عالمی ادب
::: امریکہ میں بائین بازو کے ادب کا پس منظر اور اس…

::: امریکہ میں بائین بازو کے ادب کا پس منظر اور اس کا فکری مزاج ” :::
*** احمد سہیل ***
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بائیں بازو کے ادب کے فکری بنیادیں مساوات اور عدل کے فکری مقولوں پر کھڑی ہیں۔ یو ایک معاشرتی اور فکری تبدیلی کا خواب بھی تھا۔ جو ہنوز ایک خواب ہی ہے۔ جس میں امریکہ کے اداروں معاشی، سیاسی اور ثقافتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا تھا۔ اصل میں امریکہ میں بائیں بازو کی ادبی تحریک ای ترقی پسند تبدیلی کی ” آلاتیاتی” {instrumental} تحریک تھی۔ جو محنت کشوں، شہری آزادیوں، امن وسلامتی، تاثینت، کم اجرت، اور ماحولیات جیسے اہم معاشرتی مسائل اور بشریاتی مسائل کلیدی نوعیت کے تھے۔ جس میں سرمایہ کاریت پر تنقید کرتے ہوئے اس کو نہایت حقارت سے ٹھکردیا گیا۔ شمالی امریکہ میں غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں نےایک کمیوں کا معاشرے کی ضرورت کو محسوس کیا۔ اور اقتصادی طور پر ایک دوسرے سے تعاوں کرتے ہوئے ” ساتھی” { کامریڈ} کا تصور دہقانی معاشروں میں زیادہ مقبول ہوا۔
۱۶۸۳ میں شمالی امریکی میں نقل مکانی کرنے والے یورپی آباد کاورں نے سب سے پہلے فلاڈیلفیا پنسلواینہ، سے ساٹھ /۶۰ میل کی مسافت پربوہیمیا جاگیر پر شمالی امریکہ میں پہنچنے والے پہلے یورپی سوشلسٹوں جو 1683 میں بوہیمیا جاگیر کے کمیون قائم کیا جس کو "Labadists ” کہا جاتا تھا۔ جو اصل میں ایک عسیائی فرقہ تھا۔ اس کمیوں کے طور طریقے، اصول اور طرز زندگی نصرانی اخلاقیات سے جڑے ہوئے تھے۔
پہلا سیکولر امریکی سوشلسٹ جرمن مارکسی تارکین وطن کی ” بستی” تھی۔ جو ۱۸۴۸ میں انقالب کی جنگ لڑ کر یہاں پنچے تھے۔ جوزف وائی ڈیمائر /Weydemeyer ، نے ۱۸۴۸ کے انقلاب کے بعد ۱۸۵۱ میں یہاں سکونت اختیار کی جو کارل مارکس کے دوست تھے۔ انھوں نے امریکہ سے پہلا یسسارت پسند جریدہ شائع کیا۔ جو ان کی موت تک چھپتا رہا۔ جس میں سیاسسی ، معاشرتی ، اقتصادی اور فکری مسائل کر مباحث ہوتی تھیں۔ . 1852 میں انہوں نے Proletarierbund میں امریکہ میں پہلی مارکسسٹ تنظیم امریکی ورکرز لیگ، قائم کی ۔لیکن یہ بہت بات ان کے لیے افسوسناک رہی کہ مقامی انگریزی بولنے والوں نے اس تنظیم کو اہمیت نہیں دی اور اس میں رکنیت حاصل نہیں کی۔1866 میں، ولیم ایچ سیلوس {Sylvis }نیشنل لیبر یونین (NLU) کی بنیاد رکھی. جس کے روح روان میں جرمن فیڈرچ{Frederich }البرٹ سرج { Sorge} بھی شامل تھے۔ نیویارک میں انٹرنیشنل کنونشن کےجنرل کونسل کے جنرل سیکرٹری کی حیثت سے سرج/ Sorge ساتھ نیویارک میں منتقل ہوگئے۔ لیکن اندرونی تنازعہ کے باعث یہ تنظیم ٹوٹ گئی۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکی بائین بازو کے ادب و فکر پر اسٹالیں کے سخت گیر روئیے کے تحت آگئی۔ جس میں سیاسی تجزیات، فکری نظریات ، ادب جنگ کی تباہ کاریوں کو نہایت پیچیدہ اور ابہام کے شکل میں پیش کیا گیا۔ جس میں فرد اور مماشرے کی مباحث کو مزید الجھا دیا گیا تھا۔. اکتوبر 1940 میں، امریکی کمیونسٹ جرنل،” نیا عوام” شائع ہوا۔ جس کو معروف امریکی ادیبوں میلکم کولی {Cowley } والڈو فرینک، آرچیبالڈ میک لش { MacLeish،} لیوس ممفورڈ{Mumford }اور برطانوی مارکسی دانشور جان اسٹریزی{ Strachey } کا قلمی تعاون بھی حاصل تھا۔ یہ سن نازی ازم کے سخت مخالف تھے۔ اس رسالے میں ایک کارتوں بھی چھپا کرتا تھا جو اس جو اس جریدے کا دل ہوتا تھا۔ اور مارکسزم کی فکری پیچیدگیوں کو سلیس زبان میں بیان کیا جاتا تھا۔ جس میں جدلیاتی تاریخ کی تفصیل ، معاشرے کی تعمیر نو کہانیاں اورجنگ کے مہلک اثرات اور تباہ کاریوں سے اپنے قاری کو آگاہ کیا۔ ادب اور نظرئیے کے تعلق سے حیران کن اور پیچیدہ تحریرں بھی پڑھنے کو ملتی تھیں۔ .
