مختصر کہانیاں

#سلسلے_قرب_کے_جدائی_کے #از_نساء_احمد #قسط_نمبر_…

#سلسلے_قرب_کے_جدائی_کے
#از_نساء_احمد
#قسط_نمبر_6

فریال ابھی سو رہی تھی کہ ارسہ کا فون آیا بڑی مشکل سے آنکھیں کھولیں یار کیا صبح صبح جگا دیا تم نے فریال جمائیاں لیتے لیتے بولی.
خدا کو مانو دن کے بارہ بج رہے ہیں ابھی تمھاری صبح صبح چل رہی ہے ارسہ نے اسے وقت بتایا….
یار بس یہی دن ہیں ایک دو آرام کرنے کے پھر میڈیکل کی مشکل پڑھائی میں یہ فرصتیں کسے نصیب ہونی ہیں… ہاں بات تو ٹھیک ہے…
ارسہ اور فریال میں ٹھیک ٹھاک دوستی ہو گی تھی فریال جب پاکستان آئی تھی تب تھوڑی کنفیوز تھی مگر ادھر خالہ کے گھر میں سب بھت اچھے تھے اور ارسہ اسے ایک پیاری دوست مل گی تھی اسکا دل لگ گیا تھا…
اچھا اب تم نے خالی مجھے جگانے کے لیے تو فون نھی کیا ہوگا یقیناء کوئی بات ہوگی …¿
ہاں آج شام سات بجےتک رئیڈی رہنا….
ٹھیک ہے پر جانا کدھر ہے…¿
فضل حق ڈئیرے پہ
فریال کی آنکھیں پوری طرح کھولی تھیں…
کس کے ڈئیرے پہ… ¿
ہاہاہاہاہا یار یہ ایک ہوٹل کا نام ہے تم کیا سمجھی…
اوہ ہ ہ. اچھا میں سمجھی ہم کسی گاوں وغیرہ میں جا رہے ہیں…
ارسہ کھل کے مسکرائی اچھا تم رئیڈی رہنا میں تمھیں پک کر لوں گی..
اوکے فائن…
ٹیک کئیر….
فریال تیار تھی وائٹ پینٹ اور وائیٹ شرٹ کے ساتھ بہت ڈیسنٹ لگ رہی تھی بالوں کی اونچی پونی اور سلیقے سے کیا میک اپ اس پہ بہت سوٹ کر رہا تھا…..
ارسہ اور خرم اسے لینے آے تھے بلیک عبایا کے ساتھ ریڈ اسکارف میں ارسہ بہت سوبر لگ رہی تھی خرم نے گرے پینٹ کے ساتھ میچنگ ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی…
ارسہ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی ہوئی تھی اور فریال پیچھے دونوں آپس میں باتیں کر رہی تھیں.
خرم بار بار ارسہ کو ہی دیکھ رہا تھا فریال کو تھوڑا عجیب لگا ارسہ سمجھ گی تھی.
کیا کر رہے ہو آگے دیکھ کے گاڑی چلاو ارسہ نے دانت پیسے…..


لو اب میں دیکھو بھی نہ….¿
اتنی پیاری لگ رہی ہو…
کیوں سالی صاحبہ….¿
خرم فریال کی طرف مڑا
"” سالی”” فریال کی آنکھیں باہر کو نکل آئیں آپ مجھے گالی دے رہے ہیں….
گالی…..¿¿
ہاہاہاہاہاہاہاہاہا
خرم کی ہنسی نھی رک رہی تھی ارسہ بتاو فریال کو….
تم خودی بتا لو ارسہ نے منہ پھلا کے کہا اور باہر دیکھنے لگی….
بات کیا ہے کوی مجھے کچھ بتاے گا….¿
ہاں میں بتاتا ہوں اصل میں میرا اور ارسہ کا نکاح ہو چکا ہے تم ارسہ کی سہیلی کم بہن بن چکی ہو تو میری سالی ہی ہوئی نا…¿
او مای گاڈ واٹ آ کیوٹ کپل….¿
فریال بہت ایکسائیٹڈ ہو رہی تھی….
