آج معروف شاعر م حسن لطیفیؔ کا یوم پیدائش ہے ۔ Dece…

December 11, 1905
م حسن لطیفی ۔ نام محمد حسن ۔ ولادت 11 دسمبر 1905ء لدھیانہ ۔ پاکستان آمد ستمبر 1947ء شاطو پریس لدھیانہ کے مالک تھے وفات 23 مئی 1959ء لاہور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سے 83 سال قبل م حسن لطیفی (محمد حسن لطیفی) نے ایک شعر کہا تھا جو ’ناتمام غزل ‘کے عنوان کے تحت علی گڑھ میگزین میں جنوری 1929 میں اور لدھیانہ کے جریدہ مطالعہ کے 28 اکتوبر 1933 کے شمارے میں شائع ہوا۔ شعر زبان زد عام ہوا اور آج بھی ہے:
وابستہ میری یاد سے کچھ تلخیاں بھی تھیں
اچھاہوا جو مجھ کو فراموش کردیا
ناتمام غزل کے مزید اشعار ملاحظہ ہوں:
مضراب آرزو سے ذرا دل کو اور چھیڑ
کیوں مطرب اس رباب کو خاموش کردیا
رگ ہائے ماہتاب نے ٹپکا کے خون ناب
آسودہ موجِ بادہ کو سرِجوش کردیا
آیا جو نیم ہوش میں مخمورِ چشمِ مست
پھر جرعہ ِنگاہ سے مدہوش کردیا
وابستہ میری یاد سے کچھ تلخیاں بھی تھیں
اچھاہوا جو مجھ کو فراموش کردیا
م حسن لطیفی، قبرستان میانی صاحب میں آسودہ خاک ہیں۔ وہ لدھیانہ سے تعلق رکھتے تھے۔ یوں تو کئی ادیبوں نے ان کی پہلو دار شخصیت پر لکھا ہے جن میں جناب اے حمید نمایاں ہیں لیکن چند برس قبل شائع ہونے والی اردو کے ادیب و افسانہ نگار انتظار حسین کی خود نوشت چراغوں کا دھواں میں لطیفی صاحب کا ذکر ایک منفرد انداز میں ملتا ہے۔ لطیفی صاحب 11 دسمبر 1905 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈپلومہ حاصل کیا تھا۔ یورپ سے واپسی ہر وہ اپنے ہمراہ بیس ہزار کتابیں لائے تھے۔ وہ فرانس کے ایک روزنامے
Le Petit Nicois Nice
کے پنجاب میں نمائندے تھے۔ انہیں پنجابی، اردو، فرانسیسی، انگریزی، جرمن، اطالوی، عربی اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ وہ کئی اہم کتابوں کے علاوہ تین سو نظموں اور پچھتر انگریزی مقالات کے مصنف تھے۔16 جولائی 1930 کے انقلاب میں م حسن لطیفی ،حضرت ساغر سیمابی کی ایک نظم پر تنقید کرتے ہوئے انہیں للکار بیٹھے تھے:
اے ساغر سیمابی
اچھی نہیں قصابی
تو شعر نہ لکھا کر
علم ودانش کایہ پیکر آخری دنوں میں کسی دماغی خلل میں مبتلا ہوگیا تھا۔ لدھیانہ کے ایک صاحب حیثیت گھرانے سے تعلق رکھنے والے م حسن لطیفی صاحب آخری عمر میں لاہور کی سڑکوں پر سرگرداں نظر آتے تھے اور ایک مجنونانہ کیفیت ان پر طاری رہتی تھی۔ انتظار حسین لکھتے ہیں
:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔” پاک ٹی ہاوس کا دروازہ کھلتا ہے اور ایک نرالی شخصیت نمودار ہوتی ہے۔ لمبا لگ لگ، بدن سینک، سلائی۔بر میں ہرے رنگ کا کوٹ۔گم سم۔ خاموشی سے آکر بیٹھ جاتے ہیں
” لطیفی صاحب! چائے پیجیے گا”
