مختصر کہانیاں

یارم (سمیرا حمید) قسط نمبر 25 . کیسی ہو مینڈکی؟ و…

یارم (سمیرا حمید)
قسط نمبر 25
.
کیسی ہو مینڈکی؟
وہ اپنی کتابیں ایشو کروا چکی تھی، اور یونیورسٹی کا منحوس ترین انسان کارل اپنی کتابیں ایشو کروا رہا تھا۔
چیونگم سے وہ ایسے پٹاخے پھوڑ رہا تھا اور اتنی تیزی سے جیسے اسے جلد از جلد اس چیونگم سے ننھا بم تیار کرنا ہو اور وہ بم اس کے منہ میں ہی تیار ہونا ہو۔۔۔ اور پھر اس نے وہ بم پر دے مارنا ہو۔
امرحہ سے بہترین کون مستحق ہوگا کارل کے بم کا۔۔۔
کچھ شزا کا غصہ۔۔۔ کچھ سے زیادہ اپنے اندر کا دکھ اور کچھ ہارٹ راک میں ڈسک کا چلایا جانا،اس نے ہاتھ میں پکڑی تین وزنی، موٹی کتابوں کا سیٹ اس کے سر پہ دے مارا۔
مجھ سے دور رہا کرو۔۔۔ مینڈک ہوگے تم، تمہارا خاندان اور آگے پیچھے کے سب فلاں فلاں اور فلانی، فلانیاں۔۔۔ تم سے آگے کا فقرہ اس نے اردو میں کہا اور آنکھوں میں آگ بھر کر اسے گھورنے لگی۔
کاؤنٹر پر کھڑے تین لائبریرین کے ہاتھ کام کرتے رک گئے۔ پچاس ساٹھ کے قریب ادھر ادھر کھڑے آتے جاتے اسٹوڈنٹس نے باقاعدہ رک کر اس منظر کو دیکھا۔ ذرا دور کھڑی منجلا کے ہاتھ سے کتابیں گر گئیں۔ بھلا منجلا کو کیا ضرورت پڑی تھی اپنے وزن سے زیادہ کتابیں اٹھانے کی۔
اور کارل۔۔؟؟
کارل کا چیونگم چباتا جبڑا رک گیا، بم اس کے جبڑے کے اندر ہی پھٹا اور دھواں کانوں،آنکھوں، ناک سے نکلا، اس نے گردن کو زرا سا خم دیا اور آنکھوں کو ذرا سا پھیلا کر امرحہ کو دیکھا،اسے دیکھا۔ ۔۔۔۔۔۔یعنی تم۔ ۔۔۔۔۔۔۔تم مینڈکی۔۔۔۔۔۔دی لاسٹ ڈک۔۔۔۔۔۔۔۔تمہاری اتنی جراءت۔۔۔۔۔۔آہاں۔ ۔۔۔۔۔ہم۔ ۔۔۔۔۔۔۔اوہ۔ ۔۔۔۔۔۔آہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ناوب آئی سی۔
زیرِ لب مسکراتا دو انگلیاں اس کی طرف اٹھا کر اپنی آنکھوں کے سامنے لا کر ایران کے لیے امریکی مارکہ watching you (واچنگ یو ) کی دھمکی ایران کو دیتے………امرحہ کو دیتے لائبریری سے باہر نکل گیا_
لائبریری کا ماحول جو اس کے سر پر کتابیں پڑنے سے وہیں فریز ہو گیا تھا_پھر سے رواں دواں ہو گیا_وہ اپنی کتابیں سنبھالتی باہر نکلی اور یہ کیا¿کارل ایک دم کسی چھلاوے کی طرح اسکے سامنے آیا اور اس کے ہاتھ سے کتابیں چھین کے کے گیا دو سیکنڈ بھی کم ہوں گے اس نے اس سے بھی کم وقت لیا یہ کام کرنے میں,تالیاں کارل کے لیے اور امرحہ کے لیے ایک عدد ٹشو پیپر………..
