#میں_جانوں_میرا_خدا_جانے تحریر: مائرہ مشتاق قسط ن…

تحریر: مائرہ مشتاق
قسط نمبر 7
آج ہم بات کریں گے قران پاک کی پہلی سورۃ یعنی الفاتحہ کے بارے میں.. ﯾﮧ ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﻣﭩﯽ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻋﺮﺵ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻻ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﺮﺗﯽ ہے.. کیسے کرتی ہے اس کا اندازہ آپ کو بخوبی ہو جاۓ گا..
• ﺍﻟﺤﻤﺪﻟﻠﮧ ﺭَﺏِّ ﺍﻟْﻌَﺎﻟَﻤِﻴﻦ
ﮨﻤﯿﮟ ﻋﺪﻡ ﺳﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻻ، ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ صرف اور صرف اللہ ہے.. اس پورے جہان کو پالنے والا کون ہے..؟؟ بے شک وہ اللہ ہی ہے..
• ﺍَﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﯿْﻢ
ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺗﮭﺎﻣﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍلی ذات بھی اللہ ہی کی ہے اور ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ بھی ﮨﻢ اسی کے ﺳﮩﺎﺭﮮ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ.
• ﻣَﺎﻟِﮏِ ﯾَﻮْﻡِ ﺍﻟﺪِّﯾْﻦ
ﮨﻤﯿﮟ اس جہان فانی سے ﺁﺧﺮﺕ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ بھی صرف اللہ ہی ہے.
• ﺍِﯾَّﺎﮎَ ﻧَﻌْﺒُﺪُ ﻭَﺍِﯾَّﺎﮎَ ﻧَﺴْﺘَﻌِﯿْﻦ
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﮔﻠﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ہے, ﺗﻮ ﺑﺲ ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮮ اور ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ہیں. ﺟﺐ ہم نے ﺍﺱ ﮐﯽ غلامی ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ہے تو پھر ﺍﺏ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﮭﮑﯿﮟ ﮔﮯ. صرف اسی کی عبادت کریں گے.
• ﺍِﮬْﺪِﻧَﺎ ﺍﻟﺼِّﺮَﺍﻁَ ﺍﻟْﻤُﺴْﺘَﻘِﯿْﻢَ
جب اللہ ہم سے پوچھتا ہے کہ ﻣﺎﻧﮕﻮ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﻮ … ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮨﯽ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ … آپ ہی کا راستہ مانگتے ہیں… ﻭﮦ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺟﻮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺁﭖ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﮮ…
• ﺻِﺮَﺍﻁَ ﺍﻟَّﺬِﻳﻦَ ﺃَﻧْﻌَﻤْﺖَ ﻋَﻠَﻴْﻬِﻢ ﻏَﻴْﺮِ ﺍﻟْﻤَﻐْﻀُﻮﺏِ ﻋَﻠَﻴْﻬِﻢْ ﻭَﻟَﺎ ﺍﻟﻀَّﺎﻟِّﻴﻦ
یا اللہ ﮨﻤﯿﮟ ان افراد میں شامل فرما دے جن پر تو نے اپنا ﺍﻧﻌﺎﻡ کیا ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ اس راستے سے بچا جو ﮔﻤﺮﺍﮨﯽ کی طرف لے جاۓ اﻭﺭ ہمیں اپنے ﻏﻀﺐ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﺩے. (آمین)
میڈم رانیہ نے لیکچر ختم کیا اور ڈائس کی طرف گئیں.. وہ کافی دیر سے نوٹ کر رہی تھیں کہ رانیہ آج کلاس سے غیر حاضر ہے. ایسا تو بہت کم ہوتا تھا, ورنہ وہ سب سے پہلے آ کر پہلی رَو میں ان کے سامنے بیٹھ جایا کرتی تھی اور انہماک سے اپنے نوٹس تیار کرتی. آج اس کی کرسی خالی تھی, کوئی بھی لڑکی اس کی جگہ پر نہیں بیٹھی تھی.. شاید سب کو انتظار تھا کہ دیر سے ہی سہی مگر وہ آ جاۓ گی..