ناصر کاظمی ان کا کتنا احترام کرتا تھا
"جی! اور دو توس بھی منگا لیجیے”
چائے آئی۔چائے کے ساتھ دو توس آئے۔لطیفی صاحب نے دونوں توس اٹھائے اور باہر نکل گئے۔تھوڑی دیر بعد خالی ہاتھ واپس آئے اور چائے پینی شروع کردی۔لطیفی صاحب سے چائے کا جب بھی پوچھا گیا، انہوں نے توسوں کی فرمائش ضرور کی اور ہمیشہ یہ دیکھا گیا کہ توس آکر رکھے گئے، اور وہ لے کر باہر نکل گئے۔ ایک روز میں (انتظار حسین) کافی ہاوس میں اس زاویے سے بیٹھا تھا کہ میرا رخ دورازے کی طرف تھا۔ میں نے دیکھا کہ بار بار دروازے کے شیشے پر ایک کتے کی تھوتھنی نظر آتی ہے۔ میں حیران تھا کہ یہ کتا آخر کیا چاہتا ہے۔ تھوڑی دیر میں ویٹر نے پلیٹ میں دو توس لاکر رکھے ۔لطیفی صاحب نے دونوں توس رومال میں لپیٹے اور باہر نکل گئے، کچھ دیر بعد واپس آئے اور ہمارے ساتھ کافی پینے لگے۔ پھر وہ کتا نظر نہیں آیا۔
لطیفی صاحب کا تعلق لدھیانہ سے تھا۔لدھیانہ کے صاحب ثروت لوگوں میں سے تھے۔تقسیم کے بعد لاہور آئے تو یہاں بے گھر، بے در ہوگئے۔آج یہاں کل وہاں۔
ایک رات آوارہ گردی کرتے کرتے بہت رات ہوگئی۔سعید ساتھ تھا۔ ہم اس کے گھر کے قریب تھے۔ ناصر کاظمی نے کہا کہ آج رات سعید کے گھر قیام کرتے ہیں۔ہم نے وہیں ڈیرا ڈال دیا۔ صبح ناشتے کا خاص اہتمام کیا گیا تھا۔ناشتے سے ابھی ہم نے فراغت حاصل نہیں حاصل کی تھی کہ لطیفی صاحب نمودار ہوئے۔انہوں نے میز پر اپنا بڑا سا رومال بچھایا اور حلوہ پوری، توس وغیرہ سب سمیٹ کر اس میں باندھا اور خاموشی سے نکل گئے۔ ہم ہکا بکا کہ یہ کیا ہوا۔۔۔۔۔اگلی شام میں اس راہ سے گزرا تو دیکھا کہ دو کتے سعید کے گھر کے گیٹ کی طرف منہ کیے کھڑے ہیں۔اسی آن لطیفی صاحب ایک بڑا سا پڑا دونوں ہاتھوں میں سنبھالے برآمد ہوئے۔ دونوں کتوں نے انہیں اپنی اداوں سے خوش آمدید کہا۔پھر وہ برابر کی گلی میں مڑ گئے جہاں مزید کتوں نے اسی شان سے ان کا استقبال کیا۔ سعید انہیں اپنے گھر لے گیا۔ سعید محمود کا ایک شوق یہ بھی تھا کہ کسی ادیب میں جنون کے آثار دیکھتا اور وہ بے ٹھکانا ہوتا تو اسے اپنے گھر لے جاتا۔سعید کا گھر میرے (انتظار حسین) راستے میں پڑتا تھا۔صبح صبح جب میں سائکل پر سوار دفترکے لیے روانہ ہوتا تو سعید کے گھر کے احاطے میں جو درخت تھے، ان پر چڑیوں کے غول کے غول اترتے نظر آتے۔ چڑیوں نے سخت شور مچایا ہوتا۔چند دنوں تک سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ اس راہ میں آخر اسی ایک گھر پر چڑیوں کی یورش کیوں ہوتی ہے۔ایک دن لان پر جو نظر گئی تو دیکھا کہ لطیفی صاحب کھڑے ہیں, ان کے دونوں کاندھوں پر چڑیاں لدی ہوئی ہیں۔ باقی کچھ درخت سے اتر اتر کر ان کے گردپھررپھر راڑ رہی ہیںاور شور مچا رہی ہیں۔ لطیفی صاحب کے ہاتھوں میں روٹی کے ٹکڑے یا دانا دنکا قسم کی کوئی چیز ہے۔وہ اسے بکھیر رہے ہیں۔
