مختصر کہانیاں

#تیری_دیوانی_از_سحرعلی #قسط_10_حصہ_دوم احمد صاح…

#تیری_دیوانی_از_سحرعلی
#قسط_10_حصہ_دوم

احمد صاحب نے زاویار کو بتانا مناسب نہ سمجھا کیونکہ وہ فوری طور پر نہیں آسکتا تھا۔۔ اور اس طرح پردیس میں تنہا بیٹھ کر پریشان ہوتا۔۔
زراشہ تو جیسے رونا بھول گئی تھی۔۔ شہناز بیگم نے بہت کوشش کی مگر اس کی آنکھ سے ایک آنسو نہ گرا۔۔ جنازہ اٹھایا تب بھی اس پر کوئی فرق نہ پڑا۔ اس کے بعد اس نے خود کو کمرے میں بند کر لیا۔
اگلے دن کل خوانی کے وقت بھی مومنہ اسے زبردستی باہر لے کر آئی۔۔ اماں نے اسے اپنے پاس بیٹھا کر بہت پیار کیا مگر وہ کھوئی کھوئی نظروں سے انہیں دیکھنے لگی۔
بیچاری پیدا ہوئی تو ماں چلی گئی۔۔ نکاح تھا تو وہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔۔ کہتے ہیں دولہے کا بھائی مر گیا۔
اوئے ہوئے۔۔ کتنی بدبخت ہے۔۔ کسی عورت کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔
ہاں تو اور کیا دیکھو اب باپ بھی اسی کا غم لے کر اس دنیا سے چلا گیا۔ یہ ایک اور خاتون کی آواز تھی۔
معاف کیجیے گا آنٹی۔۔ یہاں آپ ہمارا غم بانٹنے آئی ہیں یا ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے۔۔ مومنہ جو ان کے پیچھ بیٹھی یہ سب سن رہی تھی ایک دم چلائی تو وہ ہڑبڑا گئیں۔
وہ۔۔ ہم تو یہ کہہ رہے تھے بیچاری تنہا رہ گئی۔۔ اور ویسے بھی جس لڑکی کی ماں اور پھر باپ اس کی وجہ سے چلے جائیں تو لوگ اسے منہوس کہتے ہیں۔۔ ان میں سے ایک عورت کھڑی ہوئی اور اونچی آواز سے کہنے لگی۔
خدارا اپنی سوچ کا معیار اونچا کریں یا ان بڑے بڑے محل جیسے گھروں میں آپ لوگ رہتی ہیں نا انہیں گرا دیں۔۔ کیونکہ جب تک سوچ نہیں بدلے گی تب تک آپ لوگے جتنا مرضی پڑھ لکھ لیں جتنے مرضی بڑے محلوں بنگلوں میں رہ لیں جاہل ہی رہیں گے۔۔ مومنہ بھی چلائی۔
دیکھو تم۔۔ اپنی یہ فضول کی تقریر کر کہ ہمیں تو چپ کروا سکتی ہو مگر ان سب کو کیسے چپ کرواؤ گی جو باہر یہ باتیں کر رہے ہیں۔
میں کون ہوتی ہوں چپ کروانے والی۔۔ وہ ذات اوپر بیٹھی ہے۔۔ میں صرف اس سے دعا کروں گی کہ آپ لوگوں کو ہدایت دے۔۔ اگر مسلمان ہیں تو اپنے دین کو سمجھنے کی خود میں صلاحيت بھی پیدا کریں۔ یہ جو ہر بندہ ایک دوسرے کو اپنی مرضی سے جانچتا پھر رہا ہے ناں۔ وہ مجھے دکھا دے اللہ نے قرآن میں کہاں لکھا ہے جس کی ماں اس کی پیدائش پر مر گئی تو وہ منحوس ہو گئی۔ جس کا رشتہ ٹوٹ گیا وہ لڑکی بدبخت ہے۔۔ خدارا قرآن کو عربی میں پڑھ کر رکھ دینے کی بجائے اسے اردو ترجمے کے ساتھ پڑھ کر سمجھ بھی لیں تو دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی سنور جائے اور دوسروں کو بھی جینے دیں۔