ارسہ کی بچی تم نے مجھے لاہور سے چکوال تک ساری کتھا سنا دی تھی یہ کام کی بات کیوں نھی بتای…..¿¿
اب یہ بھی کوی بتانے والی بات تھی…..
ہاں یار یہی تو بتانے والی بات تھی…. ارسہ بلکل ریڈ ہوگی تھی….
میرے لیے یہ اندازا لگانا مشکل ہورہا ہے کہ ارسہ کا اسکارف زیادا ریڈ ہے یا یہ خود…..¿
او ہو….
ارسہ نے ایک پنچ خرم کو جڑا آگے دیکھ کے گاڑی چلاو….
انٹرسٹنگ…. فریال کے لیے یہ سب نیا تھا پرخلوص محبتیں لٹاتے لوگ اس نے دل سے انھی دائمی خوشیوں کی دعا دی…..
ہوٹل پارکنگ میں گاڑی پارک کی تو اذان اور آیان دور سے ہی ہاتھ ہلاتے ہوئے ان کے پاس آے وائٹ کاٹن کی شلوار قمیض اور کندھوں پر بڑے سٹائل سے ڈالی چادر آیان الگ ہی لگ رہا تھا….
اسلام علیکم…… آیان نے سلام کیا تو سب کو تھا مگر نظریں فریال پر ہی تھیں( وائٹ پینٹ شرٹ آج پھر میچنگ مچینگ) جس کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا اسے دیکھ کے…. آپ نے کڑوا بادام تو نھی چبا لیا…¿ چبایا نھی دیکھا ہے….
تم یہاں کیا کر رہے ہو….¿
فریال کو اسکی موجودگی ایک آنکھ نا بھای…

وہی جو آپ کرنے آی ہیں…..
ہننننننن…..
ہوٹل انتہای خوبصورت تھا بڑا سا صحن نما ہوٹل جس میں بڑے بڑے سرخ پایوں والی کرسیاں میزوں کے گرد رکھی ہوی تھیں ایک سائیڈ پر ایک بینڈ پنجابی گانے گا رہا تھا فل دیہاتی ماحول تھا….
زبردست…. بیوٹیفل…. فریال کو یہ جگہ بہت پسند آی تھی….
وہ اپنا آرڈر کر کے انتظار کر رہے تھے….
شکریہ آیان بھای آپ اتنی اچھی جگہ لے کر آے نیکسٹ اذان کی باری ہے….
واے ناٹ……
اذان ہمیں لنک روڈ سے گول گپے اور آئسکریم کھلاے گا اور پھر خرم فورٹرس لے کر جاے گا اچھی سی پارٹی اور ڈھیر ساری شاپنگ ارے ارے یہ ظلم میرے ساتھ کیوں خرم نے دھای دی تمھیں شوھر بنے کا بھت شوق ہے نا اب بھگتو…
ہاہاہاہاہاہا یہ خوب کہی…..
فریال کے منہ کے زاویے بگڑے تھےوہ اس وقت کو کوس رہی تھی جب وہ ادھر آی اوہ نو میں نے ارسہ سے پوچھا کیوں نھی مجھے اس ڈفر کی دعوت پہ نھی آنا تھا مس فریال کیا ہوا کوی مسلہ ہے….¿
مسکراتا آیان اسے زہر لگا….
جی نھی کوی مسلہ نھی دانت پیستی فریال سیدھی اسکے دل میں اتری….
آپ اپنے کھانے کے پیسے خود دے لینا آواز دھیمی تھی مگر فریال کو صاف سنای دی…..
واہ مزا آگیا تھینکیو جگر اذان سب سے پہلے بولا تھا ہاں یار سب مزے کا تھا سب اسکا شکریہ ادا کر رہے تھے…..