ایک دن لطیفی صاحب نے اپنا بوریا بستر باندھا اور اس گھر سے چلے گئے۔کتوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں اس لیے میں نے ان کے جانے پر اس علاقے کے کتوں پر اس کا رد عمل جاننے کاتردد نہیں کیا۔ہاں چڑیوں پر جو ان کے جانے کا اثر ہوا وہ میرے ذہن پر نقش ہے۔ صبح کو گزرتے ہوئے میں اس گھر پر ضرور نظر ڈالتا تھا۔چڑیوں کی چہک مہک غائب ہوچکی تھی۔کچھ دنوں تک تو یہ لگاجیسے اس علاقے کی چڑیاں چہکنا ہی بھول گئی ہیں۔” (چراغوں کا دھواں از انتظارحسین)
حکیم ناصر نے کیا خوب کہا تھا:
سارا ہی شہر اس کے جنازے میں تھا شریک
تنہائیوں کے خوف سے جو شخص مر گیا
م حسن لطیفی کے لوح مزار پر یہ عبارت کندہ ہے:
تاریخ وفات
میاں محمد حسن لطیفی صحافی پسر محمد شاہ صاحب رئیس لودیانہ
۲۳ ،مئی ۱۹۵۹ مطابق ۱۴ ذیقعد ۱۳۷۸ ہجری
وائے حسن لطیفی قادر بیاں ادیب
پسر سخی محمد شاہ ولی و سعد
آں گنج بخش فیض کرم مظہر سخا
مفلس را ابر باراں و منعم را مثال رعد
رفت از جہان فانی و ممکن نمی گذاشت
پیدا کند زمانہ حریفش بدور بعد
سیدم از سروش تاریخ رحلتش
گفتا بشب ماہ کمال از ما ذیقعد
۱۴ ذیقعد ۱۳۷۸ ہجری
م حسن لطیفی کا یہ شعر ملاحظہ ہو
:
شاعر کی لرزتی ہوئی پلکوں سے جو ٹپکا
اس بیش بہا موتی کا ساحل تھا نہ بازار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لطیفیات ان کی شاعری کا مجموعہ ہے جو سن انیس سو اٹھاسی میں لاہور سے شائع ہوا تھا۔ لطیفیات کی جلد اول یکم جولائی 1928 کو رفیق ِعام پریس لاہور سے شائع ہوئی تھی جبکہ جلد دوم یکم فروری 1935 کو شاطو پریس ، لدھیانہ سے شائع ہوئی۔ م حسن لطیفی ہفت روزہ مطالعہ مرتب کرتے تھے اورسارا پرچہ اول تا آخر خود تحریر کرتے تھے۔ بقول صادق الخیری ’ ’ان کا اخبار سولو جرنلزم کا پہلا اور آخری پرچہ تھا، جدید آزاد نظم کے پیش روؤں میں ڈاکٹر تصدق حسین خالد اور ن م راشد کا نام آتا ہے مگر م حسن لطیفی نے بہت پہلے اور بڑے اہتمام سے اس صنف کو روشناس کرایا تھا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا
مرا جسم تحلیلِ غم ہو چکے جب
تو بن جاۓ خوں گشتہ فریاد یا رب
وہ انگڑائی لے پھر تڑپ کر قفس میں
سحر بن کے ہو جاۓ شق ہر تہِ شب
گریبانِ مشرق کی روداد لے کر
پہنچ جاۓ تا بامِ سرکارﷺ یثرب!
رباعیات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خزاں
گلگشت کے منظر پہ خزاں ہے طاری
ہاں! ایسے میں پھر دَور ہو ساقی جاری
آ ! یہ غم و اندوہِ زمانہ کر دیں
غرقِ خُم پیمانہء بادہ خواری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمستان
یہ رُت ہو یہ راتیں یہ شبستان اے گُل!