لائبریری کی کتابیں لے گیا………فریز سی حالت میں امرحہ خوف سے بڑبڑائی………
اوہ…..امرحہ کا سر گھوم گیا یہ اس نے کیا کیا¿ اس نے کارل کے ساتھ پنجابی پنگا کیوں لیا…..اوہ’وہ لائبریری کی ملکیت کتابیں لے گیا تھا…وہ انہیں ضائع کر دے گا_اور اسے جرمانہ بھرنا پڑے گا_اتنا جرمانہ اس نے تو اتنی مہنگی اور تاریخی کتابیں نکلوایں تھی. اللہ امرحہ سے پوچھے اس نے اتنی فاش غلطی کیوں کی…….جب وہ کارل جیسا دماغ نہیں رکھتی تو کارل جیسا غصہ بھی نہیں رکھنا چاہیے تھا_وہ بزنس سکول کی طرف بھاگی کارل کو ڈھونڈنے پر اب تو جیمز بونڈ’انڈیا ناجونز’سی آئی اے کے آگے پیچھے کے سب رشتے دار بھی آ جاتےتو بھی کارل کو نا ڈھونڈا جا سکتا.وہ بزنس سکول کے کاریڈور میں کھڑی تھی اور بے بسی سے عالیان کے پاس جانے کا سوچ رہی تھی.لیکن آخری بار جو اسکی آنکھوں سے جھلکتی سرد مہری دیکھ لی تھی اسکی کپکپی ہی نا تھمی تھی_تو پھر سے کیسے اسکے پاس چلی جاتی اسے ویرا کے پاس جانا پڑا…..
تم اس سے کیوں الجھی؟
دماغ چل گیا تھا میرا…..
کچھ کر ہوں ……تم پر سکون رہو….ویرا کارل کو فون کرنے لگی…..
وہ کہہ ریا ہے تمہیں کل دے دے گا….آج ہی کیوں نہیں اس کی شکل پے ہوائیاں اڑنے لگی……
تم نے اس کے سر پر کتابیں دے ماریں ایک دن کی خواری تو وہ تمہیں دے گا نا…..ویرا نے اسکو ہلکا پھلکا کرنے کے لیے بات کو مزاح کا رنگ دیا……….اگر تم کہو توہال سے جا کے کا دوں اس کے روم سے_ویرا پچھلے واقعے سے اسقدر شرمندہ تھی کہ کوشش کرتی تھی اسکا خیال رکھ سکے. _
نہیں کل تک کا انتظار کر لیتی ہوں_
لیکن….لیکن یہ ایک دن کی خواری ہرگز نہیں تھی اسے ویرا سے کہہ دینا چاہیے تھا اس کے روم سے چھاپہ مار کے کتابیں ابھی لے آئے_لیکن اب دیر ہو چکی تھی اگلے دن کارل کتابیں لیے اسکے سامنے کھڑا تھا.یہ لو امریحہ دی مینڈکی…… میں تمہیں روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا.لیکن پہلے مجھے سوری بولو….کتابیں اس نے سینے کے ساتھ دونوں بازوں کی لپیٹ میں تھام رکھی تھی…حفاظت سے محبت سے
سوری….امریحہ کی مری مری آواز نکلی
جس وقت تم نے مجھے کتابیں ماری تھی کم سے کم دو سو لوگوں نے دیکھا تھا یعنی میرے پاس دو سو لوگ گواہ تھے…… چشم دید گواہ
تم سمجھ رہی ہو نا اس سے کیا کیا ہو سکتا تھا…تم یونیورسٹی سے بے دخل ہوتی پھر میں تم پر پورے دس لاکھ پاونڈ کا ہتک عزت اور قاتلانہ حملے کا ہرجانے کا دعوا کرتا۔لیکن ایک تو میں رحم دل بہت ہوں۔چھوٹا سا میاؤں میاؤں سا دل ہے میرا۔اور پھر تم سے پرانی دوستی بھی ہے۔اب تمہاری سوری کو کم سے کم چار سو لوگوں کو تو سننا چاہیے نا۔یہ کچھ زیادہ نہیں ہے۔بلاشبہ میں انصاف پسندی سے کام لے رہا ہوں“دونوں انگلش ڈپارٹمنٹ کے باہر کھڑے تھے اور وہاں اور قریب و جوار میں اتنے اسٹوڈنٹس تو تھے کہ کارل کی حسرت پوری ہو جاتی۔امرحہ نے پھر سے اس وقت کو کوسا،جس وقت اس نے دکھ اور غصے سے بھڑک کر کتابیں مارنے کی خوفناک غلطی کر ڈالی تھی۔
لب بھینچ کر اس نے آس پاس دیکھا اور قدرے بلند آواز میں کہا ”سوری“
کارل سینے سے کتابیں لگائے ذرا سا کمر اور سر کو خم دے کر کھڑا رہا،اس کی گہری نیلی آنکھوں میں قہقہوں کے جوار بھاٹا پھٹنے لگے۔بڑی ادا سے اس نے کسی ملکہ عالیہ کی طرح گردن گھما کر آس پاس دیکھا ،پھر ہونٹوں کو ارادتاً بگاڑ لیا،جیسے اس صورت حال نے اس کے قومی وقار اور باعزت شخصیت کو صدمہ پہنچایا ہو اور اس کی ساکھ متاثر ہوئی ہو…..
