افسانے

اپنی موت کی پیش گوئی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند


کل نَفسِ ذَائَقہ اُلمَوت
(سورۃ ، ال عمران آ ئۃ 581، حصہ اولیٰ)

——————
میں چلا جاؤں گا ، میں جانتا ہوں
میں چلا جاؤں گا، اس سے بہت پہلے کہ ہوا
برف کی الکحل جلباب ا تارے سر سے
بھورے بالوں کو سنوارے کہ اُسے
موسمِ گل میں پہننی ہے قبا پھولوں کی۔

tripako tours pakistan

میں چلا جاؤں گا، میں جانتا ہوں
مجھ میں وہ تاب و تواں ہی نہیں، جس سے میں نے
عمر بھر لفظوں کو پھولوں کی طرح گوندھا ہے
کتخداوں کے لیے سہرے پروئے ہیں ہزار
اور دوشیزہ بتولوں کے لیے سولہہ سنگھار
“شبد” اور “بول” کے گھنگھرو تھے کہ “اکھشر” کا ناد ٭
میں نے ہر طرح سے لفظوں میں سماں باندھا ہے
گائکی، چھند، بھجن ، گیت غزل، جاپ سماع
شبد سُر بند کیے، ،لفظوں کو کمپوز کیا
اک کلاونت کوی تھا میں جنم سے شاید
منتظر حکم کے تھے لفظ میری تابع میں

سب خیالات پروئے تھے جو تسبیحوں میں
اور جذبات جو مالاؤ ں میں روشن تھے سدا
میری تخلیق کی قدرت میں جمود آنے پر
میرے امکان سے اب دور ہوئے جاتے ہیں۔
اب یہ لگتا ہے میرے لفظوں کا “کن رس” ٭بجھ کر
اک گراں گوش، گلوگیر سے سنـاٹے میں
ایسے بدلا ہے کہ میں پنبہ دہن ، آَحول سا
خالی الذہن ہی اب گھر میں پڑا رہتا ہوں
جس میں کل تک تھی مرے اپنی تکلم کی بہار

برف کی الکحل جلباب اترنے سے قبل
میں چلا جائوں گا ، اب دیر نہیں ہے کچھ بھی
میں چلا جائوں گا، اس جان کو چکھـے گی موت

(ترجمہ: ہر جان چکھنے والی ہے موت )
—————-
٭کن رس: موسیقی کو پسند کرنے والی قدرتی حس ۔




بشکریہ

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/