عالمی ادب

چمکارا رسکن بانڈ ۔۔۔۔ اینگلو انڈین ترجمہ ۔۔۔۔۔ …

چمکارا
رسکن بانڈ ۔۔۔۔ اینگلو انڈین
ترجمہ ۔۔۔۔۔ فائزہ صدیقی
ایک درندے کا قصہ ، وہ آدمی پہچانتا تھا ۔۔۔ شکیل عادل زادہ

دادا جان کو ایک شکاری مہم کے دوران دہرہ دون کے قریب ترائ کے جنگلوں میں شیر کا ایک بچہ لا وارث ملا تھا ۔۔۔ دادا جان دہرہ دون میں رہتے تھے انہیں وہاں کے جنگلوں سے پوری واقفیت تھی ، اس لئے اکثر شکار پارٹیاں انہیں اپنے ساتھ لے جاتی تھیں ۔
ایک بار دادا جان شکار پارٹی سے کچھ فاصلے پر جنگل سے گزر رہے تھے کہ انہیں برگد کے ایک درخت کی جڑوں میں شیر کا ایک بچہ چھپا ہوا دکھائی دیا ۔۔۔ دادا جان نے اندازہ لگالیا کہ یہ بھٹکتا ہوا اس طرف آ نکلا ہے اور شیرنی یعنی اپنی ماں سے بچھڑ چکا ہے ۔۔
شکاری مہم اپنے اختتام کو پہنچی تو دادا جان شیر کا بچہ اپنے ساتھ دہرہ دون لے آئے ۔ دادی نے اس کا نام ٹموتھی رکھ دیا ، وہ صرف ڈیڑھ فٹ کا تھا ۔۔۔۔
گھر میں ٹموتھی کی پسندیدہ جگہ بیٹھک تھی ۔ وہ اطمینان سے صوفے پر دراز ہوجاتا اور پر وقار انداز میں ایک ایک کو دیکھتا رہتا ۔۔ غراتا صرف اس وقت تھا جب کوئی اس کی جگہ لینے کی کوشش کرتا ۔۔۔
میری ٹموتھی سے دوستی ہوگئی اور جلد ہم دونوں میں گاڑھی چھننے لگی ، وہ اپنی آنکھوں میں عیارانہ چمک لیے دبے پاؤں قلانچ بھرنے کے انداز میں میری طرف بڑھتا اور نزدیک آتے آتے اچانک میری جانب لپکتا ، پھر میرے قدموں میں لوٹتے ہوئے خوشی سے لاتیں چلاتا اور بظاہر میری پنڈلیاں کاٹنے کی کوشش کرتا ۔۔۔۔
رفتہ رفتہ اس کا ڈیل ڈول ایک شکاری کتے کے مانند ہوگیا ۔ میں اسے ٹہلانے کے لئے شہر کی سڑکوں پر نکلتا تو لوگ خود بخود ہمیں راستہ دیتے ۔ رات کو وہ ہمارے خانساماں محمود کے کوارٹر میں سوتا ۔۔
دادی جان اکثر کہتیں ، درندہ ، آخر درندہ ہوتا ہے ، دیکھ لینا کسی دن جب ہم محمود کے کوارٹر میں جائیں گے تو ٹموتھی اس کے بستر پر سوتا ملے گا اور محمود کا نام و نشان نہ ہوگا ۔
واقعی ٹموتھی چھ ماہ کا ہوا تو اس کے تیور خطرناک نظر آنے لگے ۔۔ گھر کے نوکر چاکر محتاط ہوگئے ۔ کسی کو اس پر اعتبار نہیں رہا ۔ اس کی نقل و حرکت مشکوک ہوتی چلی گئی اور اس نے محمود کے پیچھے اس طرح گھومنا شروع کر دیا جیسے موقع ملتے ہی اس پر حملہ کر دے گا
۔۔۔۔ مجبوراً دادا جان نے ٹموتھی کو کسی چڑیا گھر کے سپرد کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ قریب ترین چڑیا گھر لکھنؤ میں تھا ۔ دادا جان نے اپنے اور ٹموتھی کے لئے فرسٹ کلاس کمپارٹمنٹ بک کروایا ، وہ دونوں لکھنؤ روانہ ہو گئے ۔۔۔
لکھنؤ کے چڑیا گھر کے منتظم ایک پلا پلایا قدرے مہزب شیر پا کر بہت خوش ہوئے ۔۔ دادا جان دہرہ دون لوٹ آئے ۔۔
چھ ماہ تک دادا جان کو یہ موقع نہیں مل سکا کہ وہ ٹموتھی خیر خبر معلوم کرتے ۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ٹموتھی اپنے نئے گھر میں کس طرح رہ رہا ہے ۔۔۔