آپ کچھ نھی کہے گئیں…..¿
فریال نے چہرہ دوسری طرف کر لیا….. اپنی دوست سے ہی کچھ سیکھے…..
ہاں ایکچولی یو آر رائیٹ آپ ارسہ کے بھای ہیں تو میرے بھی بھای ہوے مجھے ایسے بات نھی کرنی چاھیے تھینکیو سو مچھ آیان بھای….
ہاہاہاہاہاہاہاہاہا سب کے قہقوں پر آیان کی شکل دیکنے والی تھی کیا ہوا آیان بھای بریانی کھاتے کھاتے الائچی تو نھی منہ میں آگی…..¿ فریال نے حساب برابر کیا نھی تیھکی مرچ آگی ہے منہ میں.
ہاہاہا

مزاق سےہٹ کے جگر سب بھت اچھا تھا خرم نے آیان کو تسلی دی…..
اذان کی کسی بات پہ مسکراتی ارسہ خرم کو غصہ دلا گی یک دم کھڑا ہوا اب چلنا چاھیے کافی دیر ہوگی ہے یار بیٹھو ابھی چاے پیتے ہیں….¿
نھی یار کافی دیر ہوگی ہے صرف دو گھنٹے کا ٹائم لے کے آئیں ہیں….
ہاں بلکل اب چلنا چاھیے مجھے بھی گھر جلدی پہچنا ہے ہم نے سرگودھا جانا ہے نانو طرف فریال کو بھی یاد آیا…..
میں بھی چلتا ہوں آیان اپنی بائیک پر آیا تھا….
کیوں جلدی مچا دی ہے مجھے ابھی بازار جانا ہے تھوڑی سی شاپنگ کرنی ہے ارسہ نے دھای دی….
تم نے کونسی شاپنگ کرنی ہے اس وقت…..¿¿
ہیں کچھ ضروری چیزیں….
مگر کوی نی پھر کبھی لے لو گی آج فریال کو جلدی جانا ہے….
کافی دیر سے خاموش بیٹھے آیان کو اچانک یاد آیا کہ اس نے بھی آج گھر جانا کچھ چیزیں دینی ہیں اور سب سے ملنا بھی ہے میں مس فریال کو ڈراپ کر دوں گا تم لوگ جاو اس سے پہلے کے فریال کچھ بولتی خرم بولا چلو یہ ٹھیک ہے یار تم فریال کو بھی ڈراپ کر دو ارسہ کی اگر چیزیں رہ گی اس نے میری جان کھا جانی ہے….
تو چلیں پھر ( تمھارے ہونٹوں کی ہنسی نوچ لوں گا اور آنکھوں میں آنسوں بھر دوں گا ارسہ میرا وعدہ ہے تم سے ) ارسہ کو اکثر اپنے اوپر کسی کی چھبتی ہوی نظروں کا احساس ہوتا تھا مگر کبھی دیکھ نھی پای کہ کون ہے کاش کہ دیکھ پاتی…..
فریال کو بیک ڈور کھولتے دیکھ کے آیان فوراء آگے بڑھا اور فرنٹ ڈور کھولا میم پلیز آگے تشریف رکھے خاکسار آپ کا ڈرائیور نھی ہے آگے بیٹھ کے عزت بخشیے آیان سچ سچ بتاو یہ گھر جانے کا ڈرامہ ابھی ابھی سوچا ہے نا….¿¿
آیان کی مسکراہٹ گہری ہوی تھی اتنا جان گی ہو مجھے کہ دل کی باتیں بھی سمجھنے لگی ہو خوب گزرے گی…………..,…………………………
6⁴
آیان گنگنایا…
ہنننننننن چھچھورا کہیں کا…..
آپ نے کچھ فرمایا…..
