#سونی ماہیوال #قسط 2 عزت بیگ کی تربیت بڑے لاڈ …

#قسط 2
عزت بیگ کی تربیت بڑے لاڈ پیار سے ہونے لگی‘مرزا عالی کے پاس دولت کی ریل پیل تھی، اس لیے اس کی تربیت اور دیکھ بھال میں کسی قسم کی کمی نہ کی گئی۔ اس کے چاروں طرف خدمت گار موجود تھے جو ہر وقت خدمت کے لیے تیار رہتے تھے اور یوں اس کی پرورش بڑے چائو سے ہونے لگی۔ پھر جب وہ ذرا بڑا ہوا تو اس کے لیے استاد مقرر کردیا گیا جو اسے اس وقت کے رائج علوم کی تعلیم دینے لگا۔ ایک تو عزت بیگ امیر باپ کا بیٹا تھا‘ دوسرا وہ بہت خوبصورت تھا اور اس پر بلا کا ذہین بھی تھا‘ اس لیے ہر شخص اس سے پیار کرتا تھا۔ جس کو دیکھو‘ اس کی ذہانت اور عقلمندی کی تعریف کرتا نظرآتا تھا۔ جب وہ نوعمری کی منزل میں داخل ہوا تو مرزا عالی نے اسے گھڑ سواری‘ نیزہ بازی اور سپہ گری کی تربیت دلانے کا بندوبست بھی کردیا اور بہت جلد عزت بیگ فن سپہ گری میں اس قدر ماہر ہوگیا کہ شہر کے نوجوانوں میں اس کا چرچا ہونے لگا۔ اس وقت وہ بھرپور نوجوان تھا اور اسے دنیا کے حالات معلوم کرنے کا بہت شوق تھا۔ جو لوگ اس کے باپ کا سامان تجارت لے کر ملکوں ملکوں جاتے تھے‘ وہ جب واپس آتے تو عزت بیگ ان سے دیس دیس کے حالات معلوم کرتا اور نئے نئے قصے کہانیاں سنتا۔ ان دیکھے ملکوں کے سفر کے واقعات سن سن کر اس کے دل میں دنیا دیکھنے کا شوق اور بڑھ جاتا۔ وہ اپنے دل میں سوچتا‘ مجھے بھی تجارتی قافلے کے ساتھ جانا چاہیے مگر باپ کی حد سے زیادہ محبت اس کی رکاوٹ بن جاتی۔ خاص طور پر اسے دہلی شہر دیکھنے کا بڑا اشتیاق تھا کیونکہ اس نے اس کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ آخر ایک روز جب وہ اپنے باپ کے پاس بیٹھا ادھر ادھر کی باتیں کررہا تھا تو اس نے موقع دیکھ کر کہا۔
’’اباجان! میں چاہتا ہوں کہ سوداگری کے کاروبار میں حصہ لوں۔‘‘
باپ نے یہ سناتو کچھ گھبرا سا گیا کیونکہ اسے خدا رسیدہ بزرگ کا کہنا اچھی طرح یاد تھا۔ وہ بولا۔
’’نہیں بیٹا… تجارت کرنے کے لیے ملازم بہتیرے ہیں۔ تمہیں سفر کی مشکلات میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
باپ کے اس جواب پر عزت بیگ نے کہا۔
’’اب میں جوان ہوچکا ہوں… میں چاہتا ہوں کہ آپ کے کاروبار میں شامل ہوکر اس کی اونچ نیچ سے واقفیت حاصل کروں۔‘‘
اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے دل کی بات بھی کہہ دی۔
’’ابا جان مجھے دہلی شہر دیکھنے کا بہت شوق ہے۔ میں نے اس شہر کی بڑی تعریفیں سنی ہیں۔‘‘
باپ اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔
’’بیٹا! دہلی کوئی دو تین منزلوں کے فاصلے پر تو نہیں ہے جو تم جلدی سے دیکھ آئوگے۔ وہ یہاں سے بہت دور ہے اور اس کے لیے تمہیں بہت لمبا سفر کرنا پڑے گا۔ تمہیں معلوم نہیں کہ سفر میں کتنی مشکلات پیش آتی ہیں۔‘‘
