منتخب غزلیں

( غیر مطبوعہ ) رنج ہی حاصل ِ سفر ہے یہاں رہ گذ…

( غیر مطبوعہ )

رنج ہی حاصل ِ سفر ہے یہاں
رہ گذر ‘ گرد رہ گذر ہے یہاں

بےٹھکانا بھی ہے ‘ مقیم بھی ہے
تو یہیں ہے ‘ مگر کدھر ہے یہاں

اب کوئی اور راستا دیکھو
آہ و زاری تو بے اثر ہے یہاں

اس اندھیرے میں پھر چراغ تو ہے
تو اگر میرا ہم سفر ہے یہاں

میری آنکھوں میں جگمگاتا ہے
ایک چہرہ جو بام پر ہے یہاں (

ابرار احمد )




Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/