جی نھی آگے دیکھ کے گاڑی چلاو
مس فریال آپ ہمیشہ انگارے کیوں چباتی رہتی ہیں کبھی نارمل بات بھی کیا کریں…..¿
آپ ہمیشہ فری ہونے کی کوشش کیوں کرتے ہیں کبھی تو لائن مارنے سے پرہیز کیا کریں….¿
دوبدو جواب حاضر تھا……
اچھا لڑائی چھوڑیں ہم نارمل بات بھی تو کر سکتے ہیں آپ مجھے یہ بتائیں آپ کو نیم کے پکوڑے اور کریلے کے جوس کے علاوہ اور کیا پسند ہیں… ¿
یہ لاعلاج ہے….
آیان بولتا رہا مگر پھر فریال نے کوی جواب نا دیا….گھر کے سامنے گاڑی روکی اٹھ کے ڈور کھولا تھینکس تو کہتی جائیں……¿
اچھا نا کہے اللہ حافظ تو بول دئیں…..¿
جواب ندارد…..
فریال اندر جا چکی تھی…….
آیان بیٹا یہ کدھر پھنس گے ہو یہ محترمہ بھت ٹف ٹائم دینے والی ہیں بالوں میں انگلیاں پھیرتا مسکرایا…
——————————
اچھا بتاو کیا لینا ہے بازار تو پہنچے پھر بتاتی ہوں…..
اچھی للگ رہی ہو….
ہمممممم….
مجھے سمجھ نھی لگتی ارسہ جیسا تم اسکارف لیتی ہو تمھارا رنگ بھی ویسا ہو جاتا سرخ اسکارف میں سرخ….
گلابی لیتی ہو تو بلکل گلابی گڑیا لگتی ہو اور وئٹ اسکارف…. اف میں بتا نھی سکتا وائٹ تم پہ کتنا جچتا یے…..
اچھا بس کرو تمھیں تو بس موقع چاھیے پٹڑی سے اترنے کا……
اوہ ہو کیا ہر وقت تو تڑا کرتی رہتی ہو آیم یور ہسبنڈ شو سم رسپیکٹ ہنی…….
ہسنبنڈ تو ہو پر آدھے ادھورے مجھے ایسے ہی اچھا لگتا ہے مجھ سے نھی ہوتی رسپیکٹ وسپیکٹ…..
کیا آدھا ادھورا اس بات کا کیا مطلب ہے….¿¿
اچھا یعنی ابھی صرف نکاح ہوا ہے اس لیے آدھا ادھورا ہوں کہو تو گاڑی اپنے گھر کی جانب موڑ لوں ابھی رخصتی ہو جاے گی اور پورا پرفیکٹ بن جاوں گا….¿

6⅝
جی نھی میرا وہ مطلب نھی تھا
اچھا تو کیا مطلب ہے…¿
ارسہ چہرے کا رخ موڑ گی ایک تو پتہ نھی مجھے اس شخص سے اتنی شرم کیوں آتی ہے.
خرم کو ارسہ کا یہ شرمایا گھبرایا روپ بھت اچھا لگ رہا تھا…..
اچھا آ گیا بازار کدھر روکو…..¿
بک شاپ کے سامنے…
تم نے اس وقت بکس لینی ہیں….¿
کونسی بکس لینی ہیں…..¿¿
کچھ پوئٹری بکس ہیں کچھ ناولز اور کچھ اسلامی بکس لینی ہیں…..
کیا….¿ کیا کہا تم نے….¿ تم ناولز لینے کے لیے مجھے آدھی رات کو ادھر لے کے آی ہو…¿ آر یو میڈ… میڈیکل کی سٹوڈنٹ ہو اور تم یہ ناولز اور پوئٹری بکس لو گی مجھے تمھاری دماغی حالت پہ شبہ ہو رہا ہے….
اوکے اترو اور دس منٹ میں لو جو کچھ بھی لینا ہے….
مجھے کچھ نھی لینا گھر چلو ڈور کھولتے خرم کے ہوتھ رکے تھے…
نھی لینا مطلب…¿
مجھے کچھ نھی لینا گھر چلو امی ویٹ کر رہی ہو گئیں…
خرم کو اب احساس ہو تھا کہ وہ کچھ زیادہ ہی بول گیا ہے….
