مختصر کہانیاں
Epi 19 اس نے سوچا نوری کو کال کریں امی ابا کو فل ح…

Epi 19
اس نے سوچا نوری کو کال کریں امی ابا کو فل حال سرپرایز دینا چاہتی تھی صلاح الدین کے ساتھ اس نے بال کانوں کے پیچھے کر کے اس کو میسج کرنے لگی
تھی کے دین کی کال آگئی اس نے اُٹھائی
"اسلام و علیکم موشی کیسی ہو سو گئی تھی ۔”
وہ ایک دم ہشاش بشاش لہجے میں بولا ثمرن مسکرائی
"آپ کا پلان فیل ہوگیا کیونکہ کھانے سے مجھے جتنی تھوڑی بہت نیند آرہی تھی وہ بھی اُڑھ گئی ۔”
"ظاہر ہے پائلیٹ ہوں جہاز اُڑا سکتا ہوں تو اپنی بیوی کی نیند نہیں ۔”
وہ مزے سے بولا وہ شرم سے مسکرا پڑی
"کیا کررہے ہیں آپ ۔”
"کچھ نہیں حویلی کی خبر لو زرا ہو کیا رہا ہے ۔”
وہ خاموش ہوگئی
"موشی اگر تم سچ میں تم ان کے نام تک سے بھی کانپی تو میں تم سے بات نہیں کروں گا ۔”
صلاح الدین اس کی حالت سمجھ گیا تھا
"اور تمھیں ٹھیک مادر بزرگ کرسکتی ہیں ۔”
"ننن نہیں دین ۔”
وہ ڈر گئی تھی
"جھلی ! مورے فون نہیں اُٹھا رہی فون دوں گی انھیں ۔”
"آپ بات تو کریں گے نا مجھ سے ۔”
وہ سمجھی کہی وہ ناراض ہوگیا ہے
"ہاں اگر محترمہ موشم ہوئی نہ کے ڈرپوک جھلی ثمرن !۔”
صلاح الدین تیزی سے بولا
"الادین صاحب ! ڈرپوک نہیں ہوں ۔”
وہ ایک دم تیزی سے بولی پھر خود ہی اپنے اس پُرانے لہجے پر حیران ہوگئی
"کیا کہا ؟ یہ واقعی میری موشم بات کررہی ہے ۔”
وہ تصدیق چارہا تھا
"میں مورے کو دیتی ہوں آپ ان سے بات کریں ۔”
وہ جلدی سے مورے کو دیکھتے ہوے بولی وہ خود حیران تھی اپنے آپ پر صلاح الدین نے واقعئ پانچ دنوں میں کمال دکھایا تھا
•••••••••••••
وہ رورہا تھا اور وہ اب حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی
”ارے آپ روے تو نہیں ۔”
وہ اب اس کے پاس آئی
میں ارشد بھائی کو نہیں بلاؤ گی پولیس بھی آپ کو نہیں پکڑی گی اب تو چُپ ہوجاے ۔
”تم اپنی بکواس بند کروں گی ۔”
وہ اب دھاڑا تھا اس نے منہ بنا لیا اسامہ کا چہرہ گیلا ہوا تھا اور اس کی نیلی آنکھیں جھلملا گئی تھی اور کافی زیادہ چمک رہی تھی اس نے کچھ سوچتے ہوے اپنا آئی پوڈ دیکھا جو سائڈ پہ گر گیا تھا اُٹھایا
اور سونگ پلے کیا جبھی بھی وہ سیڈ ہوتی تو میوزک لگایا کرتی تھئ
Snow White کا the dwarf yodel song
لگا دیا یہ بہت ہی بچکانہ حرکت تھی لیکن کیا بھی تو بچی نے ہی تھا جب ثمرن یا ان میں سے کوئی روتا تو یہ لگا دیتے اس کے بعد ہنس ہنس کر وہ لوٹ پھوٹ ہوتے تھے اسامہ نے سر اُٹھا کر دیکھا
”اب دیکھنا آپ ہنس پڑے گے ویسے آپ کی نا اس لال رنگ والے اینگری سے شکل ملتی ہر وقت ناک پہ غصہ
رہتا
وہ اس کے پاس آئی اور اپنا ڈوپٹہ اُٹھایا
"یہ آئی پوڈ پکڑے ایک سکینڈ !۔”
اس نے اسے پکڑنے کو کہا اسامہ نے خاموشی سے اسے دیکھا
"او ہو پکڑے تو سہی پھر بتاتی ہوں ۔”
"میں واش روم جارہی ہوں آپ تب تک گانا سُنے خود کو ریلکس کریں میرے سامنے تو رو لیا باقیوں کے سامنے رو گے تو لوگ آپ کا مزاق اُڑائے گے اب اچھے کیونکہ آپ نے مجھے مارا بھی نہیں ورنہ میری امی کہہ رہی تھی ایسے لڑکے بہت مارتے ہیں اور آپ نے مجھے برگر بھی لے کر دیا آج کل تو کوئی ٹافی بھی نہیں دیتا آپ بُرے نہیں اپنے آپ کو مت کہے ۔”
