#تیری_دیوانی_از_سحرعلی #قسط_10_حصہ_اول وہ وہ۔۔ …

#قسط_10_حصہ_اول
وہ وہ۔۔ ادھر سے کال آئی ہے۔۔
کہاں سے بھابھی پلیز مجھے سہی طرح بتائیں۔۔ میر دل بند ہوجائے گا۔۔ اس نے سینے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔۔
وہ ان لوگوں کا ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے۔۔ ارسل کے بڑے بھائی کی موقع پر ہی ڈیتھ ہو گئی اور ان کی بیوی ہاسپٹل میں ہیں۔
یااللہ خیر۔۔ وہ اس سے آگے کچھ نہ بول سکی۔
ڈیڈ اور بڑے پاپا تو ہاسپٹل چلے گئے ہیں۔۔ تابش بھی بڑی ماما اور دادو کو لے کر ان کے گھر جا رہے ہیں۔۔ پتہ نہیں اب آگے کیا ہو گا۔۔ میرا تو سوچ سوچ کر برا حال ہو رہا ہے۔
زرتاشہ کچھ نہ بولی۔
سنو تم چینج کرلو میں بھی چینج کر کے آتی ہوں۔۔ تابش تھوڑی دیر تک آتے ہیں پھر ہم دونوں کو بھی جانا ہے۔
مگرم بھابھی۔۔ میں؟
ہاں تاشہ بڑی ماما کہہ رہی تھیں تمہیں بھی جانا چاہیے۔۔ دادو نے تو کہا تھا کہ شادی سے پہلے تمہارا اس گھر میں جانا مناسب نہیں لگتا۔۔ مگر بڑی ماما نے انہیں سمجھایا کہ اب وہ دور نہیں ہے کہ لڑکی شادی سے پہلے اپنے ہونے والے سسرال نہ جائے۔۔
اگر یہ نہ گئی تو ہو سکتا اس کی ساس برا مان جائیں۔۔ کیونکہ اب وقت کافی بدل چکا ہے۔۔ تو پھر دادو نے کہا ہے ٹھیک ہے تھوڑی دیر کے لیے
چلی جائے۔
اچھا۔۔ ٹھیک ہے بھابھی میں چینج کر لیتی ہوں۔
ٹھیک ہے میں بھی دیکھوں باہر۔۔ بڑے پاپا نے معزرت کرلی تھی مہمانوں سے تو سب لوگ واپس چلے گئے ہوں گے اب تک۔۔ انہوں نے اپنے کچھ قریبی رشتہ داروں کو مدعو کیا تھا جن میں شہناز بیگم کے اور مومنہ کے میکے والوں میں سے چند ایک فیملی اور زرتاشہ کی خالہ ماموں شامل تھے۔
وہ کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔۔ بیوٹیشن بھی اس کے ساتھ چلی گئی اب کمرے میں زرتاشہ اکیلی رہ گئی تھی۔۔
یااللہ یہ سب کیا ہے۔۔ کیا ہو رہا ہے۔۔ کیا اس لیے میرا دل بےچین تھا یا کوئی اور وجہ۔۔ اسے ابھی بھی کسی خوف نے گھیرا ہوا تھا۔۔ کیا بس اتنی سی ہے زندگی۔۔ بس اتنا ہی اختیار ہے ہمارا اپنی زندگیوں پر۔۔ وہ سوچ رہی تھی۔۔ کیسے خوشی والا گھر ماتم خانہ بن گیا۔ اللہ مدد فرمانا ہم سب کی۔۔ ہمیں ہر طرح کی مشکل سے بچانا۔۔ اس نے دل سے دعا کی اور کپڑے لے کر واش روم میں گھس گئی۔
۞۞۞۞
جیسے ہی زرتاشہ اور مومنہ نے ان کے گھر میں قدم رکھا تو سامنے نڈھال بیٹھی ارسل کی والدہ پر نظر پڑی۔۔
ان دونوں کے ساتھ احمد صاحب اور احسن صاحب بھی تھے۔
بیٹا جاؤ۔۔ بھابھی سے ملو جا کر۔۔ احمد صاحب نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔
مومنہ زرتاشہ کو ساتھ لیے آگے بڑھی تو مسز جبار کی گرج دار آواز نے ان کے قدم روک دیے۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں آنے کی۔۔ دفع ہو جاؤ اپنی نہوست لے کر۔۔ اس گھر میں آنے سے پہلے ہی میرا گھر اجاڑ دیا۔۔ وہ زرتاشہ کی طرف بڑھیں اور دیوانہ وار چلانے لگیں۔۔ وہاں بیٹھا ہر شخص حیرت کا شکار تھا۔۔ عورتیں مڑ مڑ کر زرتاشہ کو دیکھ رہی تھیں۔۔ مگر وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔
کیوں کھڑی ہو ابھی تک نکل جاؤ اپنے منحوس قدم لے کر اس گھر سے۔۔ انہوں نے زرتاشہ کو دھکا دیا تو وہ سنبھلتے سنبھلتے بھی گر گئی۔۔ احمد صاحب اور احسن صاحب فوراً اس کے آگے ڈھال بنے۔
مومنہ نے اسے اٹھایا اور ساتھ لے کر پیچھے ہو گئی۔۔ شہناز بیگم اور دادی بھی اٹھ کر ان کے ساتھ آئیں جو ایک طرف بیٹھیں خواتین کے ساتھ قرآن پاک پڑھ رہی تھی۔
یہ منہوس ہے۔۔ وہ پھر سے چلائیں۔۔ ارسل جو باہر کھڑا تھا شور سن کر اندر آیا۔۔ تابش بھی اس کے پیچھے دوڑھا آیا۔۔ ارسل کی بہن نے اپنی ماں کو پکڑا۔۔ ماما یہ کیا کر رہی ہیں آپ۔۔ بھابھی کا اس۔۔۔
خبردار۔۔ خبردار جواسے بھابھی کہا۔۔۔ منہوس ہے یہ۔۔ آنے سے پہلے ہی میرا بیٹا مار دیا۔ اپنی بیٹی کے ہاتھ جھٹک کر چلانے لگیں۔۔ ان کی دماغی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔ ارسل یہ سب دیکھ کر شرمندہ ہو گیا۔۔ اپنی ماں کو ذبردستی پکڑ کر چپ کروانے لگا۔
چھوڑو مجھے۔۔ میں اسے مار دوں گی۔۔ یہ کیوں آئی ہے۔۔ اسے نکالو۔۔ ڈائن ہے یہ۔۔
بس بہن جی۔۔ احمد صاحب تیش میں آگئے۔۔ ہم یہاں آپ کا غم بانٹنے آئے ہیں اور آپ ہماری ہی بیٹی کو برا بھلا کہے جا رہی ہیں۔
کس نے کہا تھا آئیں یہاں۔۔ ہماری بربادی کا تماشہ دیکھنے آئے ہیں۔۔ یہ سب اس کی وجہ سے ہوا۔۔ اس کی نہوست نے ہمارے گھر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔ وہ اس طرح بول رہی تھیں کہ کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ ہی مہزب اور پڑھی لکھی خاتون ہیں۔
بس کریں۔۔ نہوست کیا ہوتی ہے۔۔ یہ اللہ کا قانون ہے جو آیا ہے وہ جائے گا بھی۔۔ اب اگر آپ نے میری بیٹی کے بارے میں ایک لفظ بھی کہا تو میں بھول جاؤں گا آپ ہمارے بہت اچھے دوست کی بیوا ہیں۔۔ احمد صاحب بھی بغیر کسی لحاظ کے چلائے۔
بھول جائیں۔۔ مگر یہ مت بھولیں اس لڑکی نے دنیا میں آتے ہی اپنی ماں کو مار دیا۔۔ اور اب میرے ہنستے بستے گھر کو برباد کر دیا۔
بس اب ایک اور بھی لفظ نہیں۔۔ میری بیٹی آپ جیسے لوگوں کے قابل ہی نہیں ہے۔۔ احمد صاحب نے غصے سے کہا۔۔ تابش ان کی طرف بڑھا اور اپنے بازؤں کے گھیرے میں لیا۔۔ چلیں بڑے پاپا کوئی فائدہ نہیں یہاں رکنے کا۔۔ وہ انہیں لے کر مڑا تو پیچھے سے مسز جبار کی آواز آئی۔۔
