سلیمان اریب کا یومِ پیدائش April 05, 1922 نام سلی…

April 05, 1922
نام سلیمان اریب اور تخلص اریب تھا۔ ۵؍اپریل ۱۹۲۲ء کوحیدرآباد ،دکن میں پیدا ہوئے۔میٹرک کرنے کے بعد ہی انھیں شعروسخن سے دل چسپی ہوگئی تھی۔اس ذوق سخن کی وجہ سے مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ سیاسی تحریکات میں حصہ لینے اور انقلابی نظمیں لکھنے کی وجہ سے دومرتبہ جیل گئے۔ماہ نامہ ’’چراغ‘‘ اور ماہ نامہ’’سب رس‘‘ کی ادارت کے فرائض چند سالوں تک انجام دیتے رہے۔۱۹۵۵ء سے اپنا رسالہ ’’صبا‘‘ حیدرآباد سے نکالا۔ اریب نظم اور غزل دونوں کہتے تھے۔ ۷؍ستمبر ۱۹۷۰ء کو حیدرآباد ، دکن میں انتقال کرگئے۔ ان کی ایک کتاب’’پاس گریباں‘‘ کے نام سے شائع ہوگئی ہے۔’’کڑی خوش بو‘‘ ان کی دوسری کتاب ہے۔
..
ایک حمام میں تبدیل ہوئی ہے دنیا
سب ہی ننگے ہیں کسے دیکھ کے شرماؤں میں
…..
اریبؔ دیکھو نہ اتراؤ چند شعروں پر
غزل وہ فن ہے کہ غالبؔ کو تم سلام کرو
…..
نہیں جو تیری خوشی لب پہ کیوں ہنسی آئے
یہی بہت ہے کہ آنکھوں میں کچھ نمی آئے
اندھیری رات میں کاسہ بدست بیٹھا ہوں
نہیں یہ آس کہ آنکھوں میں روشنی آئے
ملے وہ ہم سے مگر جیسے غیر ملتے ہیں
وہ آئے دل میں، مگر جیسے اجنبی آئے
خود اپنے حال پہ روتی رہی ہے یہ دنیا
ہمارے حال پہ دنیا کو کیوں ہنسی آئے
نہ جانے کتنے زمانوں سے ہم بہکتے ہیں
فقیہہ بہکے تو کچھ لطفِ مے کشی آئے
صلیب و دار کے قصے بہت پرانے ہیں
صلیب و دار تو ہم راہِ زندگی آئے
ہری نہ ہو نہ سہی، شاخِ نخل غم کی اریب
ہمارے گریۂ پیہم میں کیوں کمی آئے
….
پیار کا درد کا مذہب نہیں ہوتا کوئی
کعبہ و دیر سے مطلب نہیں ہوتا کوئی
سچ تو یہ ہے کہ میں ہر بزم میں تنہا ہی رہا
یوں مگر پاس مرے کب نہیں ہوتا کوئی
جان و ایماں سہی سب کچھ سہی تو مرے لیے
ہائے کس منہ سے کہوں سب نہیں ہوتا کوئی
ایک سایہ تھا جسے میں نے پکڑنا چاہا
وہ جو ہوتا تھا کوئی اب نہیں ہوتا کوئی
چاندنی پھول ہوا جام ستارے خوشبو
زہر کے نام ہیں جس شب نہیں ہوتا کوئی
مجھ کو خود مجھ سے بھی ملنے نہیں دیتی دنیا
چھپ کے ملتا ہوں کبھی جب نہیں ہوتا کوئی
جس کو مل جائے یہ دولت ہو مبارک اس کو
شعر سب کے لئے منصب نہیں ہوتا کوئی


