کشمیر ، کابل اور محمود درویش!

رانامحبوب ا ختر
کشمیریوں کے جسموں میں کیل پیوست ہیں۔ خون رستا ہے۔ سب روتے ہیں، ماتم کرتے ہیں مگر کوئی زمینی خدا کشمیر کواس کا حق دلوانے کو تیار نہیں ہے۔ہندوستان میں تاریخ کی پہلی باقاعدہ کتاب کشمیری پنڈت، کلہنا کی ”راج ترنگنی“ہے۔ فردوسی کا شاہنامہ ایران کی منظوم مگر اساطیری تاریخ ہے جبکہ کلہنا نے کشمیر کی منظوم تاریخ لکھتے ہوئے ویدوں اور پرانوں کے علاوہ سکوں کی سائنسی گواہی پہ انحصار کیا ہے۔راج ترنگنی کا مطلب ”راجوں کا دریا“ہے۔جنت نظیر کشمیر کے نظارے، چناروں کا حسن اور وازوانوں کے ذائقے پوری انسانیت کا ورثہ ہیں۔نریندرا مودی اور آر ایس ایس کشمیر کی تاریخ اور ثقافت کو مسخ کر رہے ہیں اور کشمیر کی demographyکو تبدیل کرنے کے درپے ہیں۔آرٹیکل 370 Aکے خاتمے کے بعد کشمیر بے رونق ہے۔دنیا کے اجتماعی ضمیر کو دہائی ہے کہ اگر کشمیر کا کلچر بدلا تو دنیا غریب تر ہو جائے گی۔
کشمیر ، کابل اور قابیل کی صوتی مماثلت میں سے قتل کی بو آتی ہے۔ کشمیر کا ”کا“سنسکرت میں پانی اور شمیر کاٹنا ہے۔ کابل، ترکی لفظ قبول اور قابیل، کسان سے ہے۔ کابل کے شمال میں کچھ عرصہ قبل قابیل کی روایت دہرائی گئی۔ گدھے کے مسجد میں گھسنے پر مسجد میں موجود افراد نے گدھے کو گولی مار دی۔خدا کی مسجد سی زمین پر بہت سے گدھے رہتے ہیں مگر مالک انھیں کچھ نہیں کہتا۔انسان زمین پر خدا کا خلیفہ ہے اور اصلی مالک سے زیادہ مالک بننے کے زعم میں رہتا ہے۔یہ تقدیس کا رکھوالا ہے۔گدھے کو مسجد کا تقدس مجروح کرنے پر ہلاک کیا گیا تو گدھے کے مالک نے تیرہ نمازیوں کو قتل کر دیا۔نمازیوں کا ایک قبیلہ تھا۔انھوں نے گدھے کے متعلقین کے قبیلے پر میزائلوں سے حملہ کیا اور 33خواتین سمیت کئی لوگوں کو ہلاک کر دیا۔ مجموعی طور پر ایک گدھا 51اشرف انسانوں کی جانیں لے گیا۔ہم نے ایک دوست سے اس خبر کے جھوٹے ہونے پر اصرار کیا تو اس نے پرانا اک تراشہ بھیج دیا۔اور ہم کابل اور قابیل کی صوتی مماثلت سے قطع نظر انسان کی قتل کرنے کی عادت پہ حیرت زدہ ہیں!
آدم میں چھپا آدمی جنت میں رہتا تھا۔حوا زندگی تھیں۔زندگی کی شاخ پر سانپ کِھلا تو آدم زمین پہ آ گیا۔جبلت بھی ساتھ تھی۔ہابیل اور قابیل آدم و حوا کی اولاد تھے۔ جسموں کے اندر سانپوں کے گھر تھے۔قابیل کسان اور ہابیل گلہ بان تھے۔ دونوں قربانی کرتے تھے۔ قابیل اناج اور ہابیل جانور قربان کرتے تھے۔ یہودیوں کے خدا کو ہابیل کی قربانی پسند آئی تو قابیل آزردہ ہوا اور غصے میں ہابیل کو قتل کر دیا تھا۔ایک فلسفی نے کہا کہ یہ زمیندار کے ہاتھوںچرواہے کا قتل تھا ۔زراعت کے عہد کا عہدِشکار پر فتح کا علامتی اور مخفی اعلان تھا!