”کوئی متوجہ ہی نہیں ہوا…..“بگڑے ہونٹوں کے ساتھ اس نے انگلی سے اشارہ کر کے امرحہ کو گردن گھما کر دیکھنے کا اشارہ کیا۔
امرحہ نے قطعاً گردن نہیں گھمائی….وہ تو یہ سوچ رہی تھی کہ آخر وہ ماسٹرز کرکے کیاکرے گی۔یعنی اگر وہ یونیورسٹی چھوڑ کر لاہور چلی جائے تو کیسا رہے گا۔اس کارل سے کہیں زیادہ رحم دل اسے منحوس کہنے والے تھے۔
”مجھے چلے جانا چاہیے ۔میں نے اپنا اردہ بدل دیا ہے۔میں پورے پندرہ لاکھ پاؤنڈ کا دعوا کروں گا۔“کارل جانے لگا۔
”سوری“امرحہ نے پوری شدت سے چلا کر کہا ۔ہرجانے کا دعوا تووہ کیا کرتا اسےلائبریری کی کتابوں کی فکر تھی۔کافی سے زیادہ فرق پڑا اس بار….سب نے حیرت سے امرحہ کو دیکھا ۔ماحول ایک بار پھر فریز سا ہوگیا ۔گردنیں امرحہ کی طرف مڑ گئیں۔آنکھوں میں حیرت سمٹ آئی۔کارل نے ادائے بےنیازی سے کہ وہ تو امرحہ کے کسی مسلےکو حل کرنے کےلیےاس کے پاس کھڑا ہے آنکھوں کی پتلیوں کو گول گول گھما کر ”فریز “ ہو چکے اس منظرکو دیکھا۔جیسے شانت سا ہوگیا ۔
”یہ کچھ بہتر رہاہے۔اس سے ایک اور بات بھی ثابت ہوئی کہ رونے کے علاوہ بھی تم بہت کچھ کر سکتی ہو۔یعنی کمال کر سکتی ہو۔یہ لو اپنی کتابیں….میں ہنٹ (hint)دیتا تو نہیں ہوں،لیکن تمہیں دے رہا ہوں۔پھر ملتے ہیں۔“
دو انگلیوں سے اچانک وی کا اشارہ دیتا وہ عالیان کی طرح ہی ہوا میں اچھل کر پیروں کی تالی بجاتا غائب ہو گیا۔اور امرحہ کا جی چاہا کہ وہ واپس کتابیں اس کے سر پر دے مارے ۔
مارتی رہے مارتی رہے کہ آخر کار اسے یونیورسٹی سے نکال دیا جائے ،ساری کتابیں تیز بلیڈ سے کاٹی ہوئی تھیں۔صفحات درمیاں سے دو حصوں میں کیے تھے وہ کبھی بھی یہ ثابت نہیں کر سکتی تھی کہ یہ کارل نے کیا ہے ۔اسے اپنی محنت کی کمائی سے جمع کیے گئے پاؤنڈز میں سےبھاری جرمانہ ادا کرنا پڑا۔
کارل زمین پر موجود سب سے زیادہ منحوس انسان …..