وہ اسے پکڑا کر چلی گئی اور اسامہ اس کی پشت کو دیکھ رہا تھا وہ کیا تھی کوئی بچی تھی یا پھر ایک سمجھدار لڑکی جو اس کو اپنا آئینہ دکھا رہی تھی
اس نے اس کے آئی پوڈ کو دیکھا اس کے دل کو کچھ ہوا یہ کیا کردیا اس نے یہ لڑکی اس چیز کی مستحک نہیں تھی ، اسے اپنا آپ اور بُرا لگ رہا تھا ۔
※※※※※※※※※※※※
آغا جی گھر پہنچے تو انھیں خبر ہوئی ان کی بہن پہنچ گئی ہیں وہ ان کے کمرے میں آنے میں زرا دیر بھی نہیں لگائی اور اب وہ دستک دیں رہے تھے کیونکہ اس طرح بلا دھڑک وہ ان کے کمرے میں داخل نہیں ہوسکتے تھے
"آجاو !۔”
ان کی آواز پر آغا جی نے فورن دروازہ کھولا دیکھا تو وہ جاے نماز بچھا رہی تھی جب انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو آتے ہوے دیکھا تو ان کے ماتھے پہ بل پڑ گئے
"پخیر مشرہ خور !۔”
وہ مسکرا کر آگئے آئے خانم نے ہاتھوں سے انھیں آگئے آنے سے روکا
"تمھیں کسی نے اجازت دیں ہے آگئے آنے کی ۔”
وہی سخت لہجہ جو وہ مردوں پہ استمعال کیا کرتی تھی
"مشرہ خور کیا ہوا سب خیریت تو ہے ۔”
وہ چونک پڑے
"تمھیں تو میں بتاو گی دین کہاں ہے ؟ ”
"دین ؟۔”
"ہاں دین ! اور اگر تم نے منہ سے جھوٹ بولا خان تو کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہو گے میری عمر سے یہ مت سمجھ لینا کے میں کمزور اور بے بس ہوگئی ہو ۔”
"خور کوئی بات ہوئی ہے ہم سے کوئی غلطی ۔”
"غلطی اگر خان تو نے غلطی کہی تو پھر میری جوتی ہوگی اور تمھارا سر گناہ کیا ہے میری تربیت کا تو نے یہ صلاح دیا ہے اور کدھر ہے تمھاری اولاد ۔”
وہ دھاڑی تھی کے آغا جان کا سر جھک گیا تھا
"میرے بزنس کے ساتھ ساتھ میری عزت جو میں نے برسوں سے بنائی ہے اس کو بھی مٹی میں ملاؤں گے تم ! یہ جو عزت اور نام ملا ہے مت بھولو یہ تمھیں میری وجہ سے ملا ہے ۔”
وہ خاموش ہوگئے
"اپنے اس طاقت پہ اتنا مت اکڑو خان ورنہ منہ کی کھاو گے ۔”
وہ سخت سے سخت الفاظ کہے جارہی تھی اور وہ خاموش تھے کیونکہ خاموشی ان کی مجبوری تھی
تایا بھی خبر ملتے ہی فورن ان کمرے پہنچے خانم کی نظر اس پہ پڑی اور ان کی ایسی نظریں تھی تایا جان بھی ٹہر گئی وہ سوچ رہے تھے اندر آئے یا پھر بھاگ جاے لیکن چونکہ خان کسی سے نہیں ڈرتے تو ہمت کر کے آگئے بڑھے
"پخیر خانم !۔”
"او بھئی چھوٹے خان تمھاری ہی کمی تھی ۔”
وہ ظنزیا مسکراہٹ سے بولی تھی اور تایا جی سمجھ گئے اب ان کے ظنز سے اللہ ہی بچاے ۔
••••••••••••••
وہ ڈرایو کررہا تھا جبکہ اس کی نظر سوئی ہوئی صبح پہ پڑی ابھی اتنا بول بول کر اچانک وہ جمائی لے رہی تھی پھر اس نے کہا کے اگر پہنچ جاے تو اسے اُٹھا لیجیے گا اتنی بہادر بچی اس نے آج تک نہیں دیکھی تھی اس کی نظروں میں وانی میں آتی ایسی کئی لڑکیاں جو اس کی عمر اور اسے بھی چھوٹی تھی جن کے چہرے پہ خوف ، وحشت بات بات پہ رونا کچھ تو شاکڈ سے بالکل خاموش ہوجاتی تھی مگر اس پر تو فل حال ایسے کوئی اثرات نہیں آئے تھے اس کی بڑی بہن کو دیکھ لیا جاے جو اس سے پانچ چھ سال بڑی تھی کیسی حالت ہوگی تھی ایک بار بھی اس لڑکی نے احتجاج کیا ہوا بہت فرق تھا بہنوں میں بہت زیادہ اور وہ اس لڑکی کی اس بہادری پر داد دیں رہا تھا جو اس کے ساتھ سفر بنا کسی خوف کے کررہی تھی گو کے اس کا وہ شوہر تھا مگر جو وہ کرنے جارہا تھا جس سے اس کی معصومیت چھن جاتی ۔ اس نے سگیرٹ ہنٹوں میں دبایا اور لائٹر جیب سے نکالنے لگا جب اسے بیپ کی آواز آئی اس نے وہم سمجھا لیکن جب بیپ کی آواز بار بار سُنائی دینے لگی اس نے فون چیک کیا لیکن اس کی تو اونچی رنگ ٹون تھی اس نے صبح کے ہاتھ میں پڑا آئی پوڈ دیکھا وہ بھی آف تھا
پھر یہ کہاں سے بج رہی تھی اس نے سگیرٹ منہ سے نکال کر سائڈ پہ کار روکی اور پھر اس چیک کیا آواز تو صبح کے پاس سے آرہی تھی اور تفصیل سے چیک کرنے کے بعد پتا چلا صبح میڈم کے پاس فون بھی ہے جو ان کی فراک کے اندر کی جیب میں پڑا ہوا ہے یعنی ارشد بھائی کی دھمکی ایسی نہیں تھی یہ لڑکی شاہد اور کچھ بھی لائی ہوگی
"اُف اسامہ خان یہ کس سے پالا پڑ گیا تمھارا ۔”
وہ کہتے ہوے اب کار دوبارہ سٹارٹ کرنے لگا لیکن کار سٹارٹ نہ ہوئی
"اسے کیا ہوا ؟۔”
اب وہ دوبارہ سٹارٹ کررہا تھا لیکن کار نے مزید چلنے سے ہار مان لی تھی
"ڈیم اٹ !۔”
اسامہ نے زور سے سٹیرنگ پہ ہاتھ مارا کہ صبح جو سورہی تھی اُٹھ
"اُف سونے دیں ۔”
وہ مندی مندی آنکھیں کھول کر غصے سے بولی
"اِدھر میری کار خراب ہوگئی ہے اور تم کہہ رہی ہو سونے دیں اب اس بھرے جنگل میں کون گاڑی ٹھیک کریں گا تم !۔”
اس نے پھر ٹرائی کیا مگر آوازیں نکلانے کی سوا اس نے کچھ نہیں کیا تو اسے غصہ آگیا تھا اسامہ کی عادت تھئ کے وہ چھوٹی باتوں پہ بہت زیادہ غصہ ہوجاتا کرتا تھا
"اچھا آپ بھی سوجائے صبح دیکھ لے گے ۔”
وہ مزے سے کہتی ٹانگیں مزید اوپر کرتئ شیشے کے ساتھ ٹیک لگا لی اسامہ اسے دیکھتا رہا پھر اس کا بازو پکڑ کر جنجھوڑا
"اُٹھو ! ۔”
"کیا ہے!۔”
وہ چڑتے ہوے بولی
اس کی جو نیند خراب کرتا تھا اس کو تو وہ کچا چبا جاتی تھی
"میری کار خراب ہوگئی ہے ۔”
"تو میں کیا آپ کو مکینک نظر آتی ہوں جو بار بار بول رہے ہیں مجھے اُٹھایا کیوں !!!!!!!!!۔”
وہ چڑ گئی تھی اور بہت بُرا چڑی تھی
"ایک بات تو بتاو تمھارے پاس کوئی فون ہے ۔”
اسامہ تیزی سے بولا تھا اسے یاد آیا تھا وہ ایک دم گڑبڑا گئی لیکن بنا ڈرے بولی
"ہاں ہے اور وہ میں بالکل نہیں دوں گی ۔”
وہ اس کے سچ بولنے پہ حیران ہوگیا
"اِدھر لاو دوں مجھے تم بالکل بھول گئی ہو کون ہو ۔”
وہ سختی سے بولا تھا ساری ہمدردی جیسے منٹو میں غائب ہوگئی تھی فطرت کا مارا بیچارا
"آپ کے پاس اتنا مہنگا آئی فون ایکس ہے میرا آئی فون فور کا کیا کریں گے ۔”
وہ منہ پہ آئے بالوں کو پیچھے کرنے لگی
"میں نے فون استمعال نہیں کرنا !۔”
وہ اب تحمل سے بولا تھا ورنہ دل تو پھر بھی کررہا تھا اس کو ایک دو تو لگاے کیسی لڑکی ہے
