افسانے

ہمزاد۔۔فیصل فارانی – مکالمہمکالمہ

کسی کارِ زیاں میں وہ
بہت مصروف رہتا ہے
کبھی گر دل میں یہ آئے
کہ اُس کے پاس جا بیٹھیں
کہیں اُس سے
نہاں خانوں میں جو گُم ہیں
سبھی باتیں
کسی ویراں جزیرے کی
(مِرے اپنے جزیرے کی )
جسے چاروں طرف سے پانیوں نے گھیر رکھا ہے
جہاں منہ زور سی موجیں
مِرے بے نام ساحل پر
کئی بے چین لہروں کو اُٹھا کر رقص کرتی ہیں
مجھے بے چین کرتی ہیں
تو دل گھبرا کے کہتا ہے
چلو چل کر مِلیں اُس سے
کہیں اُس سے یہ سب باتیں
(مِری باتیں)
جنہیں میں ٹھیک سے خود کو کبھی سمجھا نہیں پایا
کسی سے کہہ نہیں پایا
مگر ہمزاد میرا اُس گھڑی مِل ہی نہیں پاتا
کہ وہ اپنے جزیرے کے
کسی گُمنام ساحل پر
مجھے ہی ڈھونڈتا پھرتا ازل سے گمشدہ سا ہے
اِسی کارِ زیاں میں وہ بہت مصروف رہتا ہے!




بشکریہ

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/