نشاں ہے مجھے نہیں معلوم
…
ہر رخ ہے کہیں اپنے خد و خال سے باہر
ہر لفظ ہے کچھ اپنے معانی سے زیادہ
….
یہ اونٹ اور کسی کے ہیں دشت میرا ہے
سوار میرے نہیں سارباں نہیں میرا
….
یہ یقیں یہ گماں ہی ممکن ہے
تجھ سے ملنا یہاں ہی ممکن ہے
——————–
