( القبسات فی بیان مصادیق مقصود الکائنات )
مقصودِ کائنات کے بیانِ مدلول میں روشن علامتیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرحوم بیدمٓ وارثی کا شعر ہے
بیدم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات
خیرالنساء حسین و حسن مصطفےٰ علی
ایک عرصے سے یہ شعر علمی و ادبی حلقوں میں زیرِ بحث چلا آ رہا ہے ۔ ہر بندہ اپنے علم و فکر کے اعتبار سے اس پر اپنی راۓ اور حکمِ شرعی و شعری کا اظہار کر رہا ہے ۔ بعض متشدد حضرات اس شعر کی وجہ سے بیدمٓ کی طرف نسبتِ رفضِ محض کرنے میں بہت جری نظر آتے ہیں اور بعض اپنے دلوں میں احترامِ مسلم رکھنے والے صوفیاء مرادِ صحیح کا علم نہ ہونے کی وجہ سے سکوت کی چادر میں لپٹے ہوۓ ہیں
حوادثاتِ زمانہ کی شورشوں نے ایک عرصہ تک اس شعر کی طرف توجہ نہیں ہونے دی لیکن مشیّتِ ایزدی کے قلم نے جو جہاں وقت مقرر کر دیا ہو تو وہاں فکر و توجہ کی جنبشیں کہاں دم مار سکتی ہیں !
آج جب کہ عالمِ امر کے لکھے کا عالمِ خلق میں وقتِ ظہور آن پہنچا تو ترجیحات میں لاکھ تساہل برتنے والے وجود کے اندر تحرّک و شوق اور فکر و توجہ کے توفیقی اسرار آئینۂ روح میں چمکنے لگے اور بلا تاخیر و توقّف بیدمٓ کے شعر کی گرہوں کو کھولنے کے لیے خانۂ تنہائی میں آپہنچا ۔ اب اس جلوت کدۂ فکر میں ایک میں ہوں اور ایک روحِ بیدمٓ
آئیے :
سب سے پہلے شعرِ بیدمٓ کی صورتِ بلاغی کی زیارت کو چلتے ہیں ۔ بیدمٓ کا یہ شعر اس صورت میں تنویعِ اوصاف سے مزیّن ہے ۔ یہاں صرف چند اجرامِ فلکِ بلاغی کا ذکر کیا جاتا ہے تاکہ شعر کی سطحِ تحتی کی ضیاپاشیوں کا ایک نظارہ کیا جاۓ
صنعتِ تہذیب :
متکلم کا اپنے کلام کو اِس قدر مہذّب و منقّح کرنا کہ طبعِ سامع و مخاطب کے لیے تحصیلِ حِظ کے ساتھ ساتھ استحضارِ معنی و انتقاشِ مفہوم میں آسانی ہو ۔ بیدمٓ کا یہ شعر اس تعریف پر سوفیصد صادق آتا ہے
صنعتِ اِنسجام :
متکلم اپنے کلام کو مرغوب الطبع الفاظ و کلمات ‘ ہموار بندش و تراکیب کے ساتھ اور تصنّع و تکلّف سے ایسا خالی کرے کہ کسی بھی قسم کی تعقید ظاہر نہ ہو اور کلام ایسے ماءِ جاری کی طرح ہو جاۓ جو سطحِ مرتفع سے نشیب کی طرف بڑی متوازن روانی کی ساتھ بہتا ہے ۔ اگر آپ بیدمٓ کے اس شعر کو نظرِ انصاف سے دیکھیں تو آپ کے لیے یہ وصف تسلیم کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہو سکتی
صنعتِ جمع :
متکلم اپنے کلام میں دو یا دو سے زیادہ مختلف چیزوں کو ایک حکم میں اکٹھا کردے ۔ جیسے قرآن میں اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
” اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ ”
تفہیم :
یہاں خمر و میسر اور انصاب و ازلام کو ایک ہی حکم میں جمع کیا گیا ہے کہ یہ سب شیطانی کام ہیں ‘ اسی اصول کے تحت شعرِ بیدم میں وجوداتِ خمسہ کو ایک ہی حکم میں جمع کیا گیا ہے اور وہ ہے ان کا مقصودِ کائنات ہونا
صنعتِ فرائد :
متکلم کلام میں ایسا لفظ و ترکیبِ فصیح ذکر کرے جو متکلم کی غایتِ فصاحت و قادرالکلامی پر برہان ہو ‘ اگر اس لفظ یا اس ترکیب کو کلام سے خارج کردیا جاۓ تو کلام خالی از فصاحت ہو اور کلام کی گرمی جاتی رہے جیسا کہ قرآن میں اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖؕ-قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍؕ-قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْــٴٰـنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ٘
” بادشاہ نے کہا اے عورتو! تمہارا کیا حال تھا جب تم نے یوسف کا دل لبھانا چاہا ؟ انہوں نے کہا سبحان اللہ ! ہم نے ان میں کوئی برائی نہیں پائی ‘ عزیز کی عورت نے کہا
اب اصل بات کھل گئی ”
تفہیم :
حَصْحَصَ کے معنی حق و باطل کا پوشیدگی کے بعد حصہ حصہ ممتاز ہوکر اس طرح ظاہر ہو جانا کہ حق اچھی طرح واضح ہوکر اس طرح سامنے آ جاۓ کہ اس کا انکار نہ کیا جا سکے ۔ اگر یہاں سے حَصْحَصَ کو ہٹا دیا جاۓ تو کلامِ الٰہی لفظی فصاحت سے خالی ہو جاۓ ۔ اس اصولِ بدیعی کے تحت شعرِ بیدمٓ پر ہلکا سا بھی غور کریں تو یہ بات کھل جاتی ہے کہ ( مقصودِ کائنات ) شعرِ بیدم میں ایک ایسی ترکیب ہے کہ اگر اسے ہٹا دیا جاۓ تو شعر کی ساری گرمی جاتی رہے اور فصاحتِ شعر شہرِ خموشانِ عدم کو اپنا مسکن بنا لے
کمالِ اتصال :
دو جملوں کے درمیان کمالِ اتصال چار طرح کا پایا جاتا ہے جن میں سے ایک طریقہ علامہ تفتازانی نے مختصر میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ
او لکون الجملۃ الثانیۃ بدلا منہا ای من الاولی لانہا ای الاولے غیر وافیۃ بتمام المراد ۔۔۔۔۔۔الخ
” یعنی بعض اوقات جملۂ اوّل اپنے اندر کسی کمی یا پوشیدگی کی وجہ سے بیانِ مراد کے لیے ناکافی ہوتا ہے تو دوسرا جملہ بطورِ بدل کے لایا جاتا ہے تاکہ مراد کا تمام و کمال و انکشاف واضح ہو جاۓ ”
بلغاء لکھتے ہیں کہ جملۂ ثانی کو بطورِ بدل لانے میں ایک نکتہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ مراد فی نفسہ مطلوب ہوتی ہے یا لطیف و مستحسن ہوتی ہے