یقین مانیے آپ لوگوں کی یہ ڈگریاں اور گھر گاڑیاں۔۔ آپ کے کسی کام نہیں آئیں گی۔۔ یہ ماڈرن ڈریسز پہن کر آپ اب تک اپنی جہالت ختم نہیں کر سکیں۔۔ کیونکہ آپ کی سوچ وہ ہی ہے۔۔ چھوٹی۔۔ اب آپ جا سکتی ہیں۔۔ اور بہتر ہو گا دوبارہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے سو بار اپنی سوچ کو پرکھیں۔۔ مومنہ انہیں باہر کا راستہ دکھا کر وہاں سے چلی گئی۔
ادھر بیٹھی ہر ایسی سوچ رکھنے والی عورت لاجواب ہو گئی تھی۔۔ بہت سی عورتوں نے مومنہ کو دل ہی دل میں داد دی۔۔
کیونکہ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اوپر سے تو مہزب ہونے کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر اپنی سوچ کو ایسے جہالت کے اندھیرے میں ڈھانپے رکھتے ہیں۔۔ اور بہت سے لوگ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ان کی اس جہالت کو ختم کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔

۝۞۞۝۞۞۝

دن گزرتے گئے۔۔ احسن صاحب کو گئے کئی دن ہو گئے تھے مگر تابش ابھی تک غم سے باہر نہ آیا تھا۔۔ زرتاشہ بھی اپنے کمرے کی ہو کر رہ گئی۔۔ نہ کسی سے بولتی نہ ہنستی۔۔ اپنی شرارتیں تو بھول ہی گئی تھی۔۔ یونیورسٹی کھلنے میں ابھی کچھ دن باقی تھے۔۔ بسمہ اور ہانیہ گاہے بگاہے اس سے ملنے آتی رہتیں۔۔ وہ گھنٹوں اس کے پاس گزارتیں مگر وہ ہوں ہاں کے علاوہ ان سے کوئی بات نہ کرتی۔
احمد صاحب سے مزید اس کی حالت دیکھی نہ گئی تو زاویار کو فون کر کے فوراً واپس آنے کا کہا۔۔ اس کے اسرار پر انہیں بتانا پڑا جو سب یہاں بیتا ہے۔
وہ کچھ بولنے کے قابل نہ رہا۔۔ پھر جیسے تیسے کر کے اپنی واپسی کی ٹکٹ کنفر کروائی اور پاکستان آگیا۔
گھر داخل ہوا تو سامنا شہناز بیگم سے ہوا۔۔ ان کی نظر بھی زاویار پر پڑی تو دوڑتی ہوئی اس سے لپٹ گئیں۔۔ زاویار۔۔۔ سب برباد ہو گیا۔۔ ہمارا ہنستا بستہ گھر ویران ہو گیا۔۔ تم چلے گئے تھے تو دیکھو۔۔ تمہارے چاچو۔۔ وہ زارو قطار رو رہی تھیں۔۔ زاویار نے مضبوطی سے انہیں خود میں بھینچ رکھا تھا۔۔ وہ بھی آبدیدہ تھا۔
ماما یہ سب کیسے ہوا۔۔ آپ لوگوں نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔
بیٹا کیسے بتاتے۔۔ تم وہاں پریشان ہوتے۔۔ وہ اس سے الگ ہو کر کہنے لگیں۔۔ پھر اسے پاس پڑے صوفے پر بیٹھا کر ہر بات حرف با حرف بتا دی۔۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
اتنا کچھ ہو گیا ماما اور آپ لوگوں نے مجھے کچھ نہیں بتایا۔۔ کم از کم مجھے بتاتے تو سہی میں کسی بھی طرح واپس آجاتا۔۔ چاچو سے بچھڑنے کا غم اسے بے چین کر گیا۔
زرتاشہ کیسی ہے؟ سب سے پہلا خیال اسی کا آیا۔۔ اور دادو جان کیسی ہیں۔۔ تابش؟؟
بیٹا اماں تو بہت حوصلے والی ہیں۔۔ انہوں نے خود کو کافی حد تک سنبھال لیا ہے۔۔ تابش کی بھی حالت بہت بری ہے۔۔ آج تمہارے بابا جان اسے زبردستی آفس لے کر گئے ہیں۔۔ کہہ رہے تھے وہاں لوگوں سے ملے گا تو ذہن کچھ بدلے گا۔۔
ہمم۔۔ اور زرتاشہ؟ سب سے زیادہ اس کے لیے دل بے چین ہو رہا تھا۔
بیٹا اس کی حالت۔۔ بالکل ٹھیک نہیں ہے۔۔ وہ نہ کچھ بولتی ہے نہ کھاتی پیتی ہے۔۔ اسے بہت رلانے کی کوشش کی مگر نہیں روتی۔۔ جب سے احسن بھائی سے ہاسپٹل میں مل کر آئی تھی اس وقت سے اسے چپ لگ گئی ہے۔
میں چلتا ہوں ادھر۔۔ آپ چلیں گی؟ زاویار نے اٹھتے ہوئے کہا۔
ہاں بیٹا میں بھی ادھر ہی ہوتی ہوں بس اب تمہارا انتظار کر رہی تھی۔۔ چلو تم سب سے مل لو وہ بھی اس کے ساتھ ہو لیں۔
مومنہ کھانا لے کر زرتاشہ کے کمرے میں داخل ہوئی۔
تاشہ۔۔ چندا کھانا کھا لو۔۔
اس نے کوئی جواب نہ دیا اور آنکھوں پہ بازو رکھے لیٹی رہی۔
زرتاشہ۔۔ انہوں نے اس کی آنکھوں سے بازو ہٹایا۔۔ اٹھو کھانا کھا لو۔
بھوک نہیں ہے۔۔ مجھے نہیں کھانا۔۔
کیوں بھوک نہیں ہے۔۔ صبح سے کچھ نہیں کھایا تم نے۔۔ ایسے ہی پڑی ہو۔۔ اٹھو جلدی۔۔ انہوں نے نوالہ بنایا اور اس کے منہ کے پاس کیا۔
زرتاشہ نے بغور انہیں دیکھا اور ہاتھ جھٹک دیا۔۔ کہا ناں بھابھی بھوک نہیں ہے۔۔ جائیں آپ یہاں سے۔۔ وہ چلائی۔
تاشہ چندا کیا ہوا ہے۔۔ ایسے کیوں کر رہی ہو۔۔
چلی جائیں بھابھی۔
زاویار دادو سے مل کر اسی کے کمرے میں آ رہا تھا اس کی آواز سن کر ٹھٹھک گیا۔
جائیں یہاں سے۔۔ پاس مت آیا کریں میرے۔۔ میں منہوس ہوں۔۔
مومنہ نے اسے پکڑ کر ساتھ لگایا۔۔ تاشہ ایسے نہیں کہتے۔۔
کیوں۔۔ نہیں کہتے؟ وہ الٹا سوال کرنے لگی۔
زاویار نے اندر قدم رکھا۔ تاشہ۔۔ اس کی پکار پر زرتاشہ نے رخ موڑ کر دیکھا۔
زاویار بھائی۔۔ آواز گہری کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔۔ پل بھر میں وہ بیڈ سے اتری اور درمیانی فاصلہ تہہ کر کے زاویار تک پہنچی۔۔
زاویار بھائی۔۔۔ آپ۔۔ آپ۔۔ آگئے؟ وہ اس کے چہرے کو چھو کر خود کو یقین دلوانے لگی۔