*————————-
رات کے دس بج چکے تھے مگر شہریار آفریدی ابھی تک گھر واپس نہیں آیا تھا. تانیہ کو اس کی بہت فکر ہونے لگی. اس نے شہریار افریدی کو کال ملائی جو اس نے اٹینڈ نہیں کی. وہ باہر لان میں آ کر ٹہلنے لگ گئی. کافی دیر بعد شہریار آفریدی کی گاڑی آئی. وہ گاڑی سے اتر کر سیدھا اندر جانے لگا جب تانیہ اس کی طرف بڑھی..
"بہت دیر سے آۓ ہیں جی آپ شہریار صاحب. بندہ اپنا موبائیل ہی دیکھ لیتا ہے کہ کسی نے کال تو نہیں کی..”
"ہاں میں ایک ضروری کام کر رہا تھا…” شہریار آفریدی نے وہیں کھڑے کھڑے جواب دیا.. تانیہ کو وہ کافی الجھا الجھا سا لگا..
"اتنی بے رخی کیوں کر رہے ہیں شہریار صاحب. اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اپنے دل کی کیفیت مجھ سے چھپا سکتے ہیں تو یہ جھوٹ ہے جی. سب جانتی ہوں میں آپ کس آگ میں جھلس رہے ہیں..” تانیہ اب شہریار آفریدی کے عین سامنے آ گئی اور اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ بولی..
"کیا مطلب…. کیا کہنا چاہتی ہو..؟؟”
"مطلب یہی کہ آپ کو پیار ہو گیا ہے اور آپ یہ بات خود سے بھی چھپا کر رکھنا چاہتے ہیں…”
شہریار آفریدی جواب میں کچھ نہیں بولا.. صرف ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ اندر کی طرف بڑھ گیا.. یہ مسکراہٹ تانیہ کو بہت کچھ سمجھانے کے لیۓ کافی تھی..
"آپ کی اس ہنسی کو کسی کی نظر نہ لگ جاۓ شہریار صاحب.. تانیہ آپ کی اس ہنسی کے لیۓ اپنی جان تک دے سکتی ہے…” تانیہ خود کلامی کرتے ہوۓ اندر کی طرف بڑھ گئی…
*————————–*
"تھینک یو سو مچ رمشا… تمہاری وجہ سے آج میں بہت خوش ہوں..” رمشا نے گھر آ کر دراز سے فون نکال کر آن کیا تو رومیسہ کا ٹیکسٹ دیکھا..
"اینی ٹائم میسی…” رمشا نے اس کی بات کا مطلب سمجھے بغیر ریپلائی کیا..
اس کے بعد اس نے رانیہ کا نمبر ملایا.. دوسری بیل پر ہی اس نے کال پک کر لی…
"ہاۓ رانیہ کہاں ہو تم..؟؟”
"میں سنٹر جا رہی ہوں, راستے میں ہوں.. بعد میں بات کرتی ہوں… اللہ حافظ” رانیہ نے جلدی جلدی بات کی اور فون بند کر دیا. رمشا کو کسی گڑ بڑ کا احساس ہوا مگر اس نے اس خیال کو جھٹک دیا…
*————————*
"السلامُ علیکم رمشا باجی!! آپی سے میری بات کروا دیں .. کافی دیر سے ان کا نمبر ٹرائی کر رہی ہوں مگر بند ہے.” جب آٹھ بج گۓ اور رانیہ گھر نہیں آئی تو مہرین نے رمشا کو کال ملائی..
"میں کیسے بات کرواؤں مہرین.. میرے ساتھ تو نہیں ہے رانیہ..” رمشا نے صاف گوئی سے کام لیا..
"یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں رمشا باجی.. میں جب سے کالج سے آئی ہوں وہ غائب ہیں.. میں نے سنٹر بھی کال کی تھی مگر آج آپی وہاں بھی نہیں گئ..” مہرین کی تو جان ہی نکل گئی.. ابھی تک وہ تو یہ سوچ کر کچھ پر سکون تھی کہ رانیہ رمشا کی طرف ہی ہو گی…
"میں سچ کہہ رہی ہوں رانیہ مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں ہے رانیہ کا.. اِن فیکٹ میں صبح سے گھر نہیں تھی.. واپس آ کر اسے کال کی تو اس نے بتایا تھا کہ وہ سنٹر جا رہی ہے.”