مثالِ کمالِ اتصال :
کمالِ اتصال کی ایک مثال دیکھیے
قنعنا بالاسودین ” قنعنا بالتمر والماء
” ہم نے اسودین پر قناعت کی ہم نے کھجور اور پانی پر قناعت کی ”
یہاں جملۂ اوّل پورے طور پر مراد کو ادا نہیں کر پا رہا تھا کیونکہ بے شمار ایسی چیزیں ہیں جو اسود کے حکم میں آتیں ہیں تو مخاطب کا ذہن تعیین و نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتا تھا کہ متکلم نے اسودین سے کیا مراد لی ہے لہذا جملۂ ثانی میں تمر اور ماء کہہ کر جملۂ اوّل کی پوشیدگی کو دور کر دیا گیا ‘ جب ہم کمالِ اتصال کی اس صورت کو دیکھتے ہیں تو یہ شعرِ بیدمٓ میں پورے شباب و جمال کے ساتھ نظر آتی ہے ‘ مصرعِ اوّل میں فقط پانچ کے مقصودِ کائنات ہونے کو بیان کیا گیا تھا لیکن پوشیدگی یہ تھی کہ وہ پانچ افراد ہیں کون ؟
1 : کیا وہ پانچوں نبی ہیں ؟
2 : کیا وہ پانچوں غیرِ نبی ہیں ؟
3 : کیا ان پانچوں میں کچھ نبی اور کچھ غیرِ نبی ہیں ؟
4 : کیا ان پانچوں میں چار نبی اور ایک غیرِ نبی ہے ؟
5 : کیا ان پانچوں میں ایک نبی اور چار غیرِ نبی ہیں ؟
یہ پانچ احتمالات پانچ کے عدد کو مبہم طور پر بیان کرنے سے پیدا ہوۓ تھے لیکن مصرعِ ثانی میں پانچ کے اسی مبہم عدد کی وضاحت ہوگئی کہ ان میں ایک نبی اور چار غیرِ نبی ہیں جن کے نام ہیں (1) مصطفےٰ (2) خیرالنساء(3) علی (4) حسن (5) حسین
فصل :
فصل کہتے ہیں عطف نہ کرنے کو اور یہ فصل کلام میں پانچ جگہوں پر کیا جاتا ہے جن میں سے ایک جگہ یہ ہے کہ دوسرے جملے کا پہلے جملے سے پیدا ہونے والے کسی سوال کا جواب بننے کی وجہ سے ان دونوں میں اس قدر گہرا ربط پیدا ہوگیا ہو کہ گویا وہ ایک جملے کی طرح ہوگئے ہوں ‘ یہی رابطۂ قویہ عطف کے لیے مانع ہے ۔ شعرِ عرب سے اس کی ایک مثال دیکھیے
زعم العواذل اننی فی غمرۃ
صدقوا ولکن عمرتی لاتنجلی
” ملامت کرنے والے لوگوں کی جماعت کا یہ خیال ہے کہ میں پریشان ہوں ‘ ان کا خیال درست ہے ‘ البتہ میری پریشانی کچھ ایسی ہے کہ وہ دور ہونے والی نہیں ”
تفہیم :
ظاہر ہے کہ شاعر جب اپنے چاہنے والوں کا یہ خیال بتا کر خاموش ہوا کہ مجھے کوئی سخت پریشانی لاحق ہوئی ہے تو اب سننے والوں کے دل میں ایک سوال پیدا ہوا کہ اچھا بھئی ‘ اب تم بتاؤ کہ ان کا یہ خیال سچا ہے یا نہیں ؟
اسی کا جواب دینے کے لیے دوسرا جملہ صدقوا لایا گیا کہ ہاں ! ان کا خیال درست ہے ‘ جب ان دونوں جملوں میں سےایک سوال اور دوسرا اس کا جواب بن رہا ہو تو ان کے مابین گہرا ربط ہونے کی وجہ سے گویا وہ کلام واحد ہوگیا اور کلامِ واحد کے دوران واؤ لا کر وصل کرنا خلافِ اصل ہے ۔ ایسے دو جملوں کے بارے میں کہا جاۓ گا کہ ان کے مابین شبہِ کمالِ اتصال ہے ۔ یہی حال شعرِ بیدم کا ہے کہ جب اوّل جملہ کہا
بیدمٓ یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات
تو سوال کرنے والوں نے پانچ کی عدمِ تعیین کی وجہ سے سوال کیا کہ کون پانچ ؟ تو اسی کا جواب دینے کے لیے کہا
خیرالنساء حسین و حسن مصطفےٰ علی
ان دونوں جملوں میں سوال و جواب ہونے کی وجہ سے ایسا گہرا ربط پیدا ہو گیا کہ گویا یہ ایک ہی کلام ہوگئے ‘ لہذا اسی شبہِ کمالِ اتصال کی وجہ سے دونوں میں حرفِ عطف کے ذریعے فصل نہیں کیا گیا
شعرِ بیدم کا درجہ :
بدائع الافکار فی صنائع الاشعار میں باعتبارِ درجات و مراتب شعر کی اقسام ذکر کی گئیں ہیں جن کے تحت شعرِ بیدمٓ پر درجہ بہ درجہ حکم کا ترتب ملاحظہ کریں
1 : مطبوع
شعرِ بیدم پسندیدہ وزن میں تخلیق ہوا ہے ۔ ایسے شعر کو مطبوع کہتے ہیں
2 : ملائم
شعرِ بیدم کے الفاظ آسان ‘ شیریں اور دل پسند ہیں ۔ ایسے شعر کو ملائم کہتے ہیں
3 : سہلِ ممتنع
شعرِ بیدم کی مثال بنانا انتہائی دشوار ہے اگرچہ بظاہر یہ شعر بہت سہل معلوم ہوتا ہے ۔ ایسے شعر کو سہلِ ممتنع کہتے ہیں
4 : محزول
شعرِ بیدم میں عمدہ اور زور دار الفاظ ‘ مضبوط نشست ‘ معانی عالی اور متین اور بندش چست ہے ۔ ایسے شعر کو محزول کہتے ہیں
5 : مرتجل
شعرِ بیدم فی البدیہہ کہے ہوۓ شعر کی مثل ہے جیسا کہ اس کی سلاست اس پر گواہ ہے ۔ ایسے شعر کو مرتجل کہتے ہیں
6 : متنوع
شعرِ بیدم میں متعدد صناعاتِ بدیعیہ ہیں ‘ ایسے شعر کو متنوع کہتے ہیں
7 : تفویف
شعرِ بیدم استعاراتِ بعیدہ ‘ مجازاتِ شاذہ ‘ تشبیہاتِ کاذبہ ‘ تجنیساتِ مکروہہ اور الفاظِ متروکہ سے یکسر خالی ہے ‘ ایسے شعر پر حکمِ تفویف عائد ہوتا ہے
ان احکام و مراتب کے موجود فی الشعر ہونے سے شعرِ بیدم کے مرتبۂ بلاغی سے مکمل آگاہی ہو جاتی ہے ‘ اب شعرِ بیدم پر مختصر سے کلامِ بلاغی لفظی کے بعد چلتے ہیں شعر کی کنہ و ماہیتِ مضمون کی طرف
یاد رہے کہ اس پورے شعر میں فقط ایک ترکیب ایسی ہے جس نے شعر کو تقیّدات سے نکال کر تعینّاتِ مطلقہ کی وسعتوں میں رکھ دیا ہے ‘ اور وہ ترکیب ہے (مقصودِ کائنات) لیکن اس سے بھی پہلے ایک اور چیز کو سمجھنا ازحد ضروری ہے جس کی وجہ سے اس شعر پر عقیدۂ رفض کی تبعیّت کا حکم لگایا جاتا ہے اور وہ ہے اس میں کلمۂ حصر ( یہی) لیکن اس کو سمجھنے کے لیے قصر کو سمجھنا ہوگا