اور مضمحلِ خواب یہ مژگاں؟ اے گُل
مُرجھائیں نہ ان پتلیوں کے تیور سے
مہکی ہوئی شبہاۓ زمستاں اے گل!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صہباۓ تغزل
سَنکی ہوئی ہوا میں ، سنتا ہوں یہ بشارت
اُس پار گھاٹ سے، کچھ مے پی کے آ رہا ہوں
الوانِ عہدِ رفتہ کو آئینہ دِکھا کر
میں نو بہارِ دوشیں ، پھر کھینچے لا رہا ہوں
کیا واپس آ رہا ہے دورِ نشاطِ برہم؟
اے وحشت! آج پیہم کیوں مسکرا رہا ہوں
کس پیرہن کو چھو کر، موجِ نسیم آئی؟
مہکی ہوئی سی مستی پھر دل میں پا رہا ہوں
اے نازشِ تصور! یہ کون سی ہے منزل؟
کس کی حسیں نگہ میں میں پھر سما رہا ہوں
چھٹکی ہوئی ہے جس میں اک ست لڑی کی چشمک
اُس من کی بیکلی سے میں جھلملا رہا ہوں
گو چَھن رہی ہے کچھ کچھ تنویر چلمنوں سے
نازک امانتوں کو دل میں چھپا رہا ہوں
آسودگی نہیں ہے جو سب میں رنگ بھر لوں
اکثر بنا بنا کے خاکے مٹا رہا ہوں
بیداد سے بھی اب تو اُکتا رہے کچھ وہ
یہ داد مل رہی ہے یہ داد پا رہا ہوں
مستی میں اَبر تَر ہے لیکن اے واۓ قسمت
ساقی کی بے رخی سے میں تلملا رہا ہوں
جن کی نظر میں دل کا کچھ خوں بہا نہیں ہے
دوشینہ حسرتِ دل ان کو سنا رہا ہوں
وہ گم ہیں رنگ و بو کی سرمستیوں میں اور مَیں
خوننا بہء رگِ جاں سے گُل کھلا رہا ہوں
جب سے کہا کسی نے یہ زیست رائیگاں ہے
میں کچھ لُٹا رہا ہوں اور کچھ گنوا رہا ہوں
ہر سنگ راہ مجھ کو ہمسنگِ بے ستوں سے
ہر ہر قدم پہ جاں کی بازی لگا رہا ہوں
نادت ترین ہے اک بے حاصلی کا حاصل
اُس کی گدائیوں کے میں گیت گا رہا ہوں
وہ جو سمٹ سمٹ کر مجھ سے کھنچے ہوۓ ہیں
میں دل کے تار اُن کے دل سے مِلا رہا ہوں
روٹھے ہوۓ ہیں لیکن ، ہیں آئینہ پہ نظریں
کِس جذبِ شوق سے میں ان کو منا رہا ہوں
چھایا ہے ناز پر، واں نیرنگیوں کا عالم
میں بے نوائیوں میں عالم پہ چھا رہا ہوں
ان سے ہو کیا شکایت اپنے ہی سے گِلہ ہے
دوہری ندامتوں سے نظریں جُھکا رہا ہوں
نبضوں کو تھامتا ہوں دل کو تھپک تھپک کر
نا رُکتے آنسوؤں میں نظریں بُھجا رہا ہوں
رومانِ راہ معنی کی نَے نوازیوں سے
حرماں نصیبوں کو اپنی بُھلا رہا ہوں
پہلے جہاں پہ دل تھا بے نام اب خلش ہے
تیری بقا سمجھ کر اس کو بچا رہا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل
حشر مرا بخیر ہو ، مجھ کو بنا رہے ہو تم!
خاک میں جان ڈال کر ، خاک اڑا رہے ہو تم!
عبرتِ ذوق زہر خند ، ذوق زبوئی دو چند
شوق بڑھا کے پے بہ پے شمعیں بجھا رہے ہو تم!
میرے عدم میں بھی بہم ، تھا ستمؐ ازل کا غم
پہلے ہی میں نزار تھا اور ستا رہے ہو تم!
سوز تو سوز ہے مگر، ساز بھی سوز ہو نہ جاۓ
ساز کو آج سوز کے سامنے لا رہے ہو تم!
تہمتِ ہست بھی روا ، حاصلِ نیست بھی بجا
ہاں! مری سر نوشت کے داغ مٹا رہے ہو تم!
خندہ ء زیرِ لب بھی ہے ، گریہء بے سبب بھی ہے
بے ہمہ و بہر ادا ، رنگ جما رہے ہو تم !