ہاں نہیں قابل یہ ہمارے۔۔ آپ کے قابل ہے۔۔ آپ کا بھی بیٹا ہے بنا لیں اسے اپنی بہو۔۔ پھر جب یہ آپ کے بیٹے کو بھی کھا جائے گی پھر میں آپ سے پوچھوں گی۔۔ وہ کیا کچھ بول رہی تھیں شاید انہیں خود بھی اندازہ نہیں تھا۔۔ شہناز بیگم نے دہل کر دل پر ہاتھ رکھا۔۔ احمد صاحب تو بالکل گنگ ہو گئے تھے۔۔ زرتاشہ کی حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔ وہاں پہ موجود کوئی شخص بھی بولنے کے قابل نہ رہا تھا۔
ارسل نے اپنی بہن کو اشارہ کیا تو وہ کچھ خواتین کے ساتھ مل کر اپنی ماں کو زبردستی کھینچ کر اند لے گئی۔۔ وہ کسی طور چپ ہونے کا نام نہ لے رہی تھیں۔
ان کے جانے کے بعد ارسل ان کی طرف بڑھا۔۔ سوری انکل۔۔ ماما صدمے میں ہیں اس لیے وہ کچھ بول گئیں جو انہیں نہیں بولنا چاہیے تھا۔۔ میں انکی طرف سے آپ سب سے معافی مانگتا ہوں۔
اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے بیٹا۔۔ اب ہمارا یہاں رکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا اس لیے ہم چلتے ہیں۔۔
اللہ انہیں صبر اور برداشت دے۔ اتنا کہنے کے بعد وہ سب کو لیے باہر آگئے۔
زرتاشہ مرے مرے قدموں سے چل رہی تھی۔۔ ذہن میں اب سے کچھ دیر پہلے کہا گیا جملہ گردش کرنے لگا۔۔ ماں کو اس دنیا میں آتے ہی مار دیا۔
آج سے پہلے اسے اس بات کا کبھی احساس نہ ہوا تھا کہ اس کی کوئی ماں بھی تھی جو اسے اس دنیا میں لانے کے بعد یہاں سے چلی گئی۔
اس کے لیے تو شہناز بیگم ہی ماں تھیں۔۔ اور گھر والوں نے بھی کبھی اس چیز کا ذکر ہی نہ کیا۔۔ اس کی تو کل کائنات اس کے ساتھ موجود تھی۔۔ اس کے ڈیڈ بڑی ماما بڑے پاپا دادو بھائی۔۔ اور بھابھی جو اس کی بہن بھی تھیں اور دوست بھی۔۔ اور زاویار۔۔ اسے کبھی کسی اور رشتے کا نہ تو احساس ہوا اور نہ کسی نے ضرورت محسوس ہوئی پھر یہ۔۔ انہوں نے کیا کہہ دیا۔
زاویار بھائی۔۔ اس کے لب ہلے۔۔ "کیا۔۔ کیا کہا انہوں نے بڑے پاپا کو۔۔ "بہو”۔۔ اس کے ذہن میں جھماکا ہوا”۔ وہ اپنی ہی نظروں میں گر گئی۔۔ کسی سے نظر ملانے کی ہمت نہ ہو رہی تھی۔۔ وہ کس طرح گاڑی میں آ کر بیٹھی تھی کب راستہ کٹا اور وہ گھر پہنچ گئی۔۔ ان سوچوں کے دوران اسے سفر کا پتہ ہی نہ چلا۔
تاشہ چندا گھر آگیا ہے۔۔ چلو اندر مومنہ بھابھی کی آواز اسے حال میں لے کر آئی۔
ج جی۔۔ اس نے کھوئی کھوئی نظروں سے اسے دیکھا۔ پھر اس نے ادھر ادھر دیکھا کوئی موجود نہ تھا۔۔ سب اندر جا چکے تھے۔
وہ بھی نکل کر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اندر آگئی۔
ہال کمرے میں سب بیٹھے نظر آئے۔۔ دادی کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔ بھول جاؤ کہ ہمارا اس گھر سے کوئی رشتہ تھا۔۔ ہم اتنے گرے پڑے نہیں ہیں کہ اپنی لاڈوں میں پلی بیٹی ایسے نیچ لوگوں کے حوالے کر دیں جو اللہ کی مصلحت کو انسان کی غلطی تصور کرتے ہیں۔
