منتخب غزلیں

چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں، مجھے دعائوں میں یاد رکھ…

چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں، مجھے دعائوں میں یاد رکھیے
جو بجھ گیا تو سحر نما ہوں، مجھے دعائوں میں یاد رکھیے

پیر زادہ قاسم کی پیدائش
Feb 08, 1943
….
چند اشعار
سفر کی انتہا تک ایک تازہ آس باقی ہے
کہ میں یہ موڑ کاٹوں اس طرف سے تو نکل آئے

چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں، مجھے دعائوں میں یاد رکھیے
جو بجھ گیا تو سحر نما ہوں، مجھے دعائوں میں یاد رکھیے

ان کی وجہ شہرت تو تلخ گفتگو ہی تھی
کیوں بدل لیا لہجہ دل دکھانے والوں نے
….
قدم اٹھے بھی نہیں اور سفر تمام ہوا
غضب ہے راہ کا اتنا بھی مختصر ہونا
……..
غم سے بہل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں
درد میں ڈھل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں
سایۂ وصل کب سے ہے آپ کا منتظر مگر
ہجر میں جل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں
اپنے خلاف فیصلہ خود ہی لکھا ہے آپ نے
ہاتھ بھی مل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں
وقت نے آرزو کی لو دیر ہوئی بجھا بھی دی
اب بھی پگھل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں
دائرہ وار ہی تو ہیں عشق کے راستے تمام
راہ بدل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں
اپنی تلاش کا سفر ختم بھی کیجئے کبھی
خواب میں چل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں
………….
زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو
دوستو اپنا لطف خاص یاد دلا دیا کرو
ایک علاج دائمی ہے تو برائے تشنگی
پہلے ہی گھونٹ میں اگر زہر ملا دیا کرو
شہر طلب کرے اگر تم سے علاج تیرگی
صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو
مقتل غم کی رونقیں ختم نہ ہونے پائیں گی
کوئی تو آ ہی جائے گا روز صدا دیا کرو
جذبۂ خاک پروری اور سکون پائے گا
خاک کرو ہمیں تو پھر خاک اڑا دیا کرو
…………..


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/