"تو پھر کیا کریں گے اس کو چاے میں تو ڈبونے سے رہے اب مجھے بہت نیند آرہی ہے آپ نے پھر سگیرٹ پی اللہ جی مجھے بچا لیجیے گا پلیز ورنہ یہ تو چاہتیے ہیں میں مرو ایر فریشنر ہے ۔”
اس نے شیشہ نیچے کرنا چاہا لیکن بٹن سے کچھ ہو ہی نہ رہا تھا
"یہ کھل کیوں نہیں رہا ؟۔”
وہ بار بار بٹن کو دبانے لگی
"چھوڑے خراب کرو گی اسے ۔”
اس نے صبح کا ہاتھ جھٹکا
"اُف کیا پتھر جیسے ہاتھ ہے اور اتنے رف کریم لگایا ۔”
وہ ہاتھ سہلانے لگی
"یہ کھل کیوں نہ رہا آپ کی بو سی میں بے ہوش ہوجاو گی اور پھر ارشد بھائی ۔”
"اگر تم مزید کچھ آگئے سے بولی تو ارشد بھائی کے سامنے گولی سے اُڑا دوں گا ۔”
وہ پہلے دیکھتی رہی پھر کھلکھلا کر ہنس پڑی
"تھپڑ نہیں مار سکے گولی مارے گی مجھے تو اب یقین ہوگیا ہے آپ نے مکھی بھی نہیں ماری ہوگی ہی ہی ۔”
"او یو !۔”
وہ انگلی اُٹھا کر اسے کے آگئے جھکا
"تم بھول رہی ہو کچھ میں کیا چیز ہوں ۔”
"آپ چیز نہیں ہے اسامہ آپ انسان ہیں اور وہ بھی روندوں ۔”
وہ ہنس پڑی تھی اور اسامہ اپنے بال کھینچ لینا چاہتا تھا اسے اُٹھا کر وہ بہت پچھتایا تھا
"دیکھا وہی پھولی ہوئی ناک اس اینگری کی طرح ہاہاہاہا زیادہ غصہ مت کریں ناک اتنا موٹا ہوجاے گا ایک دن آپی بھی غصے میں تھی ان کا ناک کیا بتاو ۔”
وہ بولنے لگی اور وہ غصے سے اُتر گیا کے وہ پوری رات اس کی بکواس نہیں سُن سکتا تھا
"اُف اٹیوڈ کتنا ہے یار اب اس نے اُٹھا دیا مجھے بھوک لگنے لگی ہے ۔”
جب کار کا مسئلہ حل کر کے وہ سیدھا اندر آیا دیکھا تو صبح صاحبہ دُنیا سے بیگانی خواب خرگوش کی نیند لے رہی تھیں ، اسامہ نے اس چھوٹی چڑیل کو دیکھا جو آج تقریباً اس کا دو لیٹر خون چوس چکی تھی
وہ بہت تھک گیا تھا لیکن وہ جلد از جلد فارم ہاوس پہنچنا چاہتا تھا کیونکہ وہ مزید اپنا خون نہیں جلنا چاہتا تھا ۔
※※※※※※※※※※※
"یہ کوئی بھی فون کیوں نہیں اُٹھا رہا نہ امی ، نہ بابا نہ ہی نوری کہاں غائب ہوگئے ہیں ۔”
آج صلاح الدین نے واپس آنا تھا اور وہ دو دن سے مسلسل انھیں کال ملائی جارہی تھی لیکن کسی نے بھی فون نہیں اُٹھایا وہ باہر آئی دیکھا مورے ماسی سے صفائی کروارہی تھی اسے دیکھ جر مسکرائی
"ابھی سے تیار ہوگئی اچھا کیا آخر نئی نویلی دلہن کو ایسے ہی لگنا چاہیے۔”
وہ چھینپ گئی
"مورے میرے گھر والوں میں سے کوئی بھی فون نہیں اُٹھا رہا مجھے پریشانی ہورہی ہے ۔”
"تم اپنا فون لائی تھی ؟۔”
وہ اس کو دیکھ کر پوچھنے لگی
"نہیں مورے یہ تو دین کا فون ہے ۔”
وہ ایک دم کہہ کر لب دبا گئی تھی مورے کے سامنے دین بولنا اسے عجیب لگا مورے مسکرا پڑئ وہ سمجھ گئی اس کی جھجھک اور اس کے پاس آئی اور اس کا گال تھپ تھپا کر خوش رہو کہا
"گھر کے نمبر پہ ڈائل کیا بیٹی ؟۔”
"گھر کا نمبر کہہ رہے ہیں بند ہوگیا ہے باقی کی تو سمجھ سکتی ہوں مگر نوری کیوں نہیں اُٹھا رہی پتا نہیں عجیب سی گھبراہٹ ہورہی ہے ۔”
"ارے چندا فکر کیوں کرتی ہو ! ہوسکتا ہے تمھارے امی ابو نے تمھاری وجہ سے نمبر نہ تبدیل کر لیے ہو ۔”
"میری وجہ سے !۔”
"جانو لوگ فون کرنے لگ جاتے ہیں چسکے کے لیے ، مضنوعی ہمدری بانٹنے کے چکر میں گرما گرم خبر سُنتے ہیں اور اسے پھیلاتے ہیں یہی تو ان کی زندگی میں تفرئیع ہے ۔”
