منتخب غزلیں

فِراقؔ گورکھپُوری ۔ خود کو کھویا بھی کہاں، عِشق کو…

فِراقؔ گورکھپُوری
۔
خود کو کھویا بھی کہاں، عِشق کو پایا بھی کہاں
کرسکے اہلِ وَفا تیری تمنّا بھی کہاں

شادی وغم سے بہت دُور ہے اب مستیِ عِشق
آج پُہنچی ہے تِری رنجشِ بے جا بھی کہاں

یُوں توکوئی نظر آتا ہی نہیں تیرے سِوا
نگہۂ شوق نے ، لیکن تُجھے دیکھا بھی کہاں

مشکلیں عِشق کی، پاکر بھی تُجھے کیا مِٹتیں
اِتنا آسان، تِرے ہجر کا غم تھا بھی کہاں

مُفت بدنام ہُوا نام بھی بدنامی کا !
ہو سکا کوئی تِرے عِشق میں رُسوا بھی کہا ں

ہم نے مانا، کہ غمِ ہجر بھی دھوکہ ہے فِراقؔ!
اور اگر غور کریں دِل میں تو دھوکہ بھی کہاں

فِراقؔ گورکھپُوری


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/