ساتویں مہینے دادا اور دادی کچھ عزیزوں سے ملنے لکھنؤ گئے ۔ دادا نے پہلی فرصت میں چڑیا گھر کا رخ کیا اور سیدھے ٹموتھی کے پنجرے پر پہنچے ۔۔ ٹموتھی ایک گوشے میں دبکا ہوا تھا ۔ اب وہ پوری طرح جوان ہوگیا تھا ۔ اس کے جسم کی دھاریاں روشنی میں جگ مگا رہی تھیں اور وہ خاصا تندرست دکھائی دے رہا تھا ۔۔ دادا جان نے اسے آواز دی ، ٹموتھی اور وہ جنگلا پھلانگ کر بالکل پنجرے کے پاس چلے گئے ۔ پھر انہوں نے بے تکلفی سے اپنا ہاتھ سلاخوں کے اندر کر دیا ۔ ٹموتھی دادا جان کی پکار پر اپنی جگہ سے اٹھ کر سلاخوں کے نزدیک آ گیا ۔ دادا جان بے اختیار اس کی گردن میں ڈال کے اس کا سر اور کان سہلانے لگے ۔ شیر دھاڑنے لگا ۔ وہ دھاڑتا تو دادا جان اس کے منہ پر ایک چپت رسید کرتے اسے خاموش کرانے کے لئے یہ دادا جان کا مخصوص انداز تھا ۔
ٹموتھی دادا جان کے ہاتھ چاٹنے لگا ۔ لیکن جلد ہی بد حواس سا ہو کر پلٹ گیا ۔ کیونکہ برابر کے پنجرے والا چیتا اس پر غرانے لگا تھا ۔ دادا جان نے چیتے کو ہشت کہہ کر بھگایا ۔ ٹموتھی پھر ان کے پاس آ گیا اور دوبارہ ان کے ہاتھ چاٹنے لگا ۔ چیتا سلاخوں کی طرف لپکتا تو ٹموتھی وقتی طور پر دادا جان کو چھوڑ کر دوسری طرف چلا جاتا ۔۔۔
دیکھتے دیکھتے وہاں بہت سے لوگ اکھٹے ہوگئے ۔ آدمی اور شیر کو اتنا مانوس دیکھ کر سب لطف اندوز ہورہے تھے ۔۔۔ اتنے میں چڑیا گھر کا ایک نگراں مجمع چیرتا ہوا آگے بڑھا ۔ اس نے دادا جان سے پوچھا کہ وہ یہ کیا کر رہے ہیں ؟ دادا جان نے کہا کہ وہ اپنے ٹموتھی سے باتیں کر رہے ہیں ۔ چھ مہینے قبل میں ہی یہ شیر یہاں لایا تھا ، کیا اس وقت تم یہاں نہیں تھے ؟
میں ابھی کچھ دنوں پہلے یہاں آیا ہوں ، حیرت میں ڈوبے ہوئے نگراں نے بتایا ، آپ اپنی گفتگو شوق سے جاری رکھئے ، لیکن میں آج تک اسے ہاتھ نہیں لگا سکا ہوں ، یہ غصے کا بہت تیز ہے ، اس سب کو ڈر لگتا ہے ۔۔۔
دادا جان کو ٹموتھی سے باتیں کرتے اور اس کا سر سہلاتے ہوئے پانچ منٹ گزر گئے ، پھر انہوں نے چڑیا گھر کا ایک اور محافظ اپنی طرف آتے اسے دادا جان نے پہچان لیا ۔ جب وہ ٹموتھی کو چڑیا گھر میں دینے آئے تھے تو یہ محافظ موجود تھا ۔۔ دادا جان نے اس سے پوچھا تم مجھے پہچانتے ہو ؟
اس نے اثبات میں سر ہلایا لیکن وہ بہت خوف سے دادا جان کو دیکھ رہا تھا ۔ دادا جان نے اس سے کہا ، بھئی تم لوگ میرے ٹموتھی کو اس احمق چیتے سے دور کسی پنجرے میں کیوں نہیں رکھتے ؟
لیکن جناب ، یہ آپ کا شیر نہیں ہے ، محافظ نے اٹکتے ہوئے بتایا ۔
ہاں ، میں یہ مانتا ہوں کہ اب یہ میرا نہیں ہے اور اب اس پر میرا کوئی اختیار نہیں رہا ، لیکن تم لوگ میرے مشورے پر اسے دوسرے پنجرے میں تو منتقل کر سکتے ہو ۔۔
مجھے آپ کا شیر اچھی طرح یاد ہے محافظ نے بتایا ، وہ دو ماہ پہلے مرچکا ہے ۔۔۔۔
کیا ؟ دادا جان نے حیرت سے کہا ، مر چکا ہے ؟
جی ہاں ، اسے نمونیا ہو گیا تھا ، محافظ دکھ سے بولا ، یہ شیر تو ابھی پچھلے ہفتے پہاڑوں سے پکڑ کے لایا گیا ہے اور یہ انتہائی خطرناک ہے ۔۔۔
شیر بدستور دادا جان کے ہاتھ چاٹ رہا تھا اور بظاہر اسے بہت خوشی ہو رہی تھی ۔ آخر دادا جان نے اپنے ہاتھ سلاخوں سے نکال لئے ، پھر اپنا چہرہ سلاخوں کے قریب لے گئے اور شیر کے منہ کے سامنے منہ کرکے آہستگی سے بولے ، صبح بخیر ٹموتھی ۔۔ یہ کہہ کر انہوں نے حقارت سے محافظ کی طرف دیکھا اور تیز تیز چلتے ہوئے چڑیا گھر سے نکل آئے ۔۔۔۔۔۔ ،


بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2113164235580765

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/