"شاہد آپ صحیح کہہ رہی ہیں واقی امی ابا میری وجہ سے سائڈ پہ ہوگئے ہیں کوئی بات نہیں میں اور صلاح الدین جاے گی نا ان سب کے پاس تو پھر سب ٹھیک ہوجاے گا ۔”
وہ پُر امید لہجے میں کہنے لگی وہ پھر مسکرا پڑی دین نے واقعی صحیح کہا تھا وہ بہت بھولی ہے مگر بہت صاف دل کی ۔
"ہاں میری جان چلو کھانے کو دیکھو میں تمھیں دین کی پسند بتاتی ہوں ۔”
وہ اس کو اپنے ساتھ کچن کی طرف لے کر گئی
**************
وہ رات کے بارہ بجے بلا آخر پہنچ گیا تھا اس نے ہارن بجایا کہی بار بجانے سے بھی نوری کی نیند میں خلل نہیں پڑا کیونکہ اس کی نیند گہری ہوچکی تھی
دروازہ پورے دس منٹ بعد کھولا گیا دیکھا تو یہاں کا ہی چوکیدار گل شیر خان نے کھولا اسامہ اپنی کار بہت بڑے پارکنگ ایڑیا کی طرف لے کر جانے کے بجاے سامنے بڑے بڑے پلر کے قریب لے گیا اور گاڑی روک دیں
"اُٹھو !!۔”
اس نے خاصی اونچی آواز میں کہا مگر صبح نے کوئی رسپونس نہیں دیا
"میں نے کچھ کہا ہے اُٹھو !!۔”
"اُف !۔”
گل شیر بھاگتے ہوے آیا اور دروازہ کھولا
"سلام اسامہ لالہ ! معاف کرنا ہم لیٹ ہوگیا تھا ۔”
"کوئی بات نہیں کمرے وغیرہ تو کھلوا دیں تھے ۔”
اس نے مڑ کر اُترتے ہوے کہا گل شیر نے دروازہ بند کیا
"لالہ کمرہ کیا ہم نے تو پورا گھر کھول دیا ہے آپ بے فکر رہو !۔”
"ٹھیک ہے تم سامان نکالو ، میں جارہا ہوں ۔”
"صاحب کھانا کھاے گا آپ لگا دوں ۔”
گل شیر کو یاد آیا تو مڑ کر بولا اسامہ کو یاد پڑا آج واقعی اس نے ایک لقمہ بھی صبح سے اپنے اندر نہیں اُتارا تھا
"نہیں رہنے دوں بس ایک کافی بنا کر میرے کمرے میں لا دوں ۔”
اس نے نور کی سائڈ کا دروازہ کھولا
"اُٹھو ! ۔”
"بات سُنو پہنچ چکے ہیں ہم ۔”
مگر وہ اتنی گہری نیند سوئی ہوئی تھی اسامہ اسے دیکھتا رہا پھر جھنجھوڑا
"او سونے دوں !!!۔”
بڑبڑا کر وہ پھر نیند کی وادیوں میں
"توبہ اسے اُٹھایا تو اس وقت بھی میرا سر کھائی گی ۔”
اس نے کچھ سوچتے ہوے بازو میں اسے اُٹھایا اور دروازہ بند کر کے اندر کی طرف بڑھا
لاوئنج میں آندھیرا تھا کافی
"ایک تو یہ لائٹ آن کیوں نہیں کرتا ۔”
وہ غصہ سے کہتے ہوے اوپر سڑھیوں کی طرف بڑھا
اور اپنے کمرے کے بجائے اسے ساتھ والے کمرہ جو کے ارباز کا تھا اس میں لے گیا آندھیرے کے باوجود وہ بنا لائٹ آن کیے بغیر اسے بستر پہ لٹا چکا تھا اور اس پر بنا کمبل ڈالے واپس مڑنے لگا کے ٹہر گیا اس نے لائٹ آن کی اور مڑتی ہی کمبل اس پر ڈالنے لگا وہ اسے دیکھتا گیا پھر گہرا سانس لے کر مڑ گیا
*****************
وہ اب تایا کی اتنی بے عزتی کرنے کے بعد گہرا سانس لیتے ہوے تھکے ہوے انداز میں بستر کے قریب بیٹھی
"تمھیں شرم سے مر جانا چاہیے خان مجھے تو تمھیں خان بھی نہیں کہنا چاہئیے اس زمانے میں بھی یہی طور طریقے اپناے ہوے ہیں تم لوگوں نے ، جانور بھی تم لوگ سے ہزار درجہ بہتر ہیں ۔”
وہ خاموش تھے
