منتخب غزلیں
اس راز کو کیا جانیں ساحل کے تماشائی ہم ڈوب کے سمج…
اس راز کو کیا جانیں ساحل کے تماشائی
ہم ڈوب کے سمجھے ہیں دریا تری گہرائی
جاگ اے مرے ہمسایہ خوابوں کے تسلسل سے
دیوار سے آنگن میں اب دھوپ اتر آئی
چلتے ہوئے بادل کے سایے کے تعاقب میں
یہ تشنہ لبی مجھ کو صحراؤں میں لے آئی
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
کیا سانحہ یاد آیا رزمی کی تباہی کا
کیوں آپ کی نازک سی آنکھوں میں نمی آئی
(مظفر رزمی مرحوم)
المرسل :-: ابوالحسن علی (ندوی)



