منتخب غزلیں

کافی دنوں جیا ہوں کسی دوست کے بغیر اب تم بھی ساتھ …

کافی دنوں جیا ہوں کسی دوست کے بغیر
اب تم بھی ساتھ چھوڑنے کو کہہ رہے ہو ، خیر

کب سے ترے دیار میں ہوں میں ترے بغیر
مجھ سے ہے آسماں کو خدا واسطے کا بیر

’’ یوں زندگی گزار رہا ہوں ترے بغیر ‘‘
جیسے کرے خزاں میں کوئی گلستاں کی سیر

باندھو صفحیں نمازِ جماعت کے واسطے
میں کون اے شیوخِ حرم پیش امامِ دیر

جاتے ہیں داغ صحبتِ شب کا لیے ہوئے
اچھا ، جو ہو سکا تو کل آئیں گے ، شب بخیر

عقبٰی کی زندگی کا خدا حافظ اے ندیم
ہم تو منا رہے ہیں اسی زندگی کی خیر

تاحال ہو سکے نہ ہم آہنگ سازِ دہر
کانوں میں آرہی ہے ابھی اک صدائے غیر

اخلاقِ طبع یار تجھے ماننا پڑا
ملنا اُسی تپاک سے وہ خویش ہوں کہ غیر

جو بھی نگاہ اُٹھتی ہے وہ میکدہ بدوش
اے نرگسِ سیاہ تری نیتیں بخیر

تقدیرِ حسن و عشق جدائی ہے ، الوداع
ہے زندگی اگر تو کبھی پھر ملیں گے خیر

راہیں پکارتی ہیں کہ صاحب پرے پرے
شعلے بچھے ہوئے ہیں دلوں کے بچا کے پیر

اس قرب سے تو دردِ فراق اور بڑھ گیا
’’ گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر ‘‘

فراق گورکھپوری

از:-کلیاتِ فراق گورکھپوری ص ۲۹۸/۲۹۹

انتخاب
سفیدپوش


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/