منتخب غزلیں

کبھی تم نے بھی یہ سوچا کہ ہم فریاد کیا کرتے تمہار…

کبھی تم نے بھی یہ سوچا کہ ہم فریاد کیا کرتے
تمہارا دل دکھا کر اپنے دل کو شاد کیا کرتے

مری بربادیوں پر ہنسنے والو یہ تو سمجھا دو
جو مل جاتا تمہیں کو یہ دل برباد کیا کرتے

نگاہِ یاس میں جب نالۂ خاموش پنہاں ہے
تو پھر ہونٹوں کو ہم شرمندۂ فریاد کیا کرتے

دمِ آخر بھی اے دل خود فریبی ہچکیاں کیسی
جو دانستہ بھلا بیٹھے وہ تجھ کو یاد کیا کرتے

مجھے دیکھا تو ہر اک نے انہیں جلاد ٹھہرایا
انہیں دیکھا تو بولے یہ بھلا بیداد کیا کرتے

زمانہ جانتا ہے حضرت نخشبؔ کی خود داری
خلافِ عقل ہے وہ آرزوئے داد کیا کرتے

(نخشب جارچوی)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/