جی اماں۔۔ میں بھی آج ان کی اصلیت دیکھ کر اپنی بیٹی ان لوگوں کے حوالے نہیں کر سکتا۔۔ یہ احمد صاحب کی آواز تھی۔۔ جو بہت دیر سے خاموش بیٹھے تھے۔
احسن صاحب کو تو گویا چپ لگ گئی تھی۔
وہ چپ چاپ آگے بڑھی اور اپنے کمرے میں جا کر بند ہو گئی۔
کاچھ دیر گزرنے کے بعد بھابھی اس کے کمرے میں آئیں مگر دروازہ بند ملا۔
تاشہ دروازہ کھولو۔۔ مگر اندر سے کوئی آواز نہ آئی۔
انہوں نے پھر دروازہ پیٹا۔۔ دروازہ کھولو زرتاشہ کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔ وہ غم و غصہ کی ملی جلی کیفیت میں بولیں۔
جائیں بھابھی پلیز۔۔ میں نہیں چاہتی میری نہوست اس گھر پر پڑے۔۔ اندر سے چلانے کی آواز آئی۔
شٹ اپ۔۔ بند کرو یہ فضول بکواس۔۔ اور دروزہ کھولو ڈیڈ بلا رہے ہیں تمہیں۔
نہیں آنا مجھے باہر۔۔ آپ جائیں۔۔ اس نے صاف انکار کیا۔
ٹھیک ہے اب ڈیڈ خود ہی تمہیں آئیں گے بلانے وہ کہہ کر مڑی تو سامنے احسن صاحب کھڑے نظر آئے۔۔ ڈیڈ آپ کیوں آگئے۔۔ میں لا رہی ہوں اسے۔۔ انہوں نے احسن صاحب سے کہا جو غم کی تصویر لگ رہے تھے۔۔ جنہیں چند گھنٹوں نے بوڑھا کر دیا تھا۔
ڈیڈ۔۔ مومنہ نے انہیں پکارا جو سینے پہ ہاتھ رکھے درد سے کراہ رہے تھے۔۔
ڈیڈ۔۔ ڈیڈ کیا ہوا ہے۔۔ مومنہ نے انہیں تھاما احسن صاحب نے ایک نظر زرتاشہ کے کمرے کے بند دروازے پر ڈالی۔۔ اور نیچے جھکتے چلے گئے۔
تابش۔۔ بڑے پاپا۔۔ مومنہ چلانے لگی۔۔ دیکھیں ڈیڈ کو کیا ہوا۔۔ ڈیڈ پلیز آنکھیں کھولیں۔۔ وہ چیخ چیخ کر انہیں آوازیں دے رہی تھی۔
سب لوگ شور سن کر دوڑھے چلے آئے۔۔ زرتاشہ نے بھی مومنہ کی آواز سنی تو دروازہ کھول کر باہر آئی۔۔ جیسے ہی نظر زمین پر پڑے احسن صاحب پر پڑی تو قدم اٹھنے سے انکاری ہو گئے۔
ڈیڈ۔۔ کیا ہوا ہے آپ کو۔۔ آنکھیں کھولیں پلیز۔۔ تابش انہیں پکار رہا تھا جو زمین پر بےسدھ پڑے تھے۔۔ گھر میں ایک دم چیخ و پکار پھیل گیا۔
تابش اسے ہاسپٹل لے جانا ہے چلو۔۔ جلدی کرو۔۔ یہ احمد صاحب کی آواز تھی۔۔ ایمبولینس کا انتظار کر کے وہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے وہ دونوں انہیں گاڑی میں ڈالے ہسپتال روانہ ہو گئے۔ ہر کوئی غم سے نڈھال تھا۔۔ اماں کی حالت ابتر ہو رہی تھی۔ جس ماں کا بیٹا اس کی آنکھوں کے سامنے زندگی اور موت کی کشمکش میں ہو تو کیا حال ہو گا اس کا۔
کچھ دیر گزری تو احمد صاحب نے گھر فون کر کے زرتاشہ کو لانے کا کہا۔
احسن صاحب کی حالت خطرے سے خالی نہیں تھی۔۔ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔۔ کچھ دیر کے لیے ہوش میں آتے ہی زرتاشہ کو پکارنے لگے۔
ڈاکٹر کی ہدایت پر احمد صاحب نے زرتاشہ کو ہسپتال بلوا لیا۔
