منتخب غزلیں

کتنے مہ و انجم ہیں ضیا پاش ازل سے لیکن نہ ہوئی کم…

کتنے مہ و انجم ہیں ضیا پاش ازل سے
لیکن نہ ہوئی کم دل انساں کی سیاہی
قادر صدیقی کا یومِ پیدائش
August 28, 1923
……
بدلی ہوئی نظروں سے اب بھی انداز پرانے مانگے ہے
دل میرا کتنا مورکھ ہے وہ بیتے زمانے مانگے ہے

مدت ہوئی دل تاراج ہوئے مدت ہوئی رشتوں کو ٹوٹے
دنیا ہے کہ ظالم آج بھی وہ رنگین فسانے مانگے ہے

دل ہے کہ وہ ہے مرجھایا سا ہر آس کا چہرہ ہے اترا
ہر دوست مرا پھر بھی مجھ سے خوشیوں کے خزانے مانگے ہے

حالات نے آنسو بخشے ہیں تقدیر میں رونا لکھا ہے
اور وقت نہ جانے کیوں مجھ سے ہونٹوں پہ ترانے مانگے ہے

عقل اور خرد دونوں مجھ کو دیتی ہیں دعائیں جینے کی
احساس مرا مجھ سے لیکن مرنے کے بہانے مانگے ہے

بستی کیسی محفل کیسی کیسے کوچے کیسے بازار
دنیا سے جہاں چھپ کر رو لے دل ایسے ٹھکانے مانگے ہے

ہر چاہ کا بدلہ چاہت ہو ہر پیار کا پیارا ہو انجام
کچھ سوچ ذرا تو دنیا سے کیا چیز دوانے مانگے ہے
……………
ہائے رے عہد گزشتہ کی کرم فرمائیاں
انجمن در انجمن تنہائیاں تنہائیاں

عشق کو حاصل ہیں ان کی بھی کرم فرمائیاں
عمر بھر کرتے رہے ہیں جو ستم آرائیاں

مل کے دونوں نے مجھے رسوائے دنیا کر دیا
کچھ میری نادانیاں تھیں کچھ تری دانائیاں

لفظ و معنی میں الجھ کر رہ گئے احباب سب
کاش کوئی دیکھ سکتا قلب کی گہرائیاں

اب خلوص دل کی باتیں خواب ہو کر رہ گئیں
جس طرف دیکھو فقط پرچھائیاں پرچھائیاں

کوئی ہنستا تو نہیں آنسو بہانے پر مرے
باعث تسکین خاطر ہیں مجھے تنہائیاں

دیکھیے یہ بھی کہ دل کا خون ہوتا تو نہیں
وجہ رونق ہی سہی یہ انجمن آرائیاں

میری نظروں نے انہیں کچھ گدگدایا اس طرح
کروٹیں لینے لگیں سوئی ہوئی انگڑائیاں

اہل دنیا سے شکایت کیا گلہ کیا رنج کیا
مجھ کو لے ڈوبیں مرے احساس کی گہرائیاں

درد دل جب تک نہ شامل ہو تو قادرؔ شعر کیا
زندگی بھر کرتے رہیے قافیہ پیمائیاں
…..
چھوڑیں انا کو ہم تو تری جستجو کریں
پڑھنی ہے گر نماز تو پہلے وضو کریں

کرنے کو دل کی بات کریں سب سے ہم مگر
وہ دل کہاں سے لائیں ترے روبرو کریں

ملنے کا لطف جب ہے کہ وہ ہوں ہمیں میں گم
کرنے کو ہم تلاش انہیں کو بہ کو کریں

کیوں اس جفا شعار سے چھیڑیں وفا کی بات
کیوں ذکر تشنگی کا لب آب جو کریں

ایسوں سے ہوشیار رہیں قادرؔ آپ بھی
جو تم بنائیں آپ کو اور تم کو تو کریں
………
حق وفاؤں کا جفاؤں سے ادا کرتے ہیں لوگ
آج کی دنیا کو کیا کہیے کہ کیا کرتے ہیں لوگ

آنکھ پر نم ہونٹ لرزاں دل غموں سے پاش پاش
اس طرح بھی زندگی کا سامنا کرتے ہیں لوگ

اے زمانے کی روش تیری وفا کوشی کی خیر
عہد و پیماں توڑ کر وعدہ وفا کرتے ہیں لوگ

اے وفور زندگی یہ بھی ترا اعجاز ہے
زہر پیتے ہیں مسلسل اور جیا کرتے ہیں لوگ

اتنا اتنا دل میں اٹھتا ہے بغاوت کا غبار
جتنا جتنا دل کو پابند وفا کرتے ہیں لوگ

اس کے پانے کی مسرت چند لمحے بھی نہیں
جس کو کھو کر عمر بھر آہ و بکا کرتے ہیں لوگ

میری روداد الم میں کوئی پہلو ہے ضرور
سن کے روداد الم کیوں ہنس دیا کرتے ہیں لوگ

جب بھی ہوتا ہے جفاؤں کا کہیں بھی تذکرہ
نام جانے کیوں تمہارا لے لیا کرتے ہیں لوگ

صبح نو کی یاد میں کٹتی ہے ہر شام فراق
سکھ کی امیدوں میں اکثر دکھ سہا کرتے ہیں لوگ

رنج و غم عیش و مسرت دھوپ بھی ہے چھاؤں بھی
ہنستے ہنستے زندگی میں رو دیا کرتے ہیں لوگ

کون کام آتا ہے آڑے وقت پر قادرؔ یہ دیکھ
زیست کے ہر موڑ پر یوں تو ملا کرتے ہیں لوگ
……………………


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/