سیاسی وابستگی ، وعدوں "کمیونسٹ منصوبہ بندی اور بیان بازی سے سوشلسٹ فکر میں تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوئی۔” اسٹالین کے جرائم، پر نظر ڈالی گئی۔ اور پاپولر فرنٹ اینٹی فاشزم کو کمیونسٹ اخلاقی اور سیاسی کند زنی { obtuseness } پر زور دیتے ہوئے اس میں فکری اصلاحات کیں۔ اور اس کی نئی توبیرات پیش کیں۔ اور بھر ۱۹۳۰ میں بائین بازو کے ادب کی نئی توبیرات کی تفھیم و تشریح کی۔ اور اس اسلوب کو "کمیونسٹ ادبی جدیدیت،” کا نام دیا۔ جس سے مارکسزم کے باغیانہ روش بھی کہا گیا۔ جو راویتی اور سکہ بند مارکسزم سے انحراف اور کسی حد تک بیزاری کا بھی اظہار تھا۔ جس میں مثبت طور پر استحصالی رویوں پر مثبت انداز میں بات کی جاتی تھی۔ جس میں موضوعیت میی گونح بھی نظر آتی تھی۔ کینتھ ،این پیٹری { Petry}، الیگزینڈر سیکٹن {Saxton }، رچرڈ رائٹ، ہے Gilden، تھامس میکگرا، اور کارلوس بولوسنا { Bulosan} ” نے جدیدیت کی’ پوشیدہ حکایات” کو مارکسی متن اور سیاق میں شامل کیا۔ اور تاریخ کو دوبارہ کھنگالا گیا۔ اور کچھ دانشوروں نے اسے ” عدم شعوریت کی جھاڑو” سے بھی سے بھی تعبیر کیا۔ شاید اسی سسب امریکی یسساریت پسند ادبّا اور دانشور معاشرتی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی تبدیلی یا انقلاب کے متمنی تو ہوتے ہیں مگر ادبی تبدیلی پر زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ اور کہا جاتا ہے کی روایتی مارکسی، لیننی اور اسٹالین کی فکریات کو امریکہ میں وجودی ، جدیدیت اور نئی تاریخ کار کی جانب مڑگئی ہے۔ اسد مفتی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے۔ "امریکہ کی کمیونسٹ پارٹی نے عالمی اقتصادی بحران اور کساد بازاری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکسسٹ لینن ازم کا دور پھر آ گیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ کی کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ عہدیدار لابیرو ڈیلا پیانا نے بتایا ہے کہ موجودہ عالمی اقتصادی بحران کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کی پیشن گوئی کے عین مطابق ہے۔ اور اب دنیا کو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارا وقت دوبارہ آ پہنچا ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے عوام ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کمیونسٹ پہلی بار دفاعی پوزیشن سے باہر آ گئے ہیں ہم اپنی دنیا تخلیق کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی دنیا ہوگی جو چند افراد کے فائدے اور خوشی کے بجائے معاشرے کے تمام طبقات کیلئے آسودگی اور راحتیں لے کر آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کے اہم مسائل مثلاً امن، تعلیم، صحت اور روزگار ہیں اور ہم یہ سب فراہم کر سکتے ہیں۔” ۔ ۔کولمبیا یونیورسٹی، امریکہ کے استاد مائیکل ڈینگ نے ادبی جریدے ” امریکن جرنل”، مارکسزم اور امریکن مطالعوں کے تحت ۔۔” امریکن خصوصی صورتحال، امریکن مطالعوں کے عنوان سے ایک پر مغز مقالہ لکھا ہے.امریکہ میں مارکسٹ ادبی تنقید پر ڈینیل آرون اور فریڈرک جیمسن نے دقیق کام کیا ہے اور اس کی نئی تعبیرات پیش کی ہیں۔ {احمد سہیل}