"بولتے کیوں نہیں ہو زبان کیوں بند ہوگئی میرے سامنے بھی اکڑ دکھاو آخر عورت ہوں تم مرد عورتوں کے سامنے بہادری دکھاتے ہو اور خود کو شیر سمجھتے ہو نام شیر ہے تمھارا مگر حرکتیں گیدروں جیسی اس گھر میں صرف ایک ہی مرد ہے صلاح الدین ورنہ میرے سے اس نے بھی جوتی کھانی تھی
"خانم بات ہادی کی تھی ایسے کیسے چُپ ہوجاتے ۔”
تایا ممنائے اتنی بے عزتی پر ان کا چہرہ سُرخ ہوگیا تھا
"تم تو اپنا منہ بند رکھو ورنہ یہ جوتی پڑے گی یہ مت سمجھنا میں کسی کا لحاظ کروں گی ہادی کی موت ایسی لکھی تھی جو کے ہم میں سے کوئی نہیں روک سکتا تھا اور اس لڑکی کے بھائی نے گولی تھوڑی ماری تھی اکسیڈنٹ ہوا تھا جان بوجھ کے تھوڑی کیا مگر نہیں جاہل اکھٹے ہوے ہیں حویلی سے باہر پھینکنے کا دل کرتا ہے۔”
ان کا جلال قابل دید تھا
"اب جاو یہاں سے میری نماز بھی گزر رہی ہے، تم سب کو سیدھا کرتی ہوں میں پہلے تو سوچ رہی تھی صرف ہفتے میں سب کچھ دیکھ کر واپس چلی جاوں گی مگر یہاں تو نظام ہی الٹ ہوگیا اب کم سے کم تم سب جب تک سیدھے نہیں ہوجاتے میں نے یہاں سے ایک قدم نہیں ہلنا اور میرے خلاف کسی نے بھی کوئی سازش کی تو اپنے انجام خود ہی سوچ لے ۔”
وہ سخت نگاہوں سے دیکھتی نماز شروع کرُچکی تھی
تایا نے غصے سے اپنے باپ کو دیکھا جو کے ان سے ڈرتے تھے آغا جان نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا تو اسے جانے کا کہا , وہ پہلے دیکھتے رہے پھر سر کا خم دیتے ہوے مڑ پڑے جبکہ وہ وہی اپنے بڑی بہن کی نماز ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے وہ اگر ایسے بدتمیزی دکھائیں گے تو یہ جتنی تھوڑی بہت سلطنت ملی ہے اس سے بھی ہاتھ دھو کر بیٹھے گے
*************
وہ کھانا بنا چکی تھی مورے نے زیادہ بنانے بھی نہیں دیا تھا کیونکہ ابھی بھی اس میں کمزوری تھی اور جسم میں زخم بھی فل حال نہیں بھرے تھے صرف صلاح الدین کا من پسند لزانیا اور پلاؤ بنا دیا جس پہ اتنا جتن بھی نہیں کرنا پڑا تھا مورے ماسی کے ساتھ کریم کے زریعے کچھ سامان لینے گئی تھی بتایا نہیں تھا اور نہ ہی ثمرن نے تفصیل پوچھی تھی وہ اب تیار تھی کھانا بن چکا تھا اس لیے سوچا اس کے کوئی کپڑے نکال دیں وہ کمرے کی طرف بڑھئ اور الماری کھولی اسے کمرے کی عجیب خاموشی سے گھبراہٹ ہورہی تھی سوچا جب تک کمرے میں ہے کسی چیز کئ آواز آئے اس نے ٹی وی آن کردیا اور الماری کی طرف بڑھی ٹی وی میں کسی نیوز چینل کی آواز آنے لگی وہ اب تھوڑی مطمن ہوگئی وہ دین کے لیے کیمل رنگ کئ شلوار قمیض نکال رہی تھی جب اس کا سکون پل میں غارت ہوگیا
"قطر ایرویز سے اسلام آباد آنے والی فلائٹ موسم کی تبدیلی کی باعث بچ نہیں پائی اور مارگلہ کے پہاڑ پہ جاگرا ہم آپ کو بتاتے ہیں کے پلین ۔۔۔۔۔۔
اس کا سانس اکھڑنے لگا دین بھی تو قطر ایرویز اس کا دین نہیں رہا اس دُنیا میں ابھی تو آیا تھا اس کے پاس یہ کیا کیا اللہ نے کیسی آزمائش میں ڈال دیا اس اس نے ہینگر سے تھامی اس کی قمیض کو دیکھا
"میں واپس آو تو مجھے پُرانی والی موشم چاہئیے ورنہ مجھ سے بات مت کرنا ۔”
آنسو بے اختیار ہوگئے
"الادین ! اتنی ب ب بڑی س س سزا ۔”
