عالمی ادب
::: اردو کا علمی اور ادبی جریدہ ۔۔” زبان و ادب” ۔…

::: اردو کا علمی اور ادبی جریدہ ۔۔” زبان و ادب” ۔۔۔ { پٹنہ، بہار، جنوری 2018 } :::
تبصرہ : احمد سہیل ***
پٹنہ سے بہار اردو اکادمی کے ادبی اور علمی جریدے ” زبان و ادب” کا جنوری 20108 کا شمارہ اپنے بھرپور مندرجات کے ساتھ آج میرے ہاتوں میں ہے۔ اس پرچے کے مدیر مشتاق احم نوری ہیں۔ اس رسالے کا دیدی زیب سرورق اوبال مسعود نے ترتیب دیا ہے۔ ادارئیے” حرف آغاز” میں مشتاق احمد نوری نے اردو اباب کے کتعلق چند اہم نکات قائم کئے ہیں، اور اس کے نظریاتی اور اطلاقی رساءی کے تحت بڑی منفرد اور منطقی بحث کی ہے ۔۔۔ نوری صاحب رقم طراز ہیں ” زبان اظہار خیال کا بہترین آلہ ہے اور زبان کوئی بھی ہو وہ ایک نامیاتی شے ہے جو ہر عہد میں بدلتی رہتی ہے۔ ” اور بچے کی لسانی منازل میں بہت ساری نفسیاتی اور عضویاتی پیچیدگیاں ہوتی ہیں ۔۔ ” اکثر لاعلمی کی وجہ سے اپنے ذاتی قیاس محض کی وجہ سے محض سنے میں اچھی نقل اتارنے میں لاپروائی کی وجہ سے تلفظ بگڑ جاتا ہے۔” ۔۔۔۔ آج ہندی صحافت تعیناتی کو ” تیناتی” مخالف کو خلافت جسے الفاظ کے روپ میں ڈھال کر اپنے طور پر اردو سے غذا لے رہی ہے۔ ”
پرچے میں مضامین، افسانوں اور شاعری کا کا بہتریں انتخاب پیش کیا گیا ہے۔ جس کا اندازہ آپ کو پرچے کی ترتیب دیکھ کر آجائے گا۔ اس پرچے میں افسانوں، ناولوں پر بہتریں تجزیات شامل ہیں۔ ” زبان و ادب” بڑی محبت اور ہنری مندی سے نکلالا جارہا ہےاور اس پرچے کا فنکارانہ رنگیں سراپا جازب نظر ہے۔ جس کے لیے پرچے کے تمام کارکناں لائق تحسن ہیں۔ میری استدعا ہے کہ پرچے میں ادبّا شعرا کے مختصر مصاحبہ شامل کیا جائے۔ اور عالمی ادب کی خبریں اور مضامین کے تراجم اور طلبا کے ایک دو مضامین یا شاعری کو پرچے کے صفحات میں جگہ دی جائے۔ { احمد سہیل } ::: معہ تین /۳ صفحات ***
تبصرہ : احمد سہیل ***
پٹنہ سے بہار اردو اکادمی کے ادبی اور علمی جریدے ” زبان و ادب” کا جنوری 20108 کا شمارہ اپنے بھرپور مندرجات کے ساتھ آج میرے ہاتوں میں ہے۔ اس پرچے کے مدیر مشتاق احم نوری ہیں۔ اس رسالے کا دیدی زیب سرورق اوبال مسعود نے ترتیب دیا ہے۔ ادارئیے” حرف آغاز” میں مشتاق احمد نوری نے اردو اباب کے کتعلق چند اہم نکات قائم کئے ہیں، اور اس کے نظریاتی اور اطلاقی رساءی کے تحت بڑی منفرد اور منطقی بحث کی ہے ۔۔۔ نوری صاحب رقم طراز ہیں ” زبان اظہار خیال کا بہترین آلہ ہے اور زبان کوئی بھی ہو وہ ایک نامیاتی شے ہے جو ہر عہد میں بدلتی رہتی ہے۔ ” اور بچے کی لسانی منازل میں بہت ساری نفسیاتی اور عضویاتی پیچیدگیاں ہوتی ہیں ۔۔ ” اکثر لاعلمی کی وجہ سے اپنے ذاتی قیاس محض کی وجہ سے محض سنے میں اچھی نقل اتارنے میں لاپروائی کی وجہ سے تلفظ بگڑ جاتا ہے۔” ۔۔۔۔ آج ہندی صحافت تعیناتی کو ” تیناتی” مخالف کو خلافت جسے الفاظ کے روپ میں ڈھال کر اپنے طور پر اردو سے غذا لے رہی ہے۔ ”
پرچے میں مضامین، افسانوں اور شاعری کا کا بہتریں انتخاب پیش کیا گیا ہے۔ جس کا اندازہ آپ کو پرچے کی ترتیب دیکھ کر آجائے گا۔ اس پرچے میں افسانوں، ناولوں پر بہتریں تجزیات شامل ہیں۔ ” زبان و ادب” بڑی محبت اور ہنری مندی سے نکلالا جارہا ہےاور اس پرچے کا فنکارانہ رنگیں سراپا جازب نظر ہے۔ جس کے لیے پرچے کے تمام کارکناں لائق تحسن ہیں۔ میری استدعا ہے کہ پرچے میں ادبّا شعرا کے مختصر مصاحبہ شامل کیا جائے۔ اور عالمی ادب کی خبریں اور مضامین کے تراجم اور طلبا کے ایک دو مضامین یا شاعری کو پرچے کے صفحات میں جگہ دی جائے۔ { احمد سہیل } ::: معہ تین /۳ صفحات ***


بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2124218484475340