قصر کیا ہے ؟ :
علامہ تفتازانی مختصر میں قصر کی تعریف ذکر کرتے ہیں
القصر فی اللغۃ الحبس وفی الاصطلاح تخصیص شئی بشئی بطریق مخصوص
” لغتِ (عرب) میں قصر کا معنی ہے روکنا اور اصلاحِ (بلغا) میں ایک شے کو دوسری شے کے ساتھ مخصوص طریقے کے ساتھ خاص کرنا ہے ”
حقیقتِ حال و صورتِ واقعیہ کے لحاظ و اعتبار سے یا پھر کسی دوسری شے کی طرف نسبت و اضافت کے لحاظ و اعتبار سے قصر دو قسموں کی طرف منقسم ہوتا ہے
1 : قصرِ حقیقی
2 : قصرِ اضافی
اوّل میں ایک شے کو دوسری شے کے ساتھ حقیقتِ حال و صورتِ واقعیہ کے لحاظ و اعتبار سے خاص کیا جاتا ہے جیسا کہ کسی شہر میں سواۓ علی کے کوئی دوسرا انشاءپرداز نہ ہو اور حقیقتِ حال و صورتِ واقعیہ بھی ایسی ہی ہو محض کسی گمان و وہم کا نتیجہ نہ ہو تو اس وقت کہا جاۓ گا
لا کاتب فی المدینۃ الا علی
” شہر میں انشاءپرداز صرف علی ہی ہے”
اس مثال میں صفتِ کتابت کو صرف اور صرف علی کے لیے ہی ثابت کیا گیا ہے ‘ اس کے علاوہ شہر کے جملہ افراد زید بکر خالد وغیرہ ہر ہر فرد سے نفی کی گئی ہے یہی صورت وصفِ خاتم النبیین میں بھی ہے کیونکہ یہ بات علمِ الہی میں تھی کہ وقت آۓ گا حضور علیہ السلام کے بعد لوگ کسی اور کو اس وصف سے متصف جانیں گے یا تقدمِ زمانی و مکانی کی بحثوں سے جہالت و شقاوت کے سبب امکانِ تجاوز کی راہ نکالیں گے تو اللہ سبحانہ نے اس وصف کو حضور علیہ السلام کے ساتھ خاص کردیا کہ اب یہ وصف کسی بھی صورتِ امکانیہ و انتزاعیہ میں آگے متجاوز نہیں ہوسکتا ‘ شعرِ بیدم میں اگر اعتبار مبدء و غایتِ تخلیقِ کائنات کا کیا جاۓ تو اس قید کی نسبت فقط حضور علیہ السلام کی ذات کی طرف ہی ہوگی کیونکہ صورتِ حال و حقیقتِ واقعیہ یہاں ایسی ہی ہے
حضرت شیخ عبدالکریم جیلی علیہ الرحمہ الکمالات الالھیہ فی الصفات المحمدیہ میں لکھتے ہیں
فالعالم مظہر تجلیات الصفات والحبیب علیہ السلام مظہر تجلیات الذات وکما ان الصفات فرع عن الذات کذالک العالم فرع عن الحبیب فھو صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واسطۃ بین اللہ و بین العالم
” عالم تجلیاتِ صفات کا مظہر ہے اور حبیبِ کریم علیہ الصلواۃ والتسلیم تجلیاتِ ذات کا مظہر ہیں اور جیسے صفات ذات کی فرع ہیں ایسے ہی تمام عالم حضور علیہ السلام کی فرع ہے ‘ حضور اللہ سبحانہ اور عالم کے درمیان واسطہ ہیں”
نقد النصوص فی شرح فصوص میں ملّا عبدالرحمن جامی لکھتے ہیں
اصلِ منشاء و معاد و مبدءِ جملہ خلائق حضرت حقیقۃ الحقائق است
” سب خلائق کی اصل و منشاء اور معاد و مبدء حضرتِ حقیقۃ الحقائق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ”
پھر آپ دو شعر اسی موضوع کے تخلیق و تحریر فرماتے ہیں
نورِ او چوں اصلِ موجودات بود
ذاتِ او چوں معطئ ہر ذات بود
واجب آمد دعوتِ ہر دو جہانش
دعوتِ ذرّاتِ پیدا او نہانش
” آپ علیہ السلام کا نور چونکہ موجودت کی اصل تھا اور آپ علیہ السلام کی ذات ہر ذات کو عطا کرنے والی تھی اس لیے آپ پر دونوں جہانوں اور ظاہر و باطنِ ذرّاتِ عالم کی دعوت واجب ہوئی ”
پھر اسی مضمون کو بڑھاتے ہوۓ لکھتے ہیں
لان الحقیقۃ المحمدیۃ ھی صورۃ اسم الجامع الالہی التی ترب صور العالم کلھا بالرب لظاہر فیھا الذی ھو رب الارباب فلا بدلھا من الاتصاف بصفات الالہیۃ کلھا من العلم الشامل والقدرۃ الکاملۃ وغیرھما لیتصرف بھا اعیان العالم علی حسب استعداداتھا
” حقیقتِ حقیقۃ الحقائق علیہ السلام صورتِ اسمِ جامع الہی ہے جو کہ جملہ صورِ عالم کی اس رب کے ساتھ پرورش کرتی ہے جو اس میں ظاہر ہے اور وہ رب الارباب ہے
پس حقیقتِ حقیقۃ الحقائق کے لیے ضروری ہے کہ تمام صفاتِ الہی مثلاً علمِ شاملہ و قدرتِ کاملہ سے موصوف ہو تاکہ ان کے ساتھ اعیانِ عالم پر ان کی استعدادات کے مطابق تصرف کرے ”
آخر میں لکھتے ہیں
انہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم بربوبیۃ المذکورۃ اعطی کل ذی حق حقہ وفاض علیہ جمیع ما احتاج الیہ واستحقہ
"بے شک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ربوبیّتِ مذکورہ کے ساتھ ہر حقدار کو اس کا حق عطا کرتے ہیں اور جس چیز کی طرف وہ محتاج ہو اور جس شے کا مستحق ہو وہ سب اس کو پہنچاتے ہیں ”
ثانی میں ایک شے کو دوسری شے کے ساتھ کسی معین شے کی طرف نسبت و اضافت کے لحاظ و اعتبار سے خاص کیا جاتا ہے ‘ جیسے اگر ایک متکلم کا مخاطب ” علی” کے بارے میں اس بات کا اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ بیٹھا ہوا ہے مگر متکلم اپنے مخاطب کے اعتقاد کی تردید کرنا چاہتا ہے اور علی کے لیے صفتِ قیام کا اثبات چاہتا ہے تو وہ یوں کہے گا
ما علی الا قائم
” علی تو کھڑا ہی ہے”
دیکھیے اس جملے کے ذریعے متکلم "علی” کے لیے صفتِ قیام کو خاص تو کر رہا ہے لیکن اس کی دیگر صفات کی تردید نہیں کر رہا یعنی متکلم نے صرف صفتِ قعود کی ہی نفی کی ہے نہ کہ اس کی شجاعت و امارت ‘ جرات و صداقت ‘ علم و حکمت اور مراتب و ولایت کی نفی کی ہے ‘ اس نے تو قیام کا اثبات چاہا ہے ‘ بس !