"لیکن وہ تو سنٹر نہیں گئیں. پلیز رمشا باجی آپ میری طرف آ جائیں.. مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے.. آپی کبھی بھی اتنی دیر تک باہر نہیں رکیں.. اللہ کرے سب خیریت ہو…”
"میں ابھی آتی ہوں مہرین.. تم گھر ہی رہو اور کسی کے لیۓ بھی دروازہ مت کھولنا..” رمشا نے مہرین کو احتاطی تدابیر بتا کر فون بند کر دیا…
*—————————*
رامش کے کمرے سے نکالے جانے کے بعد پارسا سیدھی اپنے کمرے میں گئی اور سلطانہ بیگم کو فون کیا..
"امی اب میں مزید یہاں پر نہیں رک سکتی.. اپنا آپ بچھانے چلی تھی اس رامش پر مگر وہ تو میری طرف دیکھتا ہی نہیں…”
"دیکھے گا وہ تیری طرف بھی.. بس تو ویسا ہی کر جیسا تجھے سمجھایا تھا.. اور ہاں دردانہ کے مزاج کیسے ہیں…؟؟”
"وہ تو میرا بہت خیال رکھ رہی ہیں امی لیکن ان کے خیال سے مجھے غرض نہیں.. میں تو رامش کے لیۓ ادھر آئی ہوں..”
"انتظار کر پارسا.. میں نے دھوپ میں بال نہیں سفید کیۓ.. رامش اگر میری بیٹی کے نصیب میں نہ ہوا تو میں اسے رمشا کے قابل بھی نہیں چھوڑوں گی..”
*————
اذان سننے کے بعد رانیہ واش روم گئی اور وضو کرنے لگی.. وضو کرتے وقت اسے بہت گھٹن سی محسوس ہونے لگی.. اس کو چکر آنے لگے اور دم گھٹنے لگا… وضو کر کے اس نے بمشکل اپنا حجاب درست کیا اور دیوار کے سہارے دروازہ کھول کر باہر آئی.. ایبک پر اس کی نظر پڑی.. اسے کسی انہونی کا احساس ہوا.. اس نے بھاگنا چاہا مگر اس کے قدم بہت بھاری ہو گۓ تھے.. ایبک اس کی طرف بڑھا…
"یا رحیم !! میری مدد فرما….” رانیہ نے اللہ سے رحم مانگا… اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں.. آخری منظر میں اس نے ایبک کو اپنے اوپر جھکتے دیکھا..
*———————*
کل رامش کی منگنی کا دن تھا. دردانہ بیگم کی ساری تیاری مکمل تھی. انھوں نے اپنے آپ کو کافی حد تک سنبھالا ہوا تھا ورنہ پارسا کا دکھ انھیں چین نہیں لینے دے رہا تھا.. ابھی بھی وہ پارسا کے کمرے میں تھیں..
"خالہ ایک کام بتایا تھا امی نے آپ کو اور وہی کرتے ہوۓ آپ کی جان نکل گئی. آپ کو میری ذرا بھی پروا نہیں..” دردانہ بیگم سے بات کرتے ہوۓ پارسا آنسو بہانے لگی..
"ایسا نہیں ہے پارسا.. تم میرے لیۓ رامش سے بڑھ کر ہو.. میں نے تو پوری کوشش کی ہے لیکن فرمان صاحب کے آگے ہار گئی ہوں..” دردانہ بیگم نے پارسا کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا..
"سب نظر آ رہا ہے مجھے کس طرح آپ منگنی کی تیاری میں پیش پیش ہیں. یہ سب آپ سے کوئی زبردستی تو نہیں کروا سکتا.” پارسا نے ایک دم میں اپنا ہاتھ چھڑوایا.
"میری مجبوری سمجھنے کی کوشش کرو پارسا.. میں یہ سب اس گھر میں رہنے کے لیۓ کر رہی ہوں… ابھی تو صرف منگنی ہی ہو رہی ہے شادی تو نہیں…”
"مجھے آپ پر بالکل اعتبار نہیں خالہ.. آپ نے میری ذندگی تباہ کر دی ہے… رامش کو میں کبھی خوش نہیں رہنے دوں گی..” پارسا یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئی.. دردانہ بیگم کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس طرح سے سب کچھ سمیٹ لیں..
