منتخب غزلیں
آرزو لکھنوی کِس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا …

آرزو لکھنوی
کِس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی
جُھوم کے آئی گھٹا ، ٹُوٹ کے برسا پانی
رُولئے پُھوٹ کے ، سینے میں جلن اب کیوں ہے
آگ پگھلا کے نِکالا ہے یہ جلتا پانی
کوئی متوالی گھٹا تھی کہ جوانی کی اُمنگ
جی بہا لے گیا برسات کا پہلا پانی
ٹکٹکی باندھے وہ پھرتے ہیں میں اِس فکر میں ہوں
کہیں کھانے لگے چکر نہ یہ گہرا پانی
بات کرنے میں وہ اُن آنکھوں سے امرت ٹپکا
آرزو دیکھتے ہی، منہ میں بھر آیا پانی


آرزُو لکھنوی بہترین نثر نگار بھی تھے انہوں نے بہت سے ڈرامے بھی تحریر کئے اور کئی فلموں کے مکالمے اور فلمی گیت بھی تحریر کئے ۔۔۔ان کی غزَل۔۔۔۔
کس نے بھیگے ہُوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔بےحَد مقبول ہوئی۔۔۔اس کی مقبولیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1964 میں بھارتی فلم "شہنائی” میں فلمی شاعر راجندر کرشن نے یہی تخیّل اٹھا کر الفاظ تبدیل کر دئے۔۔۔۔۔
"نہ جھٹکو زلف سے پانی یہ موتی ٹوٹ جائیں گے”۔۔۔۔
اتفاق سے اس وقت کے نامور موسیقار روی نے دھن بنائی اور معروف گلوکار محمد رفیع کی آواز میں یہ گانا فلم میں شامل کر دیا گیا۔۔۔۔روی کی دُھن اور محمد رفیع کی خداداد آواز نے یہ گانا امر کر دیا۔۔۔مگر تخیّل کا کریڈٹ ہمیشہ آرزُو لکھنوی کو ہی جاتا رہے گا۔
آرزو لکھنوی کا انتقال کراچی میں ہُوا
آپ کا اصل نام سیّد انور حسین تھا آپ جناب سیّد ذاکر حسین کے صاحب زادے تھے اور جناب جلال لکھنوی کے شاگرد تھے۔۔حکیم خلیق الرحمٰن