عالمی ادب

~ راجستھانی ادب میکے کی ہر یاد دلہن کے شب و روز میں بسی رہتی ہے اور اس کے دموں …

~ راجستھانی ادب

میکے کی ہر یاد دلہن کے شب و روز میں بسی رہتی ہے اور اس کے دموں کے سنگ سانس لیتی ہے۔ہر ذرہ ایک سوندھی خوشبو بن کر اس کی زندگی میں مہکتا رہتا ہے۔اس کا دل سسرال کی ہر شے کا موازنہ اپنے میکے کے بندھن سے جوڑتا توڑتا رہتا ہے۔وہ سہیلیاں ، کھیل ، راستے گلیاں ، کھانے، تہوار ، تحفے، جذبے ،رنگ ، وہ گاؤں ، باغ اور پگڈنڈیاں ، رشتے اور ہمسائے اس عورت کی زندگی میں صرف ناسٹلجیا سے بے نام نہیں رہتے بلکہ کبھی کبھی اس سماں کو دوبارہ آنکھوں میں بسانا اس کی متغیر زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن جاتا ہے ۔یہ آرزو اس کی نسوں میں سرایت کر جاتی ہے ۔ اس کی ہنسی اور آنسو اسی چاہت کے تابع ہو کر لہلہاتے اور مرجھاتے رہتے ہیں۔ میکے کا ہر رشتہ اٹوٹ ہوتا ہے مگر ایک بھائی ، جو اپنے گھر میں اپنی بیاہی بہن کے آنے کا ارمان رکھتا ہے اس سا انمول رشتہ زندگی میں کوئی اور نہیں ہوتا۔

__راجستھان کے رن میں بھی یہ جذبہ فطرت انسانی ایسے ہی زندہ رکھے ہے جیسے اس عالم کے دوسرے آثار میں۔راجستھان میں دیہی زندگی اکثر یہ منظر دکھاتی ہے کہ عورت شوہر کے گھر اور جانوروں کی دیکھ بھال میں ایسی کھوتی ہے کہ میکے کی ہر راہ بھول جاتی ہے مگر اس کے قدم اسی پر ہی چلتے رہتے ہیں ، اور آخری سانس تک وہ واپس نہیں جا سکتی۔پانی کی جان لیوا قلت کے سبب پچاس میل کا سفر بھی موت کی مہم بن جاتا ہے اور وہ اپنے زندگی کے ساتھی سے کبھی نہیں کہتی کہ وہ اپنا اونٹ اس کے میکے کی بستی کو موڑے جہاں کسی پھوس کی جھونپڑی میں دو آنکھیں مندنے سے پہلے اس کی راہ دیکھ رہی ہیں۔زیر نظر الفاظ ، ایک خط ہے ایک بھائی کا اپنی بہن کے نام ، ایک دوست کا دوست کے نام ، ایک رشتے کا رشتے کے نام ۔اس بہن کے نام جو دشوار بیابانوں کی کٹھن زندگی سے مجبور دوبارہ اپنے میکے نہیں جا سکی:

"یہاں سب راضی خوشی ہیں۔آگے سماچار یہ ہیں کہ مجھے تو پڑھنا لکھنا آتا نہیں ، اور نہ ہی گاؤں میں کسی کو آتا ہے۔اپنے گاؤں سے دس کوس دور ایک پڑھے لکھے آدمی سے لکھوا کر تجھے یہ کاغذ بھیجا ہے۔سار آنے اس نے یہ کاغذ لکھنے کے واسطے لیے۔
تو چلی گئی ، مگر اب گاؤں میں کہیں من ہی نہیں لگتا۔تیرے جانے کے بعد بھی میں نے تالاب میں دو بھینسوں کی پونچھ باندھی مگر ہنسی آئی ہی نہیں۔برہمن کی دکان سے میٹھی گولیاں چرائیں مگر۔۔۔کھائی ایک بھی نہیں۔عرصہ ہو گیا تجھے دیکھے ، جب بھی گاؤں میں کسی کی بہن کے آنے کی خبر آتی ہے میں بھاگا ہوا سڑک تک جاتا ہوں … یہ جانتے ہوئے بھی کہ تو نہیں آئے گی۔
مگر اب کی بار اگر تو سچ میں آئی تو تجھے جانے نہیں دوں گا ".


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3880177625546075

Related Articles

2 Comments

  1. مجھے اتنا رونا آیا بہت مشکل سے آنسو روکےلیکن رو ھی پڑی۔حالانکہ میں ھر سال کوئٹہ جاتی تھی اپنے میکے۔

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/