*** احمد سہیل ***
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بائیں بازو کے ادب کے فکری بنیادیں مساوات اور عدل کے فکری مقولوں پر کھڑی ہیں۔ یو ایک معاشرتی اور فکری تبدیلی کا خواب بھی تھا۔ جو ہنوز ایک خواب ہی ہے۔ جس میں امریکہ کے اداروں معاشی، سیاسی اور ثقافتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا تھا۔ اصل میں امریکہ میں بائیں بازو کی ادبی تحریک ای ترقی پسند تبدیلی کی ” آلاتیاتی” {instrumental} تحریک تھی۔ جو محنت کشوں، شہری آزادیوں، امن وسلامتی، تاثینت، کم اجرت، اور ماحولیات جیسے اہم معاشرتی مسائل اور بشریاتی مسائل کلیدی نوعیت کے تھے۔ جس میں سرمایہ کاریت پر تنقید کرتے ہوئے اس کو نہایت حقارت سے ٹھکردیا گیا۔ شمالی امریکہ میں غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں نےایک کمیوں کا معاشرے کی ضرورت کو محسوس کیا۔ اور اقتصادی طور پر ایک دوسرے سے تعاوں کرتے ہوئے ” ساتھی” { کامریڈ} کا تصور دہقانی معاشروں میں زیادہ مقبول ہوا۔
۱۶۸۳ میں شمالی امریکی میں نقل مکانی کرنے والے یورپی آباد کاورں نے سب سے پہلے فلاڈیلفیا پنسلواینہ، سے ساٹھ /۶۰ میل کی مسافت پربوہیمیا جاگیر پر شمالی امریکہ میں پہنچنے والے پہلے یورپی سوشلسٹوں جو 1683 میں بوہیمیا جاگیر کے کمیون قائم کیا جس کو "Labadists ” کہا جاتا تھا۔ جو اصل میں ایک عسیائی فرقہ تھا۔ اس کمیوں کے طور طریقے، اصول اور طرز زندگی نصرانی اخلاقیات سے جڑے ہوئے تھے۔
پہلا سیکولر امریکی سوشلسٹ جرمن مارکسی تارکین وطن کی ” بستی” تھی۔ جو ۱۸۴۸ میں انقالب کی جنگ لڑ کر یہاں پنچے تھے۔ جوزف وائی ڈیمائر /Weydemeyer ، نے ۱۸۴۸ کے انقلاب کے بعد ۱۸۵۱ میں یہاں سکونت اختیار کی جو کارل مارکس کے دوست تھے۔ انھوں نے امریکہ سے پہلا یسسارت پسند جریدہ شائع کیا۔ جو ان کی موت تک چھپتا رہا۔ جس میں سیاسسی ، معاشرتی ، اقتصادی اور فکری مسائل کر مباحث ہوتی تھیں۔ . 1852 میں انہوں نے Proletarierbund میں امریکہ میں پہلی مارکسسٹ تنظیم امریکی ورکرز لیگ، قائم کی ۔لیکن یہ بہت بات ان کے لیے افسوسناک رہی کہ مقامی انگریزی بولنے والوں نے اس تنظیم کو اہمیت نہیں دی اور اس میں رکنیت حاصل نہیں کی۔1866 میں، ولیم ایچ سیلوس {Sylvis }نیشنل لیبر یونین (NLU) کی بنیاد رکھی. جس کے روح روان میں جرمن فیڈرچ{Frederich }البرٹ سرج { Sorge} بھی شامل تھے۔ نیویارک میں انٹرنیشنل کنونشن کےجنرل کونسل کے جنرل سیکرٹری کی حیثت سے سرج/ Sorge ساتھ نیویارک میں منتقل ہوگئے۔ لیکن اندرونی تنازعہ کے باعث یہ تنظیم ٹوٹ گئی۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکی بائین بازو کے ادب و فکر پر اسٹالیں کے سخت گیر روئیے کے تحت آگئی۔ جس میں سیاسی تجزیات، فکری نظریات ، ادب جنگ کی تباہ کاریوں کو نہایت پیچیدہ اور ابہام کے شکل میں پیش کیا گیا۔ جس میں فرد اور مماشرے کی مباحث کو مزید الجھا دیا گیا تھا۔. اکتوبر 1940 میں، امریکی کمیونسٹ جرنل،” نیا عوام” شائع ہوا۔ جس کو معروف امریکی ادیبوں میلکم کولی {Cowley } والڈو فرینک، آرچیبالڈ میک لش { MacLeish،} لیوس ممفورڈ{Mumford }اور برطانوی مارکسی دانشور جان اسٹریزی{ Strachey } کا قلمی تعاون بھی حاصل تھا۔ یہ سن نازی ازم کے سخت مخالف تھے۔ اس رسالے میں ایک کارتوں بھی چھپا کرتا تھا جو اس جو اس جریدے کا دل ہوتا تھا۔ اور مارکسزم کی فکری پیچیدگیوں کو سلیس زبان میں بیان کیا جاتا تھا۔ جس میں جدلیاتی تاریخ کی تفصیل ، معاشرے کی تعمیر نو کہانیاں اورجنگ کے مہلک اثرات اور تباہ کاریوں سے اپنے قاری کو آگاہ کیا۔ ادب اور نظرئیے کے تعلق سے حیران کن اور پیچیدہ تحریرں بھی پڑھنے کو ملتی تھیں۔ .