وہ بالکل خاموش ہو گئی تھی آنکھیں خشک تھیں۔۔ شہناز بیگم ڈرائور کے ہمراہ اسے لے کر ہسپتال پہنچیں تو تابش نے اسے دیکھ کر دوسری طرف رخ پھیر لیا۔۔ شاید وہ بھی زرتاشہ کی یہ حالت دیکھ نہ پایا تھا۔
احمد صاحب نے سر پر ہاتھ پھرا اور اسے ساتھ لیے ICU کی جانب بڑھے۔ ڈاکٹر سے اجازت لے کر اسے اندر جانے کو کہا۔۔
جاؤ بیٹا تمہارے ڈیڈ تمہیں بلا رہے ہیں۔۔ اس نے خالی خالی نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔۔ کیا تھا اس کی آنکھوں میں کوئی اجڑی ہوئی ویران زندگی کی مثال لگ رہی تھی۔ احمد صاحب سے برداشت نہ ہوا تو رخ پھیر لیا۔ آنکھیں پانی سے بھر گئیں۔
تاشہ میری جان جاؤ اپنے ڈیڈ کی بات سنو۔۔ بری بات ہے ایسے کسی کو انتظار نہیں کرواتے وہ انتظار کر رہے ہیں۔۔ شہناز بیگم نے کہا۔
بڑی ماما۔۔ میں نہیں جاؤں گی۔۔ ڈیڈ۔۔ بھی مجھ سے۔۔ اس سے آگے وہ کچھ بول نہ سکی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔۔ شہناز بیگم نے اسے گلے لگایا۔۔ یو آر آ بریو گرل۔۔ میری بیٹی ہو ناں۔۔ ایسی بات نہیں کرتے۔۔ اللہ سے اچھی امید رکھتے ہیں۔۔ چلو شاباش جلدی جاؤ اپنے ڈیڈ کی بات سن کے آؤ۔۔ انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر کی طرف دھکیلا۔۔ وہ مرے مرے قدموں سے چلتی ہوئی اندر آگئی۔۔ احسن صاحب مشینوں میں جکڑے ہوئے تھے۔۔
وہ ان کے قریب گئی اور انہیں پکارنے لگی۔۔ ڈیڈ۔۔ آپ کی تاشہ آگئی ہے۔۔ ڈیڈ آپ مجھ سے ناراض۔۔ نہ ہو۔۔ آنسوؤں کے دوران وہ بول رہی تھی۔
احسن صاحب اس کی آواز سن رہے تھے۔۔ زرتاشہ نے ڈرتے ڈرتے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔۔ ڈیڈ آنکھیں کھولیں پلیز۔۔ اس کی آواز اتنی مدھم تھی کہ خود کو بھی سنائی نہ دے رہی تھی۔
احسن صاحب نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
ڈیڈ۔۔ میں۔۔ میں نے کچھ۔۔ نہیں کیا۔۔ اس نے تڑپ کر کہا۔
تاشہ۔۔ دھیان۔۔ مت دینا۔۔ کسی۔۔ کی بات۔۔ کا۔۔ میری۔۔ بیٹی۔۔ ہو تم۔۔ رحمت ہو۔۔ یہ لوگ ۔۔ ج۔۔جھوٹ بولتے ہیں۔۔ ان کی آواز مدھم ہو گئی۔۔ زرتاشہ نے گھبرا کر انہیں دیکھا پھر۔۔ سامنے لگی مشینوں کو دیکھنے لگی۔۔
ڈی۔۔ڈ۔۔ اس کے آنسوؤں میں روانی آ گئی۔۔ ڈاکٹر ان کی بگڑتی حالت دیکھ کر ان کی طرف بڑھے۔۔ ایک نرس زرتاشہ کو باہر بھیج رہی تھی مگر وہ وہیں کھڑی باپ کو خود سے دور جاتا دیکھتی رہی۔
میری بہادر بیٹی۔۔ ایک بھی۔۔ آنسو۔۔ نہیں۔۔۔ اس سے آگے وہ کچھ بول نہ سکے۔۔
زرتاشہ الٹے قدموں باہر نکلی اور ہسپتال سے باہر کی طرف بھاگی۔۔
تابش نے اسے نکل کر باہر جاتا دیکھا تو اس کے پیچھے بھاگا۔۔ اس پکڑ کر اپنی باہوں میں بھینچ لیا۔۔ بھئیا۔۔ وہ۔۔ وہ۔۔ ڈیڈ۔۔
