منتخب غزلیں

23؍دسمبر 1933 پاکستان کے نمایاں ترین شاعر اور مقبو…

23؍دسمبر 1933
پاکستان کے نمایاں ترین شاعر اور مقبول نعت خواں مظفرؔ وارثی کا یومِ ولادت
(ولادت: 23 دسمبر 1933ء – وفات 28 جنوری 2011ء)
——
منتخب کلام
——
حمدِ باری تعالیٰ
——
کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
دکھائی بھی جو نہ دے ، نظر بھی جو آرہا ہے وہی خدا ہے
تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں ، وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں
جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے ، وہی خدا ہے
وہی ہے مشرق وہی ہے مغرب ، سفر کریں سب اُسی کی جانب
ہر آئینے میں جو عکس اپنا دکھا رہا ہے ، وہی خدا ہے
کسی کو سوچوں نے کب سراہا ، وہی ہوا جو خدا نے چاہا
جو اختیارِ بشر پہ پہرے بٹھا رہا ہے ، وہی خدا ہے
نظر بھی رکھے ،سماعتیں بھی ، وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی
جو خانہء لاشعور میں جگمگا رہا ہے ، وہی خدا ہے
کسی کو تاجِ وقار بخشے ، کسی کو ذلت کے غار بخشے
جو سب کے ماتھے پہ مہرِ قدرت لگا رہا ہے ، وہی خدا ہے
سفید اُس کا سیاہ اُس کا ، نفس نفس ہے گواہ اُس کا
جو شعلہء جاں جلا رہا ہے ، بُجھا رہا ہے ، وہی خدا ہے
——
میرا پیمبر عظیم تر ہے
کمالِ خلاق ذات اُس کی
جمالِ ہستی حیات اُس کی
بشر نہیں ، عظمتِ بشر ہے
میرا پیمبر عظیم تر ہے
وہ شرحِ احکامِ حق تعالیٰ
وہ خود ہی قانون ، خود حوالہ
وہ خود ہی قرآن ، خود ہی قاری
وہ آپ مہتاب ، آپ ہالہ
وہ عکس بھی اور آیئنہ بھی
وہ نقطہ بھی ، خط بھی دائرہ بھی
وہ خود نظارا ہے ، خود نظر ہے
میرا پیمبر عظیم تر ہے
——
خود اپنے خون سے ڈھانپی ہے برہنگی اپنی
قبا ملی ہے ، بدن تار تار کرنے سے
——
فکر کی لاش پر کھڑے ہو کر
راہِ امکاں تلاش کرتے ہیں
سربریدہ بدن ہیں ہم گویا
پورا انساں تلاش کرتے ہیں
——
چند لمحات کی درستی سے
عمر بھر کا بگاڑ اچھا ہے
کسی اوچھے سے رائی مانگنے سے
مفلسی کا پہاڑ اچھا ہے
——
سفرِ ذات پر میں نکلا تھا
مل گئی کائنات رستے میں
مجھ کو منزل وصول کیا کرتی
خرچ کر دی حیات رستے میں
——
حالِ دل اپنا ، خیریت اپنی
کب کوئی خیر خواہ پوچھتا ہے
یوں بسر کر رہے ہیں ہم جیسے
اندھا اندھے سے راہ پوچھتا ہے
——
زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں
شوق جینے کا ہے مجھ کو مگر اتنا بھی نہیں
——
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے
——
پہلے رگ رگ سے مری خون نچوڑا اس نے
اب یہ کہتا ہے کہ رنگت ہی مری پیلی ہے
——
وعدہ معاوضے کا نہ کرتا اگر خدا
خیرات بھی سخی سے نہ ملتی فقیر کو
——
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے
اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے
سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرح
اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے
جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا
سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے
شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس
بولتا جہل ہے بد نام خرد ہوتی ہے
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے
——
ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا
دیوار سے بھونچال کو روکا نہیں جاتا
دعووں کی ترازو میں تو عظمت نہیں تلتی
فیتے سے تو کردار کو ناپا نہیں جاتا
فرمان سے پیڑوں پہ کبھی پھل نہیں لگتے
تلوار سے موسم کوئی بدلا نہیں جاتا
چور اپنے گھروں میں تو نہیں نقب لگاتے
اپنی ہی کمائی کو تو لوٹا نہیں جاتا
اوروں کے خیالات کی لیتے ہیں تلاشی
اور اپنے گریبان میں جھانکا نہیں جاتا
فولاد سے فولاد تو کٹ سکتا ہے لیکن
قانون سے قانون کو بدلا نہیں جاتا
ظلمت کو گھٹا کہنے سے بارش نہیں ہوتی
شعلوں کو ہواؤں سے تو ڈھانپا نہیں جاتا
طوفان میں ہو ناؤ تو کچھ صبر بھی آ جائے
ساحل پہ کھڑے ہو کے تو ڈوبا نہیں جاتا
دریا کے کنارے تو پہنچ جاتے ہیں پیاسے
پیاسوں کے گھروں تک کوئی دریا نہیں جاتا
اللہ جسے چاہے اسے ملتی ہے مظفرؔ
عزت کو دکانوں سے خریدا نہیں جاتا
——
مانا کہ مشت خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں میں
لیکن ہوا کے رحم و کرم پر نہیں ہوں میں
انسان ہوں دھڑکتے ہوئے دل پہ ہاتھ رکھ
یوں ڈوب کر نہ دیکھ سمندر نہیں ہوں میں
چہرے پہ مل رہا ہوں سیاہی نصیب کی
آئینہ ہاتھ میں ہے سکندر نہیں ہوں میں
وہ لہر ہوں جو پیاس بجھائے زمین کی
چمکے جو آسماں پہ وہ پتھر نہیں ہوں میں
غالبؔ تری زمین میں لکھی تو ہے غزل
تیرے قد سخن کے برابر نہیں ہوں میں
لفظوں نے پی لیا ہے مظفرؔ مرا لہو
ہنگامہ صدا ہوں سخن ور نہیں ہوں میں
———-
تیری جھلک نگاہ کے ہر زاویے میں ہے
دیکھوں تو شکل اپنی مرے آئنے میں ہے
لٹکی ہوئی ہے روح کی سولی پہ زندگی
سانسوں کا سلسلہ ہے کہ رسی گلے میں ہے
کانٹوں کی پیاس نے مجھے کھینچا برہنہ پا
جیسے بھری سبیل ہر اک آبلے میں ہے
سانسوں کی اوٹ لے کے چلا ہوں چراغ دل
سینے میں جو نہیں وہ گھٹن راستے میں ہے
میری صدا کے پھول چڑھاتے ہیں مجھ پہ لوگ
زندہ تو ہوں مگر مرا فن مقبرے میں ہے
ڈالوں کہاں پڑاؤ کہ رستے بھی ہیں رواں
منزل کہاں ملے کہ وہ خود قافلے میں ہے
میں تجھ کو چاہتا ہوں گو حاصل نہ کر سکوں
لذت وہ قرب میں کہاں جو فاصلے میں ہے
پایا صلہ یہ تجھ کو مظفرؔ نے ڈھونڈ کر
شامل اب اس کا نام بھی تیرے پتے میں ہے
——
کربلا
لبوں پہ الفاظ ہیں کہ پیاسوں کا قافلہ ہے
نمی ہے یہ یا فرات آنکھوں سے بہہ رہی ہے
حیات آنکھوں سے بہہ رہی ہے
سپاہ فسق و فجور یلغار کر رہی ہے
دلوں کو مسمار کر رہی ہے
لہو لہو ہیں ہماری سوچیں
برہنہ سر ہے حیا تمنائیں بال نوچیں
وفا کے بازو کٹے ہوئے ہیں
ہلاکتوں کے غبار سے زندگی کے میداں پٹے ہوئے ہیں
دھواں ہر اک خیمۂ صدا سے نکل رہا ہے
ہر ایک اندر سے جل رہا ہے
ریا کے نیزوں پہ آج سچائیوں کے سر ہیں
یزیدیت کے اصول اپنے عروج پر ہیں
بڑی ہی ظالم ہے حق پسندی کو چین لینے نہ دے یہ دنیا
ہمیں تو کوفہ لگے یہ دنیا
قدم قدم آزمائشوں کی فضا ملی ہے
ہمیں تو ہر دور میں نئی کربلا ملی ہے
——


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/