عالمی ادب

کتاب: گھاس کی پتیاں (leaves of grass) شاعر:والٹ وٹمن/مترجم: قیوم نظر تاثرات: اق…

کتاب: گھاس کی پتیاں (leaves of grass)
شاعر:والٹ وٹمن/مترجم: قیوم نظر
تاثرات: اقصٰی گیلانی

والٹ وٹمن 1819 میں امریکی شہر نیویارک کے ایک غریب مستری کے گھر پیدا ہوا۔ نو بہن بھائیوں میں اس کا دوسرا نمبر تھا۔ وہ صرف چار پانچ برس ہی سکول جا پایا اور فقط گیارہ برس کی عمر میں تعلیم چھوڑ کر پہلے باپ کے ساتھ مزدوری کرنے لگا اور پھر طباعت اور صحافت میں رزق تلاش کرتا رہا۔ اسے اپنے وطن سے بے حد محبت تھی یہاں تک کہ امریکہ کی خانہ جنگی کے دنوں وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کا جوکھم بھرا کام کرتا رہا۔
تیس برس کی عمر میں وٹمن کے من میں شاعری کا شوق پیدا ہوا اور روائتی عروض اور مروجہ بحروں سے بغاوت کرتے ہوئے اس نے نثری نظمیں لکھیں اور Father of Free Verse کہلایا۔
1855 میں اپنا گھر بیچ کر اس نے اپنی نظموں کا پہلا مجموعہ Leaves of Grass شائع کروایا۔ 1960 میں Calamus کے نام سے دوسرا مجموعہ چھپا۔
والٹ وٹمن اپنی شاعری میں ایک ایسے سیاح کے روپ میں نظر آتا ہے جو اپنے وطن کی گلیوں میں گیت گنگناتا اور جمہوریت و مساوات کے خواب دیکھتا گھوم رہا ہو۔
زیرِ نظر کتاب "گھاس کی پتیاں” والٹ وٹمن کی منتخب نظموں کا اردو ترجمہ ہے جسے مجلسِ ترقی ادب لاہور نے شائع کیا ہے۔ کتاب کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ سر سید احمد خاں کے رسالے کی طرح ایک طرف انگریزی اور دوسری طرف اردو درج ہے۔ وہ لوگ جن کی انگریزی میری طرح اتنی اچھی نہیں کہ انگریزی شاعری سے لطف اندوز ہو سکیں ان کے لیے یہ کتاب کافی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
ترجمے کی بات کی جائے تو قیوم نظر صاحب نے بہت شاندار ترجمہ کیا ہے لیکن مجھے یہ دیکھ کر شدید حیرت ہوئی کہ ایک شاعر جس نے اوزان اور عروض استعمال نہیں کیے اور جانا ہی بابائے نثری نظم کے طور پر جاتا ہے مترجم کو اس کی شاعری کا عروضی ترجمہ کیوں کرنا پڑا؟ شاید مترجم کے لیے ممکن نہ تھا کہ ترجمہ بیک وقت غیر عروضی بھی ہو اور شعریت کا حامل بھی۔ پڑھتے ہوئے بارہا یہ محسوس ہوا کہ اگر یہ نثری ترجمہ ہوتا تو زیادہ بہتر ہو سکتا تھا۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3866009390296232

Related Articles

4 Comments

  1. "Whitman’s poems about the joys of life contain references to sexual relationships, including same-sex relationships, ” (https://www.washingtonpost.com/history/2022/04/30/walt-whitman-leaves-grass-interior-department/)

    "In 1870, Yale University President Noah Porter compared Whitman’s offense in writing Leaves of Grass to that of "walking naked through the streets.” With the single known exception of the Library Company of Philadelphia, libraries refused to buy the book, and the poem was legally banned in Boston in the 1880s and informally banned elsewhere.” (https://explore.lib.virginia.edu/exhibits/show/censored/walkthrough/bowdlerized#:~:text=In%201870%2C%20Yale%20University%20President,Boston%20in%20the%201880s%20and)

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/