شعرِ بیدم میں قصر کی یہ صورت اس طرح متحقق ہوتی ہے کہ اگر مخاطب مقصودِ کائنات ہونے میں افرادِ اہلِ کساء کے لیے مبدء و غایت اور اقتضاۓ اظہارِ ربوبیت کا اعتقاد رکھے تو وہاں ان کی نفی اور مقصودِ کائنات کے اعتباراتِ اضافیہ کا اثبات مطلوب ہوگا ‘ اعتباراتِ اصافیہ کی تقسیم کرتے ہوۓ حضرت شیخ عبدالکریم جیلی الناموس الاعظم والقاموس الاقدم فی معرفتہ قدرالنبی میں لکھتے ہیں
فالفقھاء ورثۃ اقوالہ والعباد ورثۃ احوالہ الظاہرۃ والمریدون ورثۃ افعالہ القلبیۃ الباطنۃ والعارفون ورثۃ اخلاقہ الروحانیۃ والکمل المحققون ورثۃ شوؤنہ الالہیۃ واسرارہ الصمدانیۃ
” فقہا حضور کے اقوال ‘ عابدین احوالِ ظاہری ‘ مریدین افعالِ قلبی باطنی ‘ عارفین اخلاقِ روحانی و اوصافِ رحمانی اور کاملین و محققین شؤونِ الہی و اسرارِ صمدانی کے وارث ہیں ”
شیخِ کریم کی اس عبارت میں جن جزئیاتِ اعتبارات کو تقسیم در تقسیم کیا گیا ہے یہ سب اعتبارات حضور کے اہلِ بیت میں بواسطۂ ذاتِ محمدی علیہ السلام قائم ہیں اور اہلِ بیت حضور کے جملہ اقوال و افعال کی وراثت کے جامع اور ان اعتبارات کی تحصیل میں امت کے مقصود بالتبع ہیں
طرقِ مخصوص :
تعریفِ قصر میں یہ جو کہا گیا ہے کہ مقصور علیہ کو مقصور کے ساتھ یا مقصور کو مقصور علیہ کے ساتھ (مخصوص طریقے ) سے خاص کرنا تو یہاں مخصوص طریقے سے وہ چند طریقے مراد ہیں جنہیں بلغاء نے ذکر کیا ہے ۔ ذیل میں دیکھیے
1 : عطف
2 : نفی و استثناء
3 : تقدیم و تاخیر
4 : کلمۂ ہی
5 : تکرارِ مسندالیہ
6 : چند اشیاء کی نفی کے ساتھ کسی شے کو ثابت کرنا
7 : بعض الفاظ سے
یہاں مرتبۂ رابع میں آنے والا کلمۂ حصر ” ہی ” متعلقِ گفتگو ہے جو شعرِ بیدم میں ” یہی ” کی صورت میں ظاہر ہوا ہے ‘ میر ببر علی انیس کے دو اشعار دیکھیے
صورت یہی شوکت یہی اجلال یہی ہے
ثروت یہی حشمت یہی اقبال یہی ہے
سرمایہ یہی نقد یہی مال یہی ہے
گوہر یہی یاقوت یہی لال یہی ہے
سوال :
مقصودِ کائنات تو فقط حضور کی ہی ذات ہے تو پھر اہلِ کساء رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس میں کیوں شامل کیا گیا ؟
جواب :
اس کا جواب ماقبل ذکر کی گئیں اقسام قصر ‘ قصرِ حقیقی و قصرِ اضافی میں اختصار کے ساتھ دیا جا چکا ہے لیکن عدمِ رفعِ تشنگی کی وجہ سے مزید تفصیل کی طرف جاتے ہیں ۔ تو پھر یہاں مزید دو چیزیں اور ذہن نشین کرلیں
1 : قصرِ صفت علی الموصوف
2 : قصرِ موصوف علی الصفت
ہمارا مقصود یہاں قسمِ ثانی ہے کیونکہ شعرِ بیدم میں یہی پایا گیا ہے ‘ اس بارے میں علامہ تفتازانی لکھتے ہیں
وھو ان لایتجاوز الموصوف من تلک الصفۃ الی صفۃ اخری لکن یجوز ان تکون تلک الصفۃ لموصوف آخر
” قصرِ موصوف علی الصفت یہ ہے کہ موصوف اِس صفت سے دوسری صفت کی طرف متجاوز نہ ہو لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ یہ صفت دوسرے موصوف کے لیے بھی ہو ”
نوٹ :
علامہ تفتازانی نے جو فرمایا کہ لایتجاوز الموصوف من تلک الصفۃ الی صفۃ اخری’ کہ موصوف اس صفت سے دوسری صفت کی طرف متجاوز نہ ہو تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ موصوف سے اس ایک صفت کے علاوہ جمیع صفات پر تنکیر کی جاۓ بلکہ اس سے مراد ہے کہ بیک وقت موصوف اس صفت کی مخالف صفت سے بھی متصف نہ ہو ۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے
وَمَامُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌۚ
"اور محمد ایک رسول ہی ہیں”
یہاں حضور علیہ السلام کی ذات کا ایک وصف(رسول ہونا) ذکر کیا گیا ہے ۔ اب یہاں اس وصف کا مخالف وصف ہے (حی لا یموت ) گویا حضور علیہ السلام صفتِ رسالت سے اس کی مخالف صفت حی لایموت کی طرف تجاوز نہیں کر سکتے نہیں تو قدیم و حادث میں شرکت کا التباس ہوگا جو کفر ہے ‘ اب جو شعرِ بیدم میں مقصودِ کائنات ہونے کی نسبت وجوداتِ خمسہ کی طرف کی گئی ہے تو بعض احباب نے کہا کہ اس صفت سے حضور کی ذات کے علاوہ کوئی اور وجود متصف نہیں ہو سکتا ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے ہماری گفتگو کا اصل آغاز ہونا ہے ۔ جہاں آکر اس شعر کی تمام کنہ و ماہیت اور وجود و عوارض کی نسبتیں چمک اٹھنی ہیں لیکن اس کے لیے دو مختلف چیزوں کے درمیان واسطہ سمجھنا بہت ضروری ہے
۔۔۔۔ حقیقتِ واسطہ ۔۔۔۔
ایک شے کا دوسری شے کے لیے کسی صفت میں واسطہ ہونا تین صورتوں پر مشتمل ہے
صورتِ اوّل :
کسی صفت کے ساتھ حقیقۃً اور بالذّات واسطہ ہی متصف ہو اور ذی واسطہ میں وہ صفت اصلاً نہ ہو مگر ذی واسطہ کو واسطہ کے ساتھ کسی تعلّق و تلبّس کی وجہ سے مجازاً صفتِ واسطہ سے موصوف کر دیا جاۓ
مثال :
ایک کشتی ہے اور ایک کشتی نشین ۔ لیکن جب ہم کشتی کو دریا میں ہچکولے کھاتا دیکھتے ہیں تو کشتی نشین پر متحرک ہونے کا قول کرتے ہیں ‘ حالانکہ کشتی نشین کو مطلق حرکت نہیں ہوتی ‘ ہم صرف کشتی نشین کو کشتی کے ساتھ تعلق و تلبس کی وجہ سے مجازاً متحرک کہہ دیتے ہیں ‘ اسے واسطہ فی العروض کہتے ہیں
صورتِ ثانی :
یہ صورت صورتِ اوّل کا عکس ہے یعنی ایک صفت ذی واسطہ میں تو پائی جاۓ لیکن واسطہ میں اصلاً نہ پائی جاۓ بلکہ وہ ذی واسطہ کو موصوف کردینے میں سفیرِ محض ہو
مثال :
کپڑے کے رنگین ہونے میں رنگ ریز واسطہ ہے کہ رنگین ہونے کی یہ صفت صرف ذی واسطہ یعنی کپڑے میں پائی جاتی ہے چنانچہ اسی کو رنگین کہتے ہیں اور واسطہ یعنی رنگ ریز میں یہ صفت مطلقاً نہیں پائی جاتی ‘ لہذا رنگ ریز کو کبھی نہیں کہا جاتا کہ وہ رنگین ہوگیا ‘ اسے واسطہ فی الاثبات کہتے ہیں
صورتِ ثالث :
