منتخب غزلیں

شفیق خلشؔ . حیات و ذات پر فُرقت کے غم برباد بھی ہو…

شفیق خلشؔ
.
حیات و ذات پر فُرقت کے غم برباد بھی ہونگے
کبھی حاصل رہی قُربت سے ہم پِھر شاد بھی ہونگے

ذرا بھی اِحتِمال اِس کا نہ تھا پردیس آنے تک!
کہ دُوری سے تِری، ہم اِس قدر ناشاد بھی ہونگے

بظاہر جو، نظر آئیں نہ ہم سے آشنا بالکل
ضرُور اُن کو کئی قصّے پُرانے یاد بھی ہونگے

شُبہ تک تھا نہیں ترکِ تعلّق پر مناظرسب!
شِکستہ دِل کے گوشوں میں کہِیں آباد بھی ہونگے

بہت خوش تھے، ذرا احساس کب تھااپنی ہِجرت پر
تعاقُب میں وہی نالے، وہی فریاد بھی ہونگے

مجھے تنہا کئے کی سازِشوں میں وجۂ احباب !
کسے معلُوم تھا یُوں ورثۂ اجداد بھی ہونگے

خلش دِل کو گُماں تک تھا نہیں یہ روزِ ہِجرت تک!
مذاہِب کےجَھمیلوں سے کہِیں آزاد بھی ہونگے

شفیق خلشؔ


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/