منتخب غزلیں
کہیں ایک معصوم نازک سی لڑکی مرے ذکر پر جھینپ جاتی …
کہیں ایک معصوم نازک سی لڑکی مرے ذکر پر جھینپ جاتی تو ہو گی
حیا بار آنکھوں میں سپنے سجائے وہ کچھ سوچ کر مسکراتی تو ہو گی
مرے شعر پڑھ کر اکیلے میں اکثر انہیں زیرِ لب گنگناتی تو ہو گی
مرے نام پھر کچھ وہ لکھنے کی خاطر قلم بے ارادہ اٹھاتی تو ہو گی
حَسیں چاندنی ہو یا ساون کی رُت ہو کسک اس کے دل میں جگاتی تو ہو گی
کسی کے تصور کو پہلُو میں پا کر وہ شرما کے خود کسمساتی تو ہو گی
مجھے پا کے بزمِ تصور میں تنہا وہ پلکوں کی چلمن گراتی تو ہو گی
بڑے پیار سے پھر بہت ہی لگن سے وہ خوابوں کی دنیا سجاتی تو ہو گی
… More