وہ صفت واسطہ اور ذی واسطہ میں حقیقۃً پائی جاۓ لیکن اس صفت کا واسطہ میں پایا جانا ذی الواسطہ کے لیے علت ہوگی ‘ لہذا یہ اتصاف واسطہ کے لیے اولاً اور ذی واسطہ کے لیے ثانیاً ہوگا
مثال :
قفل کھولتے وقت چابی کو گھمایا جاتا ہے ‘ یہاں چابی کی حرکت میں ہاتھ واسطہ اور چابی ذی واسطہ ہے اور حرکت دونوں کے ساتھ حقیقۃً قائم ہے لیکن ہاتھ کی حرکت علت اور چابی کی حرکت معلول ہے ‘ اسے واسطہ فی الثبوت کہتے ہیں
واسطہ فی الثبوت کی مزید دو صورتیں :
1 : کبھی واسطہ فی الثبوت ہونے پر دو صفتیں مترتب ہوتی ہیں جن میں ایک صفت سے واسطہ متصف ہوتا ہے اور ایک صفت سے ذی واسطہ متصف ہوتا ہے جیسا اوپر کی مثال میں ہاتھ واسطہ اور چابی ذی واسطہ ہے ۔ ایک حرکت ہاتھ سے متعلق ہے اور ایک حرکت چابی سے متعلق ہے
2 : اور کبھی واسطہ فی الثبوت ہونے پر ایک ہی صفت کا تحقق ہوتا ہے جس سے ذی واسطہ متصف ہوتا ہے جیسے زخمی کرنے کے لیے چاقو واسطہ فی الثبوت ہے لیکن یہاں زخم صرف زخمی کی صفت ہے چاقو کی صفت نہیں
واسطہ کی ان تینوں اقسام کی تعریف و تفہیم کے بعد اب یہ سمجھیے کہ مقصودِ کائنات ہونے میں حضور علیہ السلام کا وجوداتِ اہلِ کساء رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے واسطہ ہونا تو طے ہے لیکن کون سا واسطہ ؟
1 : اگر کہا جاۓ کہ مقصودِ کائنات ہونے میں حضور اہلِ کساء کے لیے واسطہ فی العروض ہیں تو یہ بھی صحیح ہوگا کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ اہلِ کساء میں مقصودِ کائنات ہونے کے جتنے اعتبارات ہیں وہ سب حقیقت میں حضور کے ہی اعتبارات ہیں ‘ اہلِ کساء کی طرف تو ان اعتبارات کی نسبت مجازاً ہے
نوٹ :
لیکن اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ مقصودِ کائنات ہونے میں جتنے بھی اعتبارات حضور کی ذات سے متعلق ہیں وہ سب کے سب اہلِ کساء میں بھی موجود ہوں ‘ ایسا اس لیے نہیں ہوسکتا کہ حضور کے مقصودِ کائنات ہونے میں کچھ اعتبارات ایسے ہیں جو حضور کی ذات سے آگے متجاوز نہیں ہو سکتے
1 : مبدء و مصدرِ کائنات ہونا ایسا اعتبارِ حقیقی ہے جو حضور کی ذات کے ساتھ ہی خاص ہے
2 : وجہ و غایتِ تخلیقِ کائنات ہونا ایسا اعتبارِ حقیقی ہے جو حضور کی ذات کے ساتھ ہی خاص ہے
3 : اقتضاۓ ظہورِ ربوبیتِ مطلقہ ایسا اعتبارِ حقیقی ہے جو حضور کی ذات کے ساتھ ہی خاص ہے
یہ وہ اعتباراتِ حقیقیہ ہیں جو حضور کی ذات سے متجاوز نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ان کی نسبت و اسنادِ حقیقی کسی نبی کی طرف بھی نہیں کی جا سکتی چہ جائیکہ ان اعتبارات سے اہلِ کساء کو بھی متصف کیا جاۓ
اب مقصودِ کائنات ہونے کے جو اعتبارات اہلِ کساء سے متعلق ہو سکتے ہیں ان اعتبارات کے اعتبار سے حضور اور اہلِ کساء میں واسطہ فی الثبوت ہے جس کی اصل یہ ہے کہ حضور اپنی رضا و رغبت سے اہلِ کساء پر جن اعتبارات کا پرتو ڈالنا چاہیں ڈال دیں ‘ حضور کی بخشش و سخاوت میں رضاء و رغبت تمام اجزاۓ عالم کے لیے عام ہے مگر اہلِ کساء کے لیے یہ رضا و رغبت خاص حیّزِّ ناز سے تعلق رکھتی ہے !
2 : اگر ذاتِ محمدیہ علیہ السلام اور وجودِ اہلِ کساء میں واسطہ فی الثبوت مانیں تو یہ واسطہ فی الثبوت کی قسم اوّل ہوگی جس میں ایک صفت سے واسطہ متصف ہوتا ہے اور ایک صفت سے ذی واسطہ متصف ہوتا ہے لیکن اس صفت کا واسطہ میں تحقق اولاً اور ذی واسطہ میں ثانیاً ہوگا اور ثانی اول کے بغیر متحق نہیں ہوسکتا !
بحثِ مذکور میں واسطہ فی العروض اور واسطہ فی الثبوت دونوں سے واسطہ فی الاثبات کے ذریعے استدلال کیا گیا ہے
اعتراض :
یہاں تضاد پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ صفت کا اتصاف ‘ فی العروض میں عرضی ہے اور فی الثبوت میں حقیقی ہے چاہے ایک علت ہے دوسرا معلول ‘ لہذا یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے یعنی مابالعرض اور مابالذات کا اجتماع کیسے ممکن ہوا ؟
جواب :
اگر تو تضاد کے دو وجودوں کا ایک ہی جہت میں جمع ہونا پایا جاتا ‘ تب تضاد واقع ہوتا ‘ جب کہ یہاں حضور کی طرف نسبت کرتے ہوئے اھل کساء کے اعتبارات مجازی و عرضی ہیں جن کا جوہر یا قائم بالذات بلاشبہ حضور کی ذات ہے اس سے فقط واسطہ فی العروض ثابت ہوا ‘ جبکہ واسطہ فی الثبوت کا اثبات اس طریقے سے ہے کہ ان اعتبارات کی علت حضور کی ذات کا ارادہ و رغبت ہے لہذا اس اعتبار سے وہ اعتبارات معلول ہوئے ‘ یہاں سبب اور علت کا فرق ہے اسباب سے احکام کا صرف نفسِ تعلق مراد ہوتا ہے اور علل سے انکا ثبوت !
عرضًا اور حقیقتًا متصف ہونے سے مراد :
حضور کا مقصود کائنات ہونا ذاتی یا حقیقی ماننا اہلِ کساء کے مقابل ہے کہ جن کے اعتبارات مجازی یا معلولی ہیں ‘ جن کا معروض الیہ یا علت حضور کی ہی ذات ہے نہ کہ یہ اللہ سبحانہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے ہے
اب اعتبارات کا اہلِ کسا میں بھی حقیقی ماننے کا مطلب یہ ہے کہ بعطائے رسول وہ بھی صاحب تصرف ہیں جب کہ عروض میں معروض عارض میں تصرف کا مجاز نہیں ہوتا مثلا ہچکولے کھاتی کشتی میں بیٹھے شخص کی حرکت عرضی ہے ذاتی نہیں ہے یعنی اس شخص کے ارادے سے نہیں ہے کیوں کہ یہ واسطہ ذی الواسطہ کو اسکا مجاز نہیں بناتا جبکہ فی الثبوت میں ایسا نہیں ہے ‘ واسطہ ذی الواسطہ کو اسکا مجاز بنانے کی طاقت رکھتا ہے اسی لیے یہاں نسبت و اسنادِ حقیقی عطائی کا ہونا واضح ہو جاتا ہے
شعرِ بیدم میں تناقض نہیں :
شعرِ بیدم کے متعلق منتشر فکروں میں ایک ایسا شور مچا ہوا ہے کہ جو عقولِ سلیمہ کے لیے صرف سمع خراشی ہے اور کچھ نہیں !