*—————–
رانیہ نے جیسے ہی ایبک کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا تو اس کو اپنی دنیا کے ختم ہونے کا احساس ہوا. آخری مرتبہ اس نے ایبک کو اپنے اوپر جھکتے دیکھا.. اس کی آنکھیں بند ہو گئیں. ایبک نے اس کو ہلانے کی کوشش کی مگر وہ بے ہوش ہی رہی.. ایبک نے تو سوچا تھا کہ یہاں پر رمشا جیسی کوئی لڑکی ہو گی مگر رانیہ تو بہت مختلف تھی. اس کا چہرہ حجاب میں مقید تھا جس پر بلا کی معصومیت تھی. ایبک کو اس چہرے کو دیکھ کر ایک خوف سا محسوس ہوا.. اچانک ہی دروازہ کھلا اور فلیش لائٹس کی روشنی کمرے میں پڑی..
*—————————-*
رمشا مہرین کے پاس پہنچ گئی تھی. اُس میں اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ وہ اسے تسلی دے سکے. رات کی سیاہی ہر طرف پھیل چکی تھی مگر رانیہ کا کچھ اتا پتا نہیں تھا.
"رمشا باجی خدا کے لیۓ آپی کو ڈھونڈیں.. کچھ بہت غلط ہونے والا ہے..” مہرین نے رانیہ کو دیکھ کر التجا کی..
"میں کچھ سوچتی ہوں مہرین.. تم پریشان مت ہو… رانیہ کو کچھ بھی نہیں ہو گا…” رمشا نے مہرین کے کندھے پر تھپکی دی. رمشا کے نمبر پر ایک انجان نمبر سے ٹیکسٹ آیا..
"تمہارا بہت شکریہ رمشا اتنی حسین مچھلی کے لیۓ.. کل کے اخباروں میں اپنی اس رانیہ کی عزت کا جنازہ دیکھنے کے لیۓ تیار رہنا.”
رمشا نے اس نمبر پر کال کی مگر وہ بند ہو چکا تھا…
"کیا ہوا رمشا باجی آپی کا کچھ پتا چلا…”
"چلو میرے ساتھ مہرین.. ہمیں جلدی سے پولیس کو انفارم کرنا پڑے گا…” رمشا نے اپنا بیگ اٹھایا اور مہرین کو ساتھ لے کر باہر نکل گئی.
*—————
تانیہ کچن میں گئی اور چاۓ بنا کر شہریار آفریدی کے کمرے میں آ گئی. شہریار آفریدی قران پاک کی تلاوت کرنے میں اس قدر محو تھا کہ اسے تانیہ کی موجودگی کا احساس نہیں ہوا. اُس نے چاۓ کا مگ بیڈ کے ساتھ دراز پر رکھا اور شہریار آفریدی کو دیکھنے لگی…
"شہریار صاحب آپ تلاوت کرتے ہوۓ بہت پیارے لگ رہے ہیں. میرے دل میں آپ کو دیکھ کر ایک ہلچل سی کیوں ہونے لگتی ہے جی. میرا دل چاہتا ہے میں آپ کو لے کر اس دنیا سے کہیں دُور چلی جاؤں جہاں پر صرف ہم دونوں ہوں بس…” تانیہ دل ہی دل میں بولنے لگی..
شہریار آفریدی نے قران پاک بند کیا تو اس کی نظر تانیہ پر پڑی..
"تانیہ آپ اس ٹائم کیوں آ گئی. کوئی کام تھا کیا…؟؟” شہریار آفریدی اسے دیکھتے کر بولا..
"وہ جی میں نے سوچا آپ تھکے ہوں گے تو چاۓ دے آؤں…”
"اس گھر میں ملازموں کے ہوتے ہوۓ آپ کام مت کیا کریں تانیہ.. مجھے اچھا نہیں لگتا اپنے لیۓ آپ کا یہ سب کرنا..” شہریار آفریدی نے قران پاک شیلف پر رکھا اور اپنے بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا..
"آپ نے میرے لیۓ جو کیا ہے اس کے بدلے تو یہ کچھ بھی نہیں ہے شہریار صاحب.. میں ساری ذندگی آپ کی خدمت کرنا چاہتی ہوں…” تانیہ وہیں کھڑے کھڑے بولی… شہریار کا اس کی پروا کرنا تانیہ کو بہت اچھا لگا…
"میں نے جو کیا وہ میرا فرض تھا. مجھے اس سب کے بدلے آپ کی خدمت نہیں چاہیۓ.”