مرزا عالی نہیں چاہتا تھا کہ بیٹے کو اتنے لمبے سفر پر بھیجے لیکن جب عزت بیگ نے بہت زیادہ اصرار کیا تو اپنے دل میں سوچنے لگا‘ آج نہیں تو کل‘ آخر کو یہ سارا کاروبار اسی کو سنبھالنا ہے‘ اس لیے بہتر ہے میرے جیتے جی اسے مکمل معلومات حاصل ہوجائیں۔ پھر یہ بھی تھا کہ عزت بیگ قافلے کے ساتھ جانے کی ضد پر اڑا ہوا تھا چنانچہ اس نے اسے سفر کی اجازت دیتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے…اس بار تم بھی مال تجارت کے ساتھ چلے جانا مگر یاد رکھو‘ تمہیں جلد سے جلد واپس آنا ہوگا؟‘‘
اس پر عزت بیگ باپ کو یقین دلاتے ہوئے بولا۔
’’آپ مطمئن رہیں۔ میں ضرورت سے زیادہ ایک دن بھی کہیں نہیں ٹھہروں گا۔‘‘
اس طرح باپ سے سفر کی اجازت ملنے پر عزت بیگ بہت خوش تھا کہ اب وہ دہلی شہر دیکھ سکے گا جس کے بارے میں اس نے بہت کچھ سن رکھا تھا۔ وہاں کی بڑی بڑی عمارتیں، بلند وبالا مینار، چوڑی سڑکیں اور طرح طرح کے لوگ۔ پھر یہ بھی تھا کہ بلخ میں دہلی کی شہرت پہلے سے تھی، مغلوں کی فوجیں ایک بار بلخ تک پہنچ گئی تھیں مگر پایہ تخت دہلی سے بہت زیادہ دور اور پہاڑیوں، ندیوں کی وجہ سے دشوار گزار راستے ہونے کے سبب مغلوں کی گرفت قائم نہ رہ سکی تھی البتہ وہاں دارالحکومت دہلی کا چرچا ابھی تک تھا۔ مرزا عالی کے جو لوگ سامان تجارت لے کر دہلی تک جاتے تھے، ان کی زبانی نئی نئی کہانیاں اور واقعات سنے سنائے جاتے تھے اور یہی کہانیاں قصے سن سن کر عزت بیگ کے دل میں دہلی دیکھنے اور گھومنے کا شوق جاگا تھا۔ اب جب کہ اس کے باپ نے اسے وہاں جانے کی اجازت دے دی تھی تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا۔لہٰذا اس بار جب تجارتی قافلہ جانے کے لیے تیار ہوا تو عزت بیگ بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس نے باپ سے کہا۔ اباجان! آپ بے فکر رہیں، میں بہت جلد لوٹ آئوں گا۔ اس نے اپنی ماں کو بھی تسلی دی۔
صرف چند روز کی بات ہے ماں۔ میں پھر آپ کے قدموں میں ہوں گا۔‘‘
اس طرح وہ اپنے باپ اور ماں، دونوں سے اجازت لے کر تجارتی قافلے میں شامل ہوگیا جو قسم قسم کا سامان تجارت لے کر دہلی تک جا رہا تھا۔ اس قافلے میں بہت سے لوگ تھے جو اونٹوں اور گھوڑوں پر تجارتی سازوسامان لادے ہوئے تھے۔ چونکہ راستے میں قافلہ لوٹنے والے لٹیروں اور ڈاکوئوں کا خطرہ بھی ہوتاتھا، اس لیے کئی مسلح لوگ بھی ساتھ تھے جو قافلے والوں کی حفاظت پر مامور تھے۔ جن دنوں یہ قافلہ جا رہا تھا، اس زمانے میں مغل بادشاہ شاہ جہاں کی سالگرہ کاجشن قریب تھا، اس لیے ان کی کوشش تھی کہ جلد سے جلد دہلی پہنچ جائیں۔ اس موقع پر سامان تجارت کم سے کم وقت میں فروخت ہونے کی توقع تھی کیونکہ جشن میں شریک ہونے اور اسے دیکھنے کے لیے دور دور سے لوگ آئے تھے۔ قافلے میں بعض ایسے تجربہ کار افراد بھی شامل تھے جو اس سے پہلے کئی بار دہلی جاچکے تھے، انہوں نے عزت بیگ کو مشورہ دیاکہ ’’ہمیں جاتے میں لاہور، گجرات اور دوسرے شہروں میں کہیں رکنا نہیں چاہیے تاکہ ہم یقینی طور پر جشن کے موقع پر دہلی پہنچ جائیں۔ راستے میں جو شہر دیکھنے کے ہیں، وہ واپسی پر دیکھے جاسکتے ہیں۔‘‘
(جاری ہے)