شور یہ ہے کہ شعرِ بیدم میں وجوداتِ خمسہ کو مقصودِ کائنات کہا گیا ہے جبکہ حدیثِ لولاک سے فقط حضور کا مقصودِ کائنات ہونا ہی مترشح ہے
اہلِ نقد و جرح کی فکریں اسی معنی و مفہوم پر اس لیے ٹھہرگئیں کہ فی زمانہ علم و فکر سے خار کھانے والے کچھ لوگوں نے اس شعر کو رفضِ محض سے مربوط کر دیا یا پھر کچھ اہلِ علم و فضل کے تسامحِ فکری کے نتیجے میں ایسا معنی مفہوم عام عوام کے ذہنوں پر نقش ہوگیا
سوال :
اب ان ذہنوں کی شدتِ مؤقف کو دیکھتے ہوۓ ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ
مقصودِ کائنات ہونا ایک وصف ہے کیا اس وصف کے موصوفات میں عقلاً تعدد جائز ہے یا نہیں؟
اب اس کے جواب کی راہیں مختلف ہیں جس راہ پر بھی چلیں عقل منزلِ مقصود پر پہنچ جاتی ہے تاہم اشہبِ فکر کو باری باری تین راہوں پر لے جایا جاتا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جاۓ کہ عقولِ سلیمہ جس راہ کو بھی اختیار کرے منزلِ مقصود تک پہنچ جاۓ گی
راہِ اوّل :
سوال بتا رہا ہے کہ اہلِ نقد و جرح کو علمِ میزان کا بنیادی متن (مرقاۃ) تک محفوظ نہیں ‘ اگر ہوتا تو وہ جان لیتے کہ حدیثِ لولاک اور مضمونِ شعرِ بیدم کے جزءِ ثانی میں کوئی تناقض نہیں
تحققِ تناقض ہونے کی شرط :
تناقض کے تحقق کے لیے وحداتِ ثمانیہ کا اتحاد ضروری ہے جبکہ یہاں اتحادِ اضافت مفقود ہے
افتراقِ مستفادِ مقصودیت :
حدیثِ لولاک سے مستفاد مقصودیت باعتبارِ خلقِ اکوان ہے جبکہ شعرِ بیدم سے مستفاد مقصودیت باعتبارِ اطاعت ہے نہ کہ باعتبارِ خلق ! کما سنحققہ فی الجواب الثانی
اور اوّل میں مقصودیت باعتبارِ خلق ہے نہ کہ باعتبارِ اطاعت
مقامِ غور :
یہاں غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ جب جہات ہی مختلف ہیں تو تناقض درکنار بوئے تناقض بھی ظاہر نہیں فتفطن یا اہل النقد !
اسی لئے حکماء نے فرمایا تھا
لولا الاعتبارات لبطلت الحکمۃ
” اگر اعتبارات نہ ہوتے تو حکمت باطل ہو جاتی ”
راہِ دوم :
عقلاء کے مدارک میں یہ بات طے ہے کہ معرفتِ مرکب معرفتِ مفرد پر موقوف ہوتی ہے ‘ کیونکہ ماہیتِ کُل ماہیتِ جزء کی فرع ہے ‘ کل من حیث الکل اجزاء کا محتاج اور اجزائے کل محتاج الیہ ہوتے ہیں اور اس میں شک کے لیے جگہ نہیں ہے کہ محتاج الیہ کو محتاج پر تقدمِ عِلّی حاصل ہوتا ہے کما حققہ الملا حسن الکنوی فی حواشی حاشیہ میر زاہد علی شرح المواقف
معلوم ہوا کہ جزء کی معرفتِ تفصیلیہ دائما معرفتِ کُل پر مقدم ہوتی ہے ‘ یہی وجہ تھی کہ علامہ ابنِ حاجب نے ” کافیہ” میں اولاً تعریفِ کلمہ اور ثانیاً تعریفِ کلام کو ذکر فرمایا ‘ گویا جب بھی کسی مرکب کو بغرضِ معرفتِ تفصیلیہ ملاحظہ کیا جائے گا تو پہلے اس کے اجزاء میں نظر کرنا ہوگی جیسے ترکیب (مقصودِ کائنات) میں جزء ثانی ( کائنات ) سے مراد جواہر و اعراض ہیں ‘ اگر مذہبِ موالیدِ ثلاثہ میں ادراک کا قول کیا جائے کہ مراد مسلمان ہیں بایں صورت کہ اگر ادراکِ کلیات و جزئیات کو خاصۂ انسان قرار دیں اور جزءِ اوّل (مقصود) کی توضیح یہ ہے کہ (مقصود) قصد سے ماخوذ ہے جس کا معنی ارادہ کرنا ہے یعنی جو مقصود ہے وہ مراد ہے اور جو مراد ہے وہ مقصود ہے خواہ وہ بالذّات ہو یا بالعرض جیسے پیاس کی شدت کے وقت پانی پینا ! اب یہاں فی نفسہ ہمیں پانی مقصود نہیں بلکہ پیاس بجھانا مقصود ہے جو کہ مقصود بالذات ہے کیونکہ مقصود بالذات کے حصول کے وقت حرکتِ اختیاری موقوف ہو جاتی ہے ‘ اب اگر مقصود بالذات کے حاصل ہو جانے کے باوجود بھی حرکت جاری ہے تو وہ جسے مقصود بالذات مانا وہ مقصود بالذات نہ رہے گا ما ھو الا خلف
معلوم ہوا کہ مثالِ مذکور میں حقیقتِ آب مقصود بالعرض اور رفعِ تشنگی مقصود بالذات ہے
اس مقدمۂ تمہیدیہ کو ذہن میں رکھنے کے بعد جانیے کہ ممکن الوجود کی تمام تر حرکاتِ اختیاریہ کا مقصود اپنے صانع مختار کی مرضی حاصل کرنا ہے ‘ کیونکہ صانع نے اسے عدم سے وجود کی طرف نکالا اور اسے وجود عطا فرمایا ہے جو کہ صفات سے بڑی نعمت ہے بلکہ اصلِ جمیع النعم ہے اس لیے کہ جمیع نعم سے متلذذ ہونا بغیر وجود کے محال ہے اور ظاہر ہے کہ نعمت جس قدر عظیم ہو تو منعم کا شکر بھی اسی مرتبے کا ہونا چاہئے لیکن ممکن الوجود اور واجب الوجود کی ماہیات میں تفکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ممکن الوجود ہر اعتبار سے نقص میں غرق اور تناہی کی بیڑیوں میں مسلسل جکڑا ہوا ہے اور واجب الوجود میں ہر کمال بالفعل ہے جس کا تصور عقلِ سلیم کیلئے ممکن ہو ‘ اس بات میں ذرہ برابر شک نہیں کہ انقص النقائص اور اکمل الکمالات میں کوئی مناسبت نہیں جو شرطِ استفادہ ہے ‘ اس لیے کہ یہ بات بدیہیات سے ہے جسے حکماء نے بیان کیا ہے
"استفادہ کیلئے جوہر لطیف درکار ہوتا ہے”
اس کا یہ معنی نہیں کہ ذاتِ واجب ناقص کو کامل کرنے پر قادر نہیں بلکہ معنی یہ ہے کہ ناقص کامل کے انوار اُسی وقت قبول کر سکتا ہے جب وہ اپنی کثافت کو لطافت میں تبدیل کرلے تاکہ مفید اور مستفید دونوں میں مناسبت پیدا ہو جائے کیونکہ شرط استفادہ ہے کماحققہ الفاضل صدر الدین دشتکی شیرازی فی الحقائق المحمدیہ
اسی لئے اللہ سبحانہ نے حضور کو ہمارے اور اپنے درمیان واسطہ بنایا جس کی اطاعتِ صحیحہ سے مفید کا فیض بآسانی مستفید تک پہنچ جاتا ہے لہذا اللہ سبحانہ منعمِ حقیقی اور حضور منعمِ مجازی ہوئے اور ہر منعم خواہ وہ حقیقی ہو یا مجازی اس کا شکریہ ادا کرنا منعم علیہ پر عقلاً یا شرعاً واجب ہوتا ہے کما فی مسلم الثبوت