دو دن وہ کھانا نہیں کھا سکی ،سو نہیں سکی،اس کی جی میں آیا کہ وہ کارل کو وہ ساری بدعائیں دے ڈالے ،جو پنجاب کی خواتین روایتی خاندانی لڑائیوں میں دیتی ہیں۔لیکن وہ اسے چند امرحہ ٹائپ بدعائیں ہی دے سکی۔جیسے کہ مانچسٹر میں جب بادل چھائیں تو آسمانی بجلی تم پر ٹوٹ پڑے اورایسے گرے کہ تمہیں سیاہ بھوت بنا دے۔تم زندہ رہو لیکن مردو کی طرح ،یونی کے سب اسٹوڈنٹس تمہیں دیکھتے ہی چیخیں مارنے لگیں۔دل برداشتہ ہو کر تم یونی ہی چھوڑ جاؤ اور یا یہ کہ تم رات کو سو تو صبح اٹھو karal کارل "ڈی ترنیا” کے لومڑ بن چکے ہو_
اس واقع کے بعد وہ زمین پر سب سے دکھی لوگوں میں سے ایک ہو گئی اسے پوری شدت سے یہ محسوس ہوتا تھا کے وو اکیلی ہو گئی ہے_عالیان اسے کہیں دکھائی نہیں دیتا تھا ایک بار وہ اسے دکھائی دیا بھی تو اپنے آپ کو سیاہ ہڈ میں چھپائے۔ اگر میں کہیں گم ہو جاؤں تو تم مجھے کیسے ڈھونڈو گی؟ ایک بار وہ امریحہ سے پوچھنے لگا ؟ وہ کیا سوچتا رہتا ہے ؟ وہ گم ہونے جا رہا ہے اور اسے یہ انتظام بھی رکھنا تھا کے اسے ڈھونڈ لیا جائے ۔
تمہارے ان لمبے کانوں سے ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے سنجیدگی سے کہا لیکن ساتھ ساتھ سیاہ پتلیاں بھی مٹکائیں۔
میری شناخت کے لیے یہ اتنا اہم کردار ادا کریں گے مجھے اندازہ نہیں تھا میں دعا کرتا ہوں یہ لمبے۔۔۔۔۔اور لمبے ہو جائیں
تا کہ مجھے جلدی سے ڈھونڈ لیا جائے۔
اب تو وہ جلدی سے گم ہو گیا تھا امرحہ اسے بڑے اور لمبے کانوں سے پہچان کر ڈھونڈ نا نکالے اس لیے انہیں ہڈی میں چھپا کر رکھتا تھا کیا معمولی بات تھی لیکن کافی تکلیف دہ بات تھی۔ ۔۔۔
ہاٹ راک کے باہر آخری ملاقات کے بعد امریحہ نے اسے بہت دنوں بعد آکسفورڈ روڈ پر تیزی سے سائیکل چلاتے دیکھا تھا امریحہ بس میں تھی کاش بس کی جگہ وہاں کوئی لاہوری رکشا ہوتا تو کہتی وہ رکشے والے سے کہتی بھیا ذرا اس سرمئی ہوڈی والے کا پیچھا کرنا وہ دیکھنا چاہتی تھی کے آخر اب وہ کہاں اتنا مصروف رہتا ہے کے نظر ہی نہیں آتا اسی روڈ پر اس کے ساتھ چہل قدمی کرنے والا، اس روڈ سے اس سے دور بھاگ رہا تھا
وہ چپکے سے بزنس اسکول کے کتنے ہی چکر لگا لیتی وہ اسے نظر نہیں آتا تھا ۔وہ واقع میں زہین تھا چھپ جانا جانتا تھا امریحہ تو ناکارہ تھی وہ اسے اتنی بڑی یونی میں ڈھونڈ نکالتا تھا اکثر وہ یونی میوزیم کے کسی کونے میں چھپی کھڑی ہوتی اور وہ پیچھے جا کے کھڑا ہو جاتا جیسے چلتے چلتے اسے خواب آ جاتے ہوں کے امریحہ کہاں ہے اور اسے ٹھیک ٹھیک معلوم ہو کے امریحہ نامی جہاز مانسچڑ یونی کے آسمان پر کس طرف محو پرواز ہے امریحہ کو یہ خواب نہیں آتے تھے کے وہ کہاں ہے؟ سارے خواب عالیاں کو ہی کیوں اے ؟ سارے الہام عالیان ہی کو کیوں ہووے؟
اس مغرب میں رہنے والے کو مشرقی آداب کس نے سیکھائے؟
ڈھونڈ نکالتا اور ظاہر بھی نا کرتا ان گروں کا بادشاہ وہ کب بنا ؟وہ دوبارہ عالیان سے بات کرنے کی ہمّت نہ کر پائی۔وہ iسے دیکھ لینا چاہتی تھی۔ ان کے درمیان جو کچھ ہو چکا تھا اسے ٹھیک ہونے میں وقت لگنے والا تھا اور مرہم بھی ۔۔۔۔
Continued…

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/