بات ختم کرتے ہوے بولا اچھا سوری مجھے تم پر غصہ نھی کرنا چاھیے تھا چلو اٹھو آرام سے بکس لے لو جتنا بھی ٹائم لگتا ہے لگے….
نھی گھر چلو میں نے کچھ نھی لینا پلیز ارسہ اٹھو…..
نھی….
بےشمار اچھائیوں کے ساتھ ارسہ میں صرف ایک خامی تھی ” ضد” اگر ایک بار نہ بول دی تو بس بول دی….
خرم خاموشی سے آکے ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ گیا اسے پتا تھا اب وہ نھی اترے گی خود کو کوس رہا تھا کیا ضرورت تھی بکواس کرنے کی وہ بولتا رہا مگر ارسہ کی چپ نہ ٹوٹی رستے میں ایک بچہ گجرے لے کےکھڑا تھا ارسہ کو چنبلی کی کلیوں سے بنے گجرے بہت پسند تھے خرم نے گجرے لے کے دیے مگر ارسہ نے ہاتھ تک نہ لگایا…..
گھر کے سامنے اترتے ہوے خرم نے اللہ حافظ بولا مگر ارسہ نے چپ کا روزہ نہ توڑا ف یہ لڑکی اب میرے ساتھ کیا کرنے والی ہے…
66
گھر آکے سینکڑوں کالز اور مسجز کیے مگر نو رپلاے…..
ارسہ اب اگر تم نے کال رسیو نہ کی تو بلیو می میں تمھارے گھر آجاوگا…..
خرم کی ٹرک کام کر گی تھی فون رسیو کر لیا پر بولی نھی…..
بول بول کے جب تھک گیا تو خاموش ہوگیا پلیز ارسہ کچھ تو بولو پلیز تھکی تھکی آواز پہ ارسہ کا دل پگھلا تھا تو مجھے ڈانٹا کیوں…¿
تھینک گاڈ تم بولی تو….
دنیا کا سب سے بڑا اڈیٹ ہوں نہ جو تمھیں ڈانٹا یار اب معاف کر دو آئیندہ نھی ڈانٹو گا اور پلیز مجھے وہ بکس کے نام بتا دو میں ناشتا بعد میں کروں گا وہ بکس پہلے لے کے آوں گا…..
ہمممم…… ٹھیک ہے….
اچھا سو جاو اب گڈ نائٹ…
گڈنائیٹ مای لو…..
ارسہ کو اپنی خوش قسمتی پہ بھت ناز تھا میں دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی ہوں کیوں کہ خرم میرا ہے میرے پاس ہے …..
الحمداللہ…..
مگر قسمت دور کھڑی مسکرا رہہی تھی ارسہ بی بی اتنی خوشیاں تو قسمت والوں کو ہی ملتی ہیں…..
——————
فریال واپس آچکی تھی…..
آیان بھی گھر سے ہو آیا تھا…..
ارسہ خرم اذان سب کالج کو لے کے بھت ایکسائیٹڈ تھے ان لوگوں نے بھت محنت کی تھی اور اللہ نے انھیں اجر بھی دیا تھا….
یار ہمارے گھر کے ہی اتنے ڈاکٹر ہو جانے ہم تو بھای اپنا ہسپتال بنا لیں گئیں….
ماشاللہ کہو ارسہ….
ماشاللہء ماشاللہء…..
آج کالج کا فرسٹ ڈے تھا ارسہ خرم اور اذان اکٹھے جا رہے تھے فریال کا میسج آیا تھا کے اسے بھی پک کر لیے گیٹ پہ ہی آیان انکا ویٹ کر رہا تھا…. بلیک پینٹ اورمہرون شرٹ میں وہ نطر لگ جانے کی حد تک پیارہ لگ رہا تھا اتنی لڑای کے باوجود فریال نے دل ہی دل میں ماشاللہء بولا…. اوہ ہو میں اس ڈفر کو ہی کیوں دیکھے جا رہی ہوں..

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/