منتخب غزلیں

ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا پھر اس کے بعد…

ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا
پھر اس کے بعد مرا شہسوار ابھرے گا

سفینہ ڈوبا نہیں ہے نظر سے اوجھل ہے
مجھے یقین ہے پھر ایک بار ابھرے گا

پڑی بھی رہنے دو ماضی پر مصلحت کی راکھ
کریدنے سے فقط انتشار ابھرے گا

ہمارے عہد میں شرط شناوری ہے یہی
ہے ڈوبنے پہ جسے اختیار ابھرے گا

شبِ سیہ کا مقدر شکست ہے مُحسن
درِ افق سے پھر انجم شکار ابھرے گا

محسن بھوپالی

از:-کلیاتِ محسن بھوپالی ص ۸۸۹/۸۹۰

انتخاب
سفیدپوش


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/