سیاسی وابستگی ، وعدوں "کمیونسٹ منصوبہ بندی اور بیان بازی سے سوشلسٹ فکر میں تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوئی۔” اسٹالین کے جرائم، پر نظر ڈالی گئی۔ اور پاپولر فرنٹ اینٹی فاشزم کو کمیونسٹ اخلاقی اور سیاسی کند زنی { obtuseness } پر زور دیتے ہوئے اس میں فکری اصلاحات کیں۔ اور اس کی نئی توبیرات پیش کیں۔ اور بھر ۱۹۳۰ میں بائین بازو کے ادب کی نئی توبیرات کی تفھیم و تشریح کی۔ اور اس اسلوب کو "کمیونسٹ ادبی جدیدیت،” کا نام دیا۔ جس سے مارکسزم کے باغیانہ روش بھی کہا گیا۔ جو راویتی اور سکہ بند مارکسزم سے انحراف اور کسی حد تک بیزاری کا بھی اظہار تھا۔ جس میں مثبت طور پر استحصالی رویوں پر مثبت انداز میں بات کی جاتی تھی۔ جس میں موضوعیت میی گونح بھی نظر آتی تھی۔ کینتھ ،این پیٹری { Petry}، الیگزینڈر سیکٹن {Saxton }، رچرڈ رائٹ، ہے Gilden، تھامس میکگرا، اور کارلوس بولوسنا { Bulosan} ” نے جدیدیت کی’ پوشیدہ حکایات” کو مارکسی متن اور سیاق میں شامل کیا۔ اور تاریخ کو دوبارہ کھنگالا گیا۔ اور کچھ دانشوروں نے اسے ” عدم شعوریت کی جھاڑو” سے بھی سے بھی تعبیر کیا۔ شاید اسی سسب امریکی یسساریت پسند ادبّا اور دانشور معاشرتی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی تبدیلی یا انقلاب کے متمنی تو ہوتے ہیں مگر ادبی تبدیلی پر زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ اور کہا جاتا ہے کی روایتی مارکسی، لیننی اور اسٹالین کی فکریات کو امریکہ میں وجودی ، جدیدیت اور نئی تاریخ کار کی جانب مڑگئی ہے۔ اسد مفتی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے۔ "امریکہ کی کمیونسٹ پارٹی نے عالمی اقتصادی بحران اور کساد بازاری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکسسٹ لینن ازم کا دور پھر آ گیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ کی کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ عہدیدار لابیرو ڈیلا پیانا نے بتایا ہے کہ موجودہ عالمی اقتصادی بحران کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کی پیشن گوئی کے عین مطابق ہے۔ اور اب دنیا کو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارا وقت دوبارہ آ پہنچا ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے عوام ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کمیونسٹ پہلی بار دفاعی پوزیشن سے باہر آ گئے ہیں ہم اپنی دنیا تخلیق کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی دنیا ہوگی جو چند افراد کے فائدے اور خوشی کے بجائے معاشرے کے تمام طبقات کیلئے آسودگی اور راحتیں لے کر آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کے اہم مسائل مثلاً امن، تعلیم، صحت اور روزگار ہیں اور ہم یہ سب فراہم کر سکتے ہیں۔” ۔ ۔کولمبیا یونیورسٹی، امریکہ کے استاد مائیکل ڈینگ نے ادبی جریدے ” امریکن جرنل”، مارکسزم اور امریکن مطالعوں کے تحت ۔۔” امریکن خصوصی صورتحال، امریکن مطالعوں کے عنوان سے ایک پر مغز مقالہ لکھا ہے.امریکہ میں مارکسٹ ادبی تنقید پر ڈینیل آرون اور فریڈرک جیمسن نے دقیق کام کیا ہے اور اس کی نئی تعبیرات پیش کی ہیں۔ {احمد سہیل}
بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2124085007822021