اتنے میں ڈاکٹر باہر نکلا۔۔ احد صاحب فورا ڈاکٹر کے پاس گئے۔۔ کیسا ہے احسن؟
آئی ایم سوری۔۔ ہی از نو مور۔۔ ڈاکڑر اپنے روایتی انداز میں کہتا آگے بڑھ گیا۔
انہیں زندگی نے اتنی مہلت ہی دی تھی۔۔ ان کا زندگی سے ناتا ٹوٹ گیا۔
تابش نے جیسے ہی سنا زرتاشہ کو خود سے دور کیا اور ڈاکٹر کو آواز دی۔۔ ڈاکٹر مڑا اور سولیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔ تابش نے آگے بڑھ کر اس کا گریبان پکڑ کر جھنجوڑ ڈالا۔۔ ک کیا بکواس کی ہے۔۔ میرے۔۔ ڈیڈ۔۔
احمد صاحب یہ سب دیکھ کر ان دونوں کی طرف آئے اور ڈاکٹر کو تابش کی گرفت سے آزاد کروایا۔۔ چھوڑو تابش بیٹا۔۔ یہ کیا کر رہے ہو۔
بڑے پاپا۔۔ یہ۔۔ یہ ڈیڈ کے بارے میں۔۔۔۔ مار دوں گا میں اسے ایسا بولا تو۔۔ وہ ایک بار پھر ڈاکٹر پر جھپٹا۔
تابش۔۔ ہوش کرو۔۔ احمد صاحب نے اسے پرے دھکیلا۔۔ اور ڈاکٹر سے معزرت کرنے لگے۔۔ پھر وہ تابش کو اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے دور لے آئے جہاں زرتاشہ اور شہناز بیگم کھڑیں یہ سب تماشہ دیکھ رہی تھیں۔۔ شہناز بیگم کی آنکھیں پانی سے بھری تھیں مگر زرتاشہ خالی خالی نظروں سے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔۔ پاس ان کا ڈرائیور بھی احسن صاحب کی موت کی خبر سن کر آبدیدہ کھڑا تھا۔
اشرف تم ان لوگوں کو لے کر گھر چلو۔۔ میں ڈیڈباڈی لے کر آتا ہوں۔۔ انہوں نے ڈرائیور سے کہا۔
میں کہیں نہیں جاؤں گا اپنے ڈیڈ کو چھوڑ کر۔۔ کچھ نہیں ہوا ڈیڈ کو۔۔ یہ سب جھوٹ بولتے ہیں۔۔ تابش چلایا۔
اچھا ٹھیک ہے تم کہیں مت جاؤ۔۔ اس کو جواب دے کر وہ شہناز بیگم کی طرف بڑھے۔۔ آپ جائیں تاشہ کو لے کر۔۔ اس کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔۔ ہم لوگ کچھ دیر میں گھر پہنچتے ہیں۔۔ پلیز اماں کو سنبھال۔۔۔ احمد صاحب سے مزید بولا نہ گیا۔۔ چھوٹے بھائی کی اچانک موت اور بچوں کی اجڑی حالت دیکھ کر انہیں اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
میں سنبھال لوں گی۔۔ آپ حوصلہ کریں۔۔ ان بچوں کو کون سنبھالے گا اگر آپ ہمت ہار گئے۔۔ شہناز بیگم نے شوہر کوتسلی دی اور زرتاشہ کو ساتھ لیے باہر چلی گئیں۔۔ ڈرائیور انہیں لے کر گھر پہنچا تو مومنہ گاڑی کی آواز سن کر باہر بھاگی آئی۔
شہناز بیگم نے زرتاشہ کو گاڑی سے نکالا وہ مرے مرے قدم اٹھا کر آگے چلتی گئی۔۔
بڑی ماما۔۔ باقی سب کہاں ہیں۔۔ ڈیڈ۔۔ ڈیڈ کیسے ہیں؟ مومنہ نے شہناز بیگم کا ہاتھ تھام لیا۔
انہوں نے کوئی جواب نہ دیا اور مومنہ کے گلے لگ کر رونے لگیں۔۔
بڑی ماما۔۔ ک۔ کیا ہوا ہے۔۔ ڈیڈ۔۔ اس سے مزید کچھ بولا نہ گیا۔
احسن بھائی چلے گئے۔۔ چھوڑ کر چلے گئے ہمیں۔۔ وہ رو رو کر کہنے لگیں۔
