منتخب غزلیں
گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے ہم ساتھ کے …
گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے
ہم ساتھ کے قبیلوں میں ضم کر دیے گئے
پہلے نصاب عدل ہوا ہم سے انتساب
پھر یوں ہوا کہ قتل بھی ہم کر دیے گئے
پہلے لہولہان کیا ہم کو شہر نے
پھر پیرہن ہمارے علم کر دیے گئے
ہر دور میں رہا یہی آئین منصفی
جو سر نہ جھک سکے وہ قلم کر دیے گئے
تشنہ جو لفظ مصلحتاً ہم نہ کہہ سکے
دیوار وقت پر وہ رقم کر دیے گئے
(عالمتاب تشنہ)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