ہاں۔۔ میں آگیا اپنی پرنسز کے پاس۔۔ اس نے اسے کندھوں سے تھاما۔
زرتاشہ اسے خالی خالی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
زاویار کو ان ویران آنکھوں سے خوف محسوس ہوا۔
کیا دیکھ رہی ہو؟
آ۔۔ آپ۔۔ کہاں تھے؟ میں آپ کو بلا رہی تھی۔۔ وہ کھوئے کھوئے انداز میں پوچھنے لگی۔
تم نے بلایا تو میں آگیا ہوں ناں۔۔ زاویار پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا۔
ن نہیں۔۔ آپ اتنی دیر سے آئے ہیں۔۔ وہ۔۔ وہ۔۔ ڈیڈ۔۔ بلا رہے تھے آپ کو۔۔ انہوں نے مجھے بھی۔۔ بلایا تھا۔۔ میں نہیں گئی تو۔۔ وہ ناراض ہو گئے۔۔ آپ نے بھی ان کی۔۔ بات نہیں۔۔ مانی تھی ناں۔۔ وہ آپ سے بھی ناراض ہو گئے۔۔ وہ دویوانہ وار بولتی گئی۔
زاویار نے کوئی جواب نہ دیا۔
زاویار بھائی۔۔ آپ۔۔ بولیں۔۔ آپ بول کیوں نہیں رہے۔۔ آپ بھی ناراض ہیں؟ سب ناراض ہیں۔۔ آپ ڈیڈ کو لے آئیں۔۔ وہ آپ کی بات مانتے ہیں ناں۔۔ وہ اسے جھنجوڑ رہی تھی۔
تاشہ۔۔ وہ نہیں آئیں گے۔۔ زاویار نے اسے کندھوں سے تھام کر سختی سے کہا۔
کیوں نہیں آئیں گے؟
کیونکہ ان کی ڈیتھ ہو گئی ہے۔۔ وہ ہمیشہ کے لیے چلے گئے ہیں ہمیں چھوڑ کر۔۔
ن نہیں۔۔۔ جھوٹ۔۔ جھوٹ بولتے ہیں آپ۔۔ جھوٹے ہیں۔۔ وہ چلانے لگی۔۔ شور سن کر شہناز بیگم بھی اس کے کمرے میں آگئیں۔
میں جھوٹ نہیں بول رہا۔۔ وہ مر گئے ہیں۔۔ سنا تم نے۔۔ وہ بھی چلایا۔۔ وہ اسے رلانا چاہتا تھا۔۔ اسے ہوش میں لانا چاہتا تھا۔
جھ۔۔ جھوٹ۔۔ ڈیڈ۔۔ نہیں۔۔ زاویار بھائی۔۔ آپ جھوٹ بول رہے ہیں ناں۔۔ ایسے مت کہیں۔۔ اس نے زاویار کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔ زاویار نے اسے پکڑا تو وہ اس کے سینے سے لگ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔۔ اس نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا۔۔ زاویار سے اس کی حالت دیکھی نہ جا رہی تھی۔
میری وجہ۔۔ سے ہوا سب۔۔ ڈیڈ کہاں چلے گئے۔۔ وہ چلا رہی تھی آنسو اتر سے بہتے جا رہے تھے۔۔
ز۔۔زاو۔یار۔۔ بھا۔۔ئی۔۔ وہ۔۔۔ اس سے اگے اس کی آواز بند ہو گئی۔۔ اور وہ زاویار کی باہوں میں جھول گئی۔۔
وہاں کھڑی شہناز بیگم اور مومنہ کی دبی دبی چیخ سنائی دی۔۔
تاشہ تاشہ۔۔ اٹھو۔۔ آنکھیں کھولو۔۔ زاویار اسے جھنجھوڑنے لگا مگر وہ کچھ سن ہی نہیں رہی تھی۔۔ پھر وہ اسے باہوں میں اٹھائے باہر کی طرف بھاگا۔۔
ماما میں اسے ہاسپٹل لے جا رہا ہوں۔
ہ۔۔ہاں۔۔ میں بھی چلتی ہوں۔۔ وہ بوکھلائی ہوئی اس کے پیچھے بھاگیں۔