اس نے ٹی وی کی طرف نہیں دیکھا لیکن اس کی کان میں گرم سیسہ نیوز والے انڈیل رہے تھے اس نے نفی میں تیزی سے سر ہلا کر ریموٹ اُٹھایا اور بند کیا
"نہیں دین کو کچھ نہیں ہوگا وہ بالکل سلامت ہوگے ایسی کیسے جاے گے ابھی تو میں ٹھیک ہورہی تھی ، میرے ہاتھ کا کھانا کھاے گے مجھ سے بات کریں گے ڈھیر سارا پیار بھی کریں گے موشم بھی بولے گے نہیں دیں واپس آئے گے ضرور آگئے گے ۔”
اس نے قمیض کو اپنے ساتھ بھینچ لیا تھا اور صلاح الدین کے خشبو کو محسوس کر کے یقین دہانی کروارہی تھی کے نہیں دین زندہ ہے اور دین واپس آئے گا یہ جھوٹی بکواس خبریں جتنا وہ سسکیوں کو دبا رہی تھی اتنی ہی اس کے چیخے نکلنے لگی اور پھر پورا اپارٹمنٹ اس کی چیخوں سے بڑھ گیا تھا
**********************
وہ کافی کے سپ لے رہا تھا اور ساتھ میں سیگرٹ کے گہرے کش وہ کھبی بھی حویلی میں گھر والوں کے سامنے نہیں لیتا تھا یہ تو اس کی تنہائیوں کی ساتھی تھی اور وہ ہر ایک کش سے اُڑتے دھوے سے ماضی میں کھو جاتا تھا مگر آج ماضی سے ہٹ کر وہ سوچ رہا تھا وہ آج کرنے کیا جارہا تھا اگر اس کی ماں کی آواز اس کی قدموں کی زنجیر نہ بنتی تو وہ آج کیسے سر اُٹھا پاتا ساری زندگی ضمیر نے اس پر کوڑے برسانے تھے اور آخرت میں جب وہ اپنی ماں کے نام سے پکارا جاتا اور پھر اپنی ماں کا کیا منہ دکھاتا جس نے اسے نصیحت کی تھی
"اسامہ عورت جتنی بھی مضبوط کیوں نہ ہو مگر مرد کی محبت پہ نازک ابگینے کی طرح ہوتی ہے چاہیے وہ باپ کی محبت ہو ، بھائی کی ، شوہر کی یا بیٹے کی وہ اسے کمزور بنا دیتی ہے ان کی محبت کی خاطر اپنا آپ مٹا دیتی ہے بدلے میں کیا چاہئیے ہوتا صرف عزت محبت بیشک نہ دیں عزت بہت ضرور اس کے بغیر عورت بالکل خالی ہے اور میں کچھ نہیں چاہتی بس میرا سمی ایک اچھا باپ ، ایک اچھا شوہر ایک اچھا بیٹا اور بھائی بنے بس اور عورت کی عزت کو اپنی پہلے اولیت سمجھنا بس مجھے اور کچھ نہیں چاہیے تم سے ۔”
دھوے میں ماں کا عکس غائب ہوگیا تھا اور وہ حال میں واپس لوٹا
اس نے سامنے پڑئ اپنی امی کی تصویر دیکھی جو کتنی پیاری تھی کتنی خوبصورت تھی مگر باپ نے انھیں
اس نے سوچا نوری کو کال کریں امی ابا کو فل حال سرپرایز دینا چاہتی تھی صلاح الدین کے ساتھ اس نے بال کانوں کے پیچھے کر کے اس کو میسج کرنے لگی
تھی کے دین کی کال آگئی اس نے اُٹھائی
"اسلام و علیکم موشی کیسی ہو سو گئی تھی ۔”
وہ ایک دم ہشاش بشاش لہجے میں بولا ثمرن مسکرائی
"آپ کا پلان فیل ہوگیا کیونکہ کھانے سے مجھے جتنی تھوڑی بہت نیند آرہی تھی وہ بھی اُڑھ گئی ۔”
"ظاہر ہے پائلیٹ ہوں جہاز اُڑا سکتا ہوں تو اپنی بیوی کی نیند نہیں ۔”
وہ مزے سے بولا وہ شرم سے مسکرا پڑی
"کیا کررہے ہیں آپ ۔”
"کچھ نہیں حویلی کی خبر لو زرا ہو کیا رہا ہے ۔”
وہ خاموش ہوگئی
"موشی اگر تم سچ میں تم ان کے نام تک سے بھی کانپی تو میں تم سے بات نہیں کروں گا ۔”
صلاح الدین اس کی حالت سمجھ گیا تھا
"اور تمھیں ٹھیک مادر بزرگ کرسکتی ہیں ۔”
"ننن نہیں دین ۔”
وہ ڈر گئی تھی