"اچھا آپ یہ چاۓ پی لیں جی… میں جاتی ہوں اپنے کمرے میں…” تانیہ نے چاۓ کا کپ شہریار کو تھمایا.. اس کے ہاتھ شہریار آفریدی کے مردانہ ہاتھوں کے ساتھ ٹکراۓ تو اس نے شرم سے نظریں جھکا لیں.. اس کی دھڑکن بے قابو ہو گئی.. وہ دوڑتی ہوئی اپنے کمرے میں گئ اور بیڈ پر لیٹ کر سہانے خواب بُننے لگی…
*————————-*
ایبک نے رانیہ کے چہرے پر اس کا دوپٹا ڈال دیا اور تھوڑا پیچھے ہٹ گیا..
"تم کون ہو اور کیوں آۓ ہو یہاں.؟؟” اس نے دروازے میں کیمرہ پکڑے لڑکے سے سوال کیا..
"یہاں پر جو دھندا ہو رہا ہے ہم اُسے بے نقاب کرنے آۓ ہیں..” اس لڑکے نے رانیہ کے ساکت وجود کی تصویر بناتے ہوۓ جواب دیا.
ایبک نے اس لڑکے سے کیمرہ چھین کر دور پھینکا. اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کو قتل کر دیتا.. وہاں کھڑے دوسرے لڑکے نے وہ کیمرہ اٹھایا اور باہر کی طرف بھاگا.. ایبک اس کی طرف لپکنے لگا تو پہلے لڑکے نے اسے دھکا دیا.. ایبک کا سر دیوار سے ٹکرایا اور اس سے خون بہنے لگا مگر اس میں ابھی بھی اتنی جان باقی تھی کہ وہ دوڑ سکتا.. وہ تیز تیز باہر بھاگا..
پہلے لڑکے نے دروازہ بند کیا اور رانیہ کی طرف آ گیا.. اس نے رانیہ کے چہرے سے دوپٹا ہٹایا اور اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگا..
رانیہ نے آنکھیں کھولنے کہ کوشش کی مگر وہ اس قدر بھاری ہو گئی تھیں کہ ایک دم بند ہو گئیں. وہ نیم بے ہوشی میں بولی..
"میں کہاں ہوں اور تم کون ہو…؟؟”
"یُو آر اِن ہیون مائی کوین.. لیٹس میک فن…” اس لڑکے نے رانیہ کے حجاب کی پِن کھول دی .. رانیہ پھر سے بے ہوش ہو گئی..
*————————*
"رومیسہ تمہارا وہ ایبک تو بہت بڑا مسئلہ ہے.. ایک تو اس نے نعمان سے کیمرہ چھینا اور دوسرا اس لڑکی کے چہرے کی ایک تصویر بھی نہیں بنانے دی…” گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولتے ہوۓ قریشی نے رومیسہ کو بتایا..
"اوہ گاڈ.. کچھ بھی کرو مگر ان تصویروں کو میرے پاس لے أؤ.. باقی سب میں سنبھال لوں گی.. اور ہاں تمہیں تمہارا شیئر مل جاۓ گا…” رومیسہ کو ان تصویروں کی فکر ستانے لگی…
"تم فکر نہ کرو وہ کیمرہ بھی میرے پاس ہے اور تصویریں بھی… بہت جلد تمہاری امانت تمہارے پاس ہو گی”
"تھینک ہو سو مچ قریشی… تم نہیں جانتے یہ سب میرے لیۓ کتنا امپارٹنٹ ہے…”
"آئی نو ایوری تھنگ رومیسہ….” قریشی نے فون بند کر دیا..
*————————*
رمشا پولیس اسٹیشن میں رانیہ کی مسنگ رپورٹ لکھوانے جا رہی تھی کہ راستے میں اسے بیک ویو مِرر میں ایبک دوڑتا ہوا نظر آیا. اس کی چھٹی حِس نے کچھ غلط ہونے کا اشارہ کیا.
"رمشا باجی یہ آپ نے گاڑی اس روٹ پر کیوں موڑ دی.. ہم نے تو اس طرف جانا ہے….” مہرین نے رمشا کو گاڑی غلط روٹ پر لے جاتے دیکھا تو وہ بولی..
"مہرین مجھے لگ رہا ہے ہمارے سوالوں کا جواب ایبک کے پاس ہی ہے…”
"مگر ہمیں تو آپی کو…” رمشا نے مہرین کی بات کاٹ دی..
"تھوڑا سا صبر رکھو مہرین.. بہت جلد ہم رانیہ کے پاس ہوں گے…”