ان کے جاتے ہی مومنہ اماں کے کمرے میں آئی سامنے دیکھا تو وہ جائے نماز پر بیٹھیں تسبیح کر رہی تھیں۔۔ پاس بیڈ پر دعا لیٹی ہوئی تھی۔۔ وہ آگے بڑھی اور اماں کے پاس آکر بیٹھ گئی۔۔ اماں نے سوالیہ نظروں سے مومنہ کو دیکھا۔
دادو۔۔۔ تاشہ۔۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جس وجہ سے وہ بول نہ پا رہی تھیں۔
ک کیا ہوا میری بچی کو؟
دادو اسے بچا لیں۔۔ پتہ نہیں کیا ہوا ہماری گڑیا کو۔۔ مومنہ نے دادو کے ہاتھ مضبوطی سے تھام لیے۔
کدھر ہے وہ۔۔ انہوں نے اگلا سوال کیا۔
ہسپتال۔۔ زاویار بھائی اور بڑی ماما اسے ہسپتال لے کر گئے ہیں۔
جا جائے نماز بچھا کر بیٹھ جا۔۔ اللہ سے دعا کر۔۔ مجھے بھی اپنا کام کرنے دے۔۔ آج میں اللہ سے اپنی منوا کر ہی اٹھوں گی۔۔ دادی نے کہتے ہی اپنے ہاتھوں سے مومنہ کے ہاتھ چھڑوائے اور حاجت کے نوافل کی نیت باندھ لی۔۔ آنکھوں سے آنسو بہتے جا رہے تھے۔۔ وہ اللہ کے آگے گڑگڑا رہی تھیں۔
مومنہ بھی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی اور اللہ کے آگے حاضری دی۔۔ وہ اللہ سے اپنے گھر کی خوشیاں واپس مانگ رہی تھی۔
کافی وقت گزر گیا تو اس نے زاویار کو کال کی۔۔ اس نے دعا کرنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔۔
کچھ دیر گزری تو تابش کی کال آگئی۔۔ اس نے ڑرتے ڈرتے کال ریسیو کی۔
ہاں مومنہ۔۔ تاشہ ٹھیک ہے اب۔۔ آج ادھر ہی رکنا پڑے گا۔۔ بہت زیادہ سٹریس کی وجہ سے نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا۔۔ تابش نے درد بھری آواز میں بتایا۔
یااللہ خیر۔۔ ہوش میں ہے اب؟
ڈاکٹر نے پرسکون رکھنے کے لیے انجیکشنز دیے ہیں ابھی انہیں کے زیراثر ہے۔۔ ویکنس بھی بہت زیادہ ہے۔۔ اس وجہ سے رکھنا پڑا۔
اچھا۔۔ میں آجاؤں ہاسپٹل؟ اس سے ملنے کو دل بے چین ہو رہا ہے۔۔ مومنہ نے تڑپ کر کہا۔
یار ابھی فائدہ نہیں آنے کا۔۔ وہ میڈم تو ہمارا چین لوٹ کر خود پرسکون سو رہی ہے۔۔ تابش نے ماحول کو نارمل کرنے کے لیے مزاق سے کہا۔ اور ویسے بھی دادو گھر پر ہیں۔۔ اور دعا کو بھی ان کے پاس چھوڑ کر نہیں آ سکتی۔
مگر تابش ملازم ہیں ان کے پاس میں سکینہ کو کہتی ہوں وہ دادو کے پاس رک جائے۔۔ مومنہ بضد ہوئی۔
نہیں یار ایسا کرو میں کچھ دیر تک بڑی ماما کو لے آؤں گا گھر وہ بھی تھوڑا آرام کر لیں۔۔ تب تم آجانا۔
اوکے ٹھیک ہے۔۔ کہہ کر اس نے رابطہ منقتع کر دیا۔

۝۞۞۝۞۞۝
جاری ہے۔۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/