منتخب غزلیں
اسماعیل میرٹھی جو بھلے بُرے کی اٹکل نہ مِرا اشعار…

اسماعیل میرٹھی
جو بھلے بُرے کی اٹکل نہ مِرا اشعار ہوتا
نہ جزائے خیر پاتا ۔ نہ گناہگار ہوتا
مئے بیخودی کا ساقی ! مجھے ایک جرعہ بس تھا
نہ کبھی نشہ اُترتا ۔ نہ کبھی خمار ہوتا
میں کبھی کا مر بھی رہتا – نہ غمِ فراق سہتا
اگر اپنی زندگی پر مُجھے اختیار ہوتا
یہ جو عشق جانستاں ہے ۔ یہ وہ بحرِ بیکراں ہے
نہ سُنا کوئی سفینہ کبھی اسِ سے پار ہوتا
کبھی بھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا
کہ جو تم سے کوئی کرتا تمھیں نا گوار ہوتا
ہے اسِ انجمن میں یکساں عدم و وجود میرا
کہ جو میں یہاں نہ ہوتا یہ ہی کاروبار ہوتا