اسی طرح اہلِ بیت و صحابہ ، اولیائے کرام اور علمائے ربانیین کہ یہ سب منعمین میں داخل ہیں کیونکہ اگر یہ نفوسِ قدسیہ دین متعدی نہ فرماتے تو بھلا ہم جیسے لوگ کس طرح مبداءِ فیاض جل مجدہ کے فیض سے مستفیض ہو سکتے تھے ؟ لہذا ان کا شکر ادا کرنا ہم پر واجب ہے ‘ اسی وجوب کی ادائیگی کے لیے علمائے معقول و منقول اپنی تصانیف کے آغاز میں اللہ سبحانہ کی حمد اور ان نفوسِ قدسیہ پر حضور علیہ السلام کی تبع میں درود و سلام تحریر فرماتے ہیں کما حققہ المحقق التفتازانی فی السعدیہ شرح الشمسیہ
معلوم ہوا کہ ہم پر حضور علیہ السلام اور آلِ پاک کا شکریہ ادا کرنا واجب ہے ‘ ادائیگئ شکر بغیر التفات و ارادہ کے متحقق نہیں ہوتی کیونکہ شکر کی حقیقت یہ ہے کہ منعَم اپنے قوائے عقلیہ و عملیہ کو مقدور بھر منعِم کی اطاعت میں نثارکر دے
حضور کی اطاعت مقصود بالذات اور اہلِ بیت و صحابہ کرام کی اطاعت مقصود بالعرض ہے کیونکہ وصفِ عطائے اسلام میں صحابہ و اہلِ بیت کرام ہمارے اور حضور کے درمیان واسطہ فی الثبوت غیر سفیرِ محض ہیں جس میں واسطہ اور ذوالواسطہ دونوں بالذات صفت سے متصف ہوتے ہیں لیکن واسطہ اولاً اور ذو الواسطہ ثانیاً موصوف ہوتا ہے ‘ معلوم ہوا کہ اہلِ کائنات کے لیے صحابہ اور اہلِ بیت خصوصاً اہلِ کساء مقصودِ اطاعت ہیں لیکن مقصود بالعرض
راہِ ثالث :
جوابِ ثانی پر منطبق کرتے ہوئے یہ ہے کہ مقصودِ کائنات کی تفسیر خیرالنساء حسین و حسین مصطفی علی
سے فرمائی ہے ” یہ بات مخفی نہ رہے کہ مفسَّر سے مراد ابتداءً وہی ہوتا ہے جو تفسیر میں ذکر کیا جاتا ہے تو لفظِ مقصودِ کائنات مقید ہوا اہلِ کساء کے ساتھ اور کوئی مقید بغیر مطلق کے متحقق ہی نہیں ورنہ وہ مقید مقید ہی نہ رہے گا
اشتراکِ مقصودیت :
مقصودیتِ مطلقہ میں مصطفی کریم علیہ السلام ‘ سیدہ فاطمہ زہراء ، سیدنا علی المرتضیٰ ‘ سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین مشترک ہوئے اور تناقض لازم نہ آیا ‘ کیونکہ دو موجبہ جزئیہ میں کوئی تناقض نہیں ہوتا
بعد از تمہید :
اس تمہید شریف کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ واسطہ کی اقسام ثلاثہ میں ایک طرف حقیقت کھڑی ہے اور دوسری طرف مجاز ‘ لہذا حقیقت و مجاز کے درمیان وقوعِ نسبت قائم ہے کہ نسبت و اسناد اگر حقیقت کی طرف جاری ہوں تو حقیقی اور اگر مجاز کی طرف جاری ہوں تو مجازی کہلائیں گے ‘ آئیے اب ہم نسبت و اسناد کی اقسام کی تعریفات و امثلہ میں امام و مجددِ ہر صدئ آئندہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کرتے ہیں
امام فرماتے ہیں کہ نسبت و اسناد دو اقسام کی طرف منقسم ہوتی ہیں
1 : حقیقی
2 : مجازی
اوّل میں مسندالیہ حقیقت سے متصف ہوتا ہے اور مجازی میں غیر متصف کی طرف کسی علاقہ کی وجہ سے نسبت جاری ہوتی ہے جیسا کہ نہر کو جاری یا حابس سفینہ کو متحرک کہنا ‘ حالانکہ حقیقۃً جاری تو آب و کشتی ہوتے ہیں
امام فرماتے ہیں کہ پھر نسبتِ حقیقی دو اقسام کی طرف منقسم ہوتی ہے
1 : ذاتی
2 : عطائی
اوّل خود اپنی ذات سے بے عطاۓ غیر متصف ہو اور ثانی یہ ہے کہ دوسرے نے اسے حقیقۃً متصف کر دیا ہو خواہ وہ دوسرا خود بھی اس وصف سے متصف ہو جیسے واسطہ فی الثبوت میں یا واسطہ فی الاثبات میں ہوتا ہے
مثال :
قرآن میں انبیاء کی نسبت لفظِ علیم وارد ہوا ہے تو یہ حقیقتِ عطائیہ ہے یعنی بعطاۓ الہی وہ حقیقۃً متصف بعلم ہیں اور اللہ سبحانہ نے اپنے نفسِ کریم کو بھی علیم فرمایا تو یہ حقیقتِ ذاتیہ ہے کہ وہ بے کسی کی عطا کے اپنی ذات سے عالم ہے ! ایسے ہی جب کہا جاتا ہے
حقائق الاشیاء ثابتۃ
"حقیقتِ اشیاء ثابت ہے”
تو یہاں وجود کی طرف اسناد بمعنی حقیقی ذاتی نہیں بلکہ نسبتِ حقیقی عطائی ہے کما لایخفی عند کل من لہ عقل و دین
اب ان کو درج ذیل امثلۂ حدیث سے سمجھیے
الخصائص الکبری میں بحوالہ ابو نعیم روایت ہے
1 : کان من دلالات حمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کل دابۃ کانت لقریش نطفت تلک اللیلۃ و قالت حمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورب الکعبۃ وھو امان الدنیا و سراج اھلھا
” نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حمل کی نشانیوں سے تھا کہ قریش کے جتنے چوپاۓ تھے سب نے اس رات کلام کیا اور کہا ربِّ کعبہ کی قسم ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمل میں تشریف فرما ہوۓ ‘ آپ تمام دنیا کی پناہ اور اہلِ عالم کے سورج ہیں ۔
المستدرک للحاکم میں ہے میں ہے
2 : النجوم امان لاھل الارض من الغرق واھل بیتی امان لامتی من الاختلاف
” ستارے زمین والوں کے لیے غرق ہونے سے امان ہیں اور میرے اہلِ بیت میری امت کے لیے اختلاف سے امان ہیں
بیہقی نے نقل کیا کہ حضور نے فرمایا
3 : اللھم اعز الاسلام بعمر بن الخطاب خاصۃ
” الٰہی خاص عمر بن الخطاب کے ذریعے سے اسلام کو عزت دے ”
اب ستاروں کی طرف امانِ اہلِ زمین کی نسبت و اسناد حقیقی عطائی ہے ‘ اسی طرح اہلِ بیت کی طرف امانِ امت کی نسبت و اسناد حقیقی عطائی ہے اور اسی طرح عزت و غلبۂ اسلام کی نسبت حضرتِ عمر رضی اللہ عنہ کی طرف حقیقی عطائی ہے اور اگر ان سب کی نسبت مجاز کی طرف بھی پھیر دیں تو تب بھی درست ہے
درمیانِ غرق و خلق ستارے واسطۂ امان ہیں ‘ درمیانِ ہلاکت و امت اہلِ بیت واسطۂ امان ہیں ‘ درمیانِ غلبہ و اسلام حضرتِ عمر واسطۂ عزت ہیں ۔ یہ سب واسطہ فی الثبوت ہیں کہ ان معلولات کی علت حضور کی ذات ہے اور حضور میں ان اوصاف کی علت قدرت و ارادۂ الہی ہے