مومنہ کو تو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا تو ان سے دور ہٹی۔۔ پھر اگلے ہی پل انہیں کندھوں سے تھام کر جھنجوڑا۔۔ بڑی ماما۔۔ یہ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔
سچ کہہ رہی ہوں بیٹا۔۔ ہمارے گھر کو نظر لگ گئی۔۔ احسن بھائی ہمیں چھوڑ گئے۔۔ آنسو ابھی تک جاری تھے۔۔ اچانک انہیں اماں کا خیال آیا۔
اماں کدھر ہیں۔۔ اور تاشہ۔۔ وہ۔۔ وہ کہاں گئی ابھی تو ادھر تھی۔۔ انہوں نے نظر گھما کر اپنے اطراف میں دیکھا۔
وہ اندر چلی گئی ہے۔۔ اور دادو تو اس وقت سے جائے نماز پر بیٹھی ہیں۔۔ اللہ نے ان کی بھی نہیں سنی۔۔ مومنہ نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا۔
بس بیٹا۔۔ سنبھالو خود کو۔۔ ہمت سے کام لینا ہے ہم نے۔۔ تاشہ کی حالت نہیں ٹھیک اور تابش تو جیسے۔۔ دیوانہ ہو گیا ہے۔۔ میرے بچے۔۔
اللہ نے کس آزمائش میں ڈال دیا ہے میرے بچوں کو۔۔ کچھ آنسو پھر ان کی آنکھں سے گرے مگر انہوں نے رگڑ دیا۔
میں اماں کو دیکھوں۔۔ تم زرتاشہ کے پاس جاؤ۔۔ وہ لوگ آتے ہی ہوں گے ڈیڈباڈی لے کر۔۔ وہ کہتے ہی اندر چلی گئیں۔
اماں کے کمرے میں داخل ہوئیں تو وہ جائے نماز پر بیٹھیں اپنے جھریوں والے ہاتھ خدا کی بارگاہ میں پھیلائے بیٹھی نظر آئیں۔۔
اماں۔۔ انہوں نے ہولے سے پکارا۔
اماں نے آنکھیں کھولیں اور بھیگی آنکھوں سے شہناز بیگم کی طرف دیکھا۔
میرا بچہ کیسا ہے شہناز۔۔ اللہ سے بہت مانگا ہے۔۔ آگے اس کی مرضی۔
اماں۔۔ وہ ان کے قریب ہی زمین پر بیٹھ گئیں۔
بول ناں بہو۔۔ اللہ نے میری سن لی؟ انہوں نے ایک امید سے پوچھا۔
اماں۔۔ اللہ تو سب کی سنتا ہے۔۔ مگر کرتا وہ ہی ہے جو ہمارے لیے بہتر ہوتا ہے۔۔ وہ ایک ماں کی آس نہیں توڑ سکتی تھیں۔۔ ان میں اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ ایک ماں کو بتا دیں کہ اللہ نے ان کا بیٹا ان سے لے لیا ہے۔
بہو مجھے اور مت آزما۔۔ بس یہ بتا دے احسن۔۔ اماں سے آگے بولا نہ گیا ان کی آواز رندھ گئی۔۔ جھریوں بھرا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔
اماں۔۔ احسن بھائی جس کی امانت تھے اس کے پاس چلے گئے۔۔ شہناز بیگ نے انہیں اپنے سینے سے لگا لیا۔۔
اماں چپ چاپ آنسو بہاتی رہیں۔۔ نہ شور کیا نہ اللہ سے کوئی شکواہ۔۔ کچھ دیر گزری تو سیدھی ہوئیں۔۔ پھر اپنے کانپتے ہاتھ شہناز بیگم کے ہاتھوں پہ رکھے۔
وہ آگیا ہے؟ آہستگی سے سوال کیا جیسے یہ بات خود سے بھی چھپانا چاہتی ہوں۔
لا رہے ہیں۔۔ آپ آئیں باہر۔۔ وہ انہیں ساتھ لیے باہر آگئیں۔
میت گھر آگئی۔۔ گھر میں لوگوں کا ہجوم لگ گیا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔۔ طرح طرح کے لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے۔
جاری ہے۔۔