جبلت کی تہذیب کو صحیفے اترے تھے۔رفتہ رفتہ کچھ ابدی اصول categorical imperativeبن گئے۔ان میں سے ایک اصول یہ تھا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔جمہوریت نے مذاہب کے دئیے گئے ابدی اخلاقی اصولوں کو دھیرے دھیرے نئے jargonمیں باندھ کر ریاستی قوانین سے بدلا اور قتل کرنے کی ذمہ داری ریاست کو دے دی۔ اسے تشدد پر ریاست کی اجارہ داری کہتے ہیں۔گلوبل دنیا میں کوئی بھی نظام ہو تشدد پر ریاست کے اختیار پر سب متفق ہیں۔روسو نے کہا کہ ریاست طاقتور طبقوں کے مفادات کو تحفظ دینے کے لئے وجود میں آئی ہے۔جاگیردار اور بادشاہ زمین پر زندگی حرام کرتے رہے کہ وہ ریاست کی ضرورت تھے۔اکثر قاتل اور قبضہ گیر تھے۔پھر یہ کام سرمایہ دار کرنے لگے۔یورپ میں علم اور بادشاہ کو پادری کتابِ مقدس سے کنٹرول کرتے تھا۔غلامی جائز تھی ۔غربت کی تقدیس تھی۔غریب کے لئے زمین پر زندگی جہنم بنا کر پادری نے آسمانوں میں بہتات کی جنت آباد کی تھی۔غریب زمین پر مزدور اور غلام یا جنگ لڑنے والا سپاہی تھا جو جان ہتھیلی پہ رکھے نگر نگر مہم جو بادشاہوں کے لئے لڑتا پھرتا تھا۔یورپ میں جدیدیت کی ابتدا میں کتاب پرنٹنگ پریس کے ہاتھ لگ گئی اور پادری کے قبضے سے آزاد ہو کر جمہوری ہو گئی ۔علم جمہور کی میراث بنا تو علم پر پادری کا قبضہ ختم ہو گیا۔
انسان عہد_شکار اور زرعی سماج سے نکل کر تیسرے تاریخی اور انقلاب آفریں صنعتی دور میں داخل ہو گیا۔آزادی ، مساوات اور اخوت کے وہ خواب جو عرب کے صحرا سے اٹھے تھے پیرس کے گلی کوچوں میں انقلاب ِ فرانس بن گئے۔ترقی اور مشین نے مگر سامراج کو جنم دیا اور ایک دنیا یورپ کی غلام بن گئی۔فرد کی جگہ اب قومیں اجتماعی غلامی میں آ گئیں۔ قابیل اب سامراجی استعمار تھا۔ قتل اور قبضہ کرتا تھا۔سرمائے کی جدلیات میں ، نسل پرستی ، لوبھ اور قبضہ گیری ہے۔نسل پرست ہٹلر اور مسولینی نئے قبضہ گیر تھے۔ پرانے قبضہ گیروں نے اتحاد بنا کر ان کو مات دے دی۔کروڑوں لوگ قتل ہو گئے۔جنگ کے بعد امریکہ سرمایہ داری کا نیا امام تھا۔صنعت، سرمائے اور اطلاعاتی چکا چوند میں قابیل کی کاروائیوں کو جمہوریت اور اخلاقیات کا نام دیا گیا۔پاپائے روم نے غربت کے تقدس کے گن گائے اور سامراج ایک reverse techniqueغربت مٹانے کا نعرہ لگا کر غربت کو دوام دیتا ہے۔بھوک اور کبھی بندوق سے غریبوں کو قتل کرتا ہے۔سامراجی سوچ اور برہمن ازم جو پاپائیت کا مقامی نام ہے ، اتنا طاقتور ہے کہ چائے بیچنے والا نریندرا مودی غریب اور مظلوم طبقات کی حمایت اور ہمدردی کی بجائے انھیں قتل کرتا ہے۔ایک برہمچاری کشمیر کی demography تبدیل کرنے کا ہٹلر جیسا خواب دیکھتا ہے۔کشمیر کو اسرائیل کی آنکھ سے ہے۔
محمود درویش فلسطین کے قومی شاعر ہیں اور طاقتور عرب شاعری کی روایت کا بڑا نام۔ان کی کچھ نظموں کا خوب صورت ترجمہ انور سن رائے نے ”جغرافیے کے معتوب“کے نام سے کیا ہے۔محمود درویش کی ایک طویل نظم کی منتخب سطور جبلت اور جغرافیے کے جبر کا شکار کشمیریوں اور افغانوں کے نام، موت کاجن کے گھروں میں مستقل قیام ہے۔ہم محمود درویش کے ساتھ مل کر کشمیریوں اور افغانوں کے لئے پر امن زندگی کی دعا کرتے ہیں!
میرے دوستو !
مت مرو اس طرح جس طرح تم مرتے جا رہے ہو
رک جاو میرے لئے ایک سال
ایک سال، صرف ایک سال اور
شاید ہم ان مکالموں کو مکمل کر لیں
جنھیں ہم نے شروع کیا ہے
میرے دوستو!مت مرو،
گلاب کے اس پھول کو دیکھنے سے پہلے
جو کھلے گا صرف تمھارے لئے….
میرے معروف سورماو! میرے دوستو !….
تم نہیں ہوگے تو میں کیا کروں گا
کیا کروں گا میں آخری تدفین کے بعد
کس طرح محبت کروں گا اس زمین سے
جو مجھ سے چھین لیتی ہے تمھیں….
کیونکہ میں نہیں ہو سکتا اب مزید سوگوار….
مت مرو ، مت مرو
اس صحرا کا کوئی پھول
تمھارے خون سے قیمتی نہیں
مت مرو!میرا انتظار کرو ایک سال
اس دوران میں اپنی سوگوار ماں کے پاس جاوں گا اور ہمت کر کے اسے کہوں گا
پھر پیدا کرو مجھے، ایک بار
تاکہ میں شروع ہی سے محبت کی ابتدا کر سکوں!!
(کالم نگارقومی وبین الاقوامی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭
بشکریہ