اس مختصر سی تفہیم سے شعرِ بیدم میں مذکور ترکیب (مقصودِ کائنات) کا مفہوم بالکل صاف ہوجاتا ہے کہ
1 : مقصودِ کائنات کی نسبت حضور کی ذات کی طرف باعتبارِ مخلوق حقیقی اور باعتبارِ اہلِ کساء حقیقی عطائی و مجازی ہے
2 : ظہور و ایجادِ عالم اور حضور علیہ السلام میں واسطہ فی الثبوت بقسمِ ثانی متعلق ہے کہ جس میں وصف سے ذی واسطہ ہی متصف ہوتا ہے ‘ تو یہاں واسطہ ذاتِ واجب اور ذی واسطہ حضور کی ذات بنے گی
یاد رہے کہ مبدء و وجہِ ظہورِ عالم ہونا اور منتخبِ اقتضاۓ ربوبیتِ مطلقہ اعتباراتِ ذاتیہ مشخصہ ہیں جو صرف حضور کی ذات کے ساتھ قائم ہیں ‘ یہ آگے متجاوز نہیں ہوسکتے
3 : مقصودِ کائنات باعتباراتِ اضافیہ حضور کی ذات کے ساتھ اولاً اور ذواتِ اہلِ کساء کے ساتھ ثانیاً متحقق ہیں
اعتباراتِ اضافیہ کیا ہیں ؟
اعتباراتِ اضافیہ وہ ہیں جو حضور کی ذات میں اولاً اور اہلِ بیت و صحابہ و عارفینِ امتِ محمدیہ میں بواسطۂ ذاتِ رسالتمآب ثانیاً ہوں ‘ یہ اعتبارات لامتناہی ہیں ‘ یہاں اہلِ بیت کی نسبت سے کہ موضوع کا تقاضا ہے یہاں چند ایک بیان کیے جاتے ہیں ‘ حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء ‘ مسند البزار ‘ مسند الشھاب ‘ معجم الکبیر ‘ معجم الصغیر ‘ معجم الاو سط ‘ میزان الاعتدال اور المستدرک علی الصحیحین میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے اپنے اہلِ بیت کے لیے فرمایا
مثل اھل بیتی کمثل سفینۃ نوح من رکبھا نجا ‘ ومن تخلف عنھا ھلک
” میرے اہلِ بیت کی مثال سفینۂ نوح کی طرح ہے جو اس پر سوار ہوگیا وہ نجات پاگیا اور جو پیچھے رہ گیا ہلاگ ہو گیا ”
حموینی اس کے تحت واحدی کے الفاظ نقل کرتے ہیں
انظر کیف دعا الخلق الی التشبث الی ولائھم و السیر تحت لوائھم بضرب مثلھم بسفینة نوح علیہ السلام جعل ما فی الآخرة من مخاوف الاخطار و اھوال النار کالبحر الذی یلج براکبہ فیوردہ مشارع المنیة و یفیض علیہ سجال البلیة، وجعل اھل بیتہ سبب الخلاص من مخاوفہ والنجاة من متالفہ، فکما لا یعبر البحر المھیاج عند تلاطم الامواج الابالسفینة، کذلک لا یامن لفح الجحیم و لا یفوز بدار النعیم الا من تولی اھل بیت النبی
” مقامِ فکر ہے کہ حضور علیہ السلام نے افرادِ امت کو سفینۂ نوح کی طرح اپنے اہلِ بیت کے فیوض و برکاتِ ولایت سے متمسک ہونے کے لیے فرمایا ‘ حضور علیہ السلام نے آخرت کے خطروں اور آتشِ جہنم کے خوف و وحشت کو موج مارتے ہوئے دریا سے تشبیہ دی ہے کہ جس نے لوگوں کو غرق کرنے کیلئے اپنے آپ کو آمادہ کر رکھا ہے اور اہل بیت کو ان خطرات سے باہر نکلنے اور ان امواج کے گرداب سے نجات حاصل کرنے کا سبب فرمایا ہے ‘ جس طرح انسان متلاطم اور موج مارتے ہوئے دریا سے بغیر کشتی کے باہر نہیں نکل سکتا اسی طرح انسان جہنم سے نجات نہیں پاسکتا اور بہشت میں نہیں جاسکتا سوائے مگر یہ کہ وہ اہلِ بیت کی اتباع و اقتداء کرے ”
علامہ مناوی اسی کی توجیہ و توضیح میں لکھتے ہیں
وجہ التشبیہ ان النجاة تثبت لاھل السفینة من قوم نوح ، فاثبت المصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ لامتہ بالتمسک باھل بیتہ النجاة
تشبیہ کی وجہ یہ ہے کہ کشتئ نوح میں سوار ہونے والوں کو نجات مل گئی تھی اور حضور علیہ السلام بھی اپنی امت کی نجات ‘ اہل بیت سے تمسک اور ان کی اقتداء میں دیکھ رہے تھے”
اسی حدیث کے تحت علامہ ابن حجر ھیثمی لکھتے ہیں
ووجہ تشبیھھم بالسفینة ان من احبھم و عظمھم شکرا لنعمة مشرفھم و اخذ بھدی علمائھم نجی من ظلمة المخالفات و من تخلف عن ذلک غرق فی بحر کفر النعم وھلک فی مفاوز الطغیان
” اہل بیت کو کشتئ نوح سے تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ جو بھی اللہ سبحانہ کی نعمتوں کا شکرکرنے کی وجہ سے ان کو دوست رکھے گااور ان کی تعظیم کرے گااور علمائے اہل بیت کی ہدایت کو اخذ کرے گا وہ ظلمت و گمراہی کے اندھیرے سے نجات حاصل کرلے گا اور جو بھی ان کی مخالفت کرے گا وہ کفرانِ نعمت کے دریا میں غرق ہوجائےگا اور اسی گمراہی میں ہلاک ہوجائے گا ”
اب یہاں نجاتِ ہلاکتِ دنیا و آخرت سے متعلق اور ہدایت و اقتداء سے مربوط و منسلک جتنے بھی اعتبارات افرادِ اہلِ بیت سے منسوب ہوں گے وہ سب اعتبارات اولاً حضور علیہ السلام کی ذات میں اور ثانیاً افرادِ اہلِ بیت سے متعلق ہوں گے اور یہی مفہوم ہے اہلِ بیت کے مقصودِ کائنات ہونے کا ۔۔۔۔۔
اب شعرِ بیدم میں مقصودِ کائنات کو وجوداتِ خمسہ سے متصف کرنا اپنے اپنے اعتبارات سے جاری ہوگا ‘ یا تو وہ اعتباراتِ حقیقیہ ذاتیہ ہوں گے یا اضافیہ عطائیہ ہوں گے ۔ اول سے حضور کی ذات متصف ہوگی اور ثانی سے حضور کی ذات اور اہلِ کساء دونوں متصف ہوں گے حضور میں اولاّ کا اعتبار ہوگا کہ واسطہ ہیں اور وجوداتِ اربعہ عالیہ میں ثانیاً کا اعتبار ہوگا کہ ذی واسطہ ہیں
اگر ان اعتبارات کو تسلیم نہ کیا جاۓ تو پھر دین کے بے شمار معاملات کی عمارتیں کفر بوس ہوکر رہ جائیں گی ‘ لہذا تنویعِ وسائط و اعتبارات کا تسلیم کرنا ضروریاتِ بدیہیہ سے ہے ‘ اس مختصر سی گفتگو سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ شعرِ بیدم میں کسی قسم کی خرابی و بدعقیدگی نہیں ‘ شبہِ مخالف تو تنگ اور وحشت زدہ دماغوں میں پیدا ہوا ہے کہ یہی زمین ایسے زہریلے پودوں کی افزائش کی استعداد رکھتی ہے
اللہ و رسول سے دعا و عرض ہے کہ وہ ہمیں دین اور زبان و بیان کی گہرائیوں سے شناسائیوں کا حصۂ وافر عطا کرے ۔۔ آمین
بندۂ لاشئ
میرزا امجد رازیٓ
