منتخب غزلیں

( غیــر مطبــوعــہ ) نگار ِ خانۃ جاں میں اُتر کے …

( غیــر مطبــوعــہ )

نگار ِ خانۃ جاں میں اُتر کے دیکھتے ہیں
یہ کیا جہاں ہے ‘ اِسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

فــراز ِ دار پہ شاید کُھلے دَر ِ اِلہــام
سو ‘ اِس ” نہایت ِ لا ” سے گذر کے دیکھتے ہیں

یہی ہے شرط ۔۔۔۔ اگر باریاب ہونے کی
تو خاک ہو کے ۔۔۔۔ سرِ رہ بکھر کے دیکھتے ہیں

اُسی مقام پہ دیکھا ہے تجھ کو بے پردہ
سَــبُک وجُود ۔۔ جہاں تجھ کو مر کے دیکھتے ہیں

یہ کیسا رُوے تعیُّن سے غیر ہوں کہ مجھے
سَــرائر ۔۔ اپنی نمُو سے اُبھر کے دیکھتے ہیں

جنوں صحیفۃ جاں کا غیاب معنٰی سہی
اخـیر اثر ۔۔۔ اِسے موجود کر کے دیکھتے ہیں

یہ کون شہر ِ مَحبّت کی جاں ہُوا کہ جسے
زمانے ۔۔۔ اوج ِ عدم سے اُتر کے دیکھتے ہیں

( وفــاؔ چِشــتـی )

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/