"جھلی ! مورے فون نہیں اُٹھا رہی فون دوں گی انھیں ۔”
"آپ بات تو کریں گے نا مجھ سے ۔”
وہ سمجھی کہی وہ ناراض ہوگیا ہے
"ہاں اگر محترمہ موشم ہوئی نہ کے ڈرپوک جھلی ثمرن !۔”
صلاح الدین تیزی سے بولا
"الادین صاحب ! ڈرپوک نہیں ہوں ۔”
وہ ایک دم تیزی سے بولی پھر خود ہی اپنے اس پُرانے لہجے پر حیران ہوگئی
"کیا کہا ؟ یہ واقعی میری موشم بات کررہی ہے ۔”
وہ تصدیق چارہا تھا
"میں مورے کو دیتی ہوں آپ ان سے بات کریں ۔”
وہ جلدی سے مورے کو دیکھتے ہوے بولی وہ خود حیران تھی اپنے آپ پر صلاح الدین نے واقعئ پانچ دنوں میں کمال دکھایا تھا
•••••••••••••
وہ رورہا تھا اور وہ اب حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی
”ارے آپ روے تو نہیں ۔”
وہ اب اس کے پاس آئی
میں ارشد بھائی کو نہیں بلاؤ گی پولیس بھی آپ کو نہیں پکڑی گی اب تو چُپ ہوجاے ۔
”تم اپنی بکواس بند کروں گی ۔”
وہ اب دھاڑا تھا اس نے منہ بنا لیا اسامہ کا چہرہ گیلا ہوا تھا اور اس کی نیلی آنکھیں جھلملا گئی تھی اور کافی زیادہ چمک رہی تھی اس نے کچھ سوچتے ہوے اپنا آئی پوڈ دیکھا جو سائڈ پہ گر گیا تھا اُٹھایا
اور سونگ پلے کیا جبھی بھی وہ سیڈ ہوتی تو میوزک لگایا کرتی تھئ
Snow White کا the dwarf yodel song
لگا دیا یہ بہت ہی بچکانہ حرکت تھی لیکن کیا بھی تو بچی نے ہی تھا جب ثمرن یا ان میں سے کوئی روتا تو یہ لگا دیتے اس کے بعد ہنس ہنس کر وہ لوٹ پھوٹ ہوتے تھے اسامہ نے سر اُٹھا کر دیکھا
”اب دیکھنا آپ ہنس پڑے گے ویسے آپ کی نا اس لال رنگ والے اینگری سے شکل ملتی ہر وقت ناک پہ غصہ
رہتا
وہ اس کے پاس آئی اور اپنا ڈوپٹہ اُٹھایا
"یہ آئی پوڈ پکڑے ایک سکینڈ !۔”
اس نے اسے پکڑنے کو کہا اسامہ نے خاموشی سے اسے دیکھا
"او ہو پکڑے تو سہی پھر بتاتی ہوں ۔”
"میں واش روم جارہی ہوں آپ تب تک گانا سُنے خود کو ریلکس کریں میرے سامنے تو رو لیا باقیوں کے سامنے رو گے تو لوگ آپ کا مزاق اُڑائے گے اب اچھے کیونکہ آپ نے مجھے مارا بھی نہیں ورنہ میری امی کہہ رہی تھی ایسے لڑکے بہت مارتے ہیں اور آپ نے مجھے برگر بھی لے کر دیا آج کل تو کوئی ٹافی بھی نہیں دیتا آپ بُرے نہیں اپنے آپ کو مت کہے ۔”
وہ اسے پکڑا کر چلی گئی اور اسامہ اس کی پشت کو دیکھ رہا تھا وہ کیا تھی کوئی بچی تھی یا پھر ایک سمجھدار لڑکی جو اس کو اپنا آئینہ دکھا رہی تھی
اس نے اس کے آئی پوڈ کو دیکھا اس کے دل کو کچھ ہوا یہ کیا کردیا اس نے یہ لڑکی اس چیز کی مستحک نہیں تھی ، اسے اپنا آپ اور بُرا لگ رہا تھا ۔
※※※※※※※※※※※※
آغا جی گھر پہنچے تو انھیں خبر ہوئی ان کی بہن پہنچ گئی ہیں وہ ان کے کمرے میں آنے میں زرا دیر بھی نہیں لگائی اور اب وہ دستک دیں رہے تھے کیونکہ اس طرح بلا دھڑک وہ ان کے کمرے میں داخل نہیں ہوسکتے تھے
"آجاو !۔”
ان کی آواز پر آغا جی نے فورن دروازہ کھولا دیکھا تو وہ جاے نماز بچھا رہی تھی جب انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو آتے ہوے دیکھا تو ان کے ماتھے پہ بل پڑ گئے
"پخیر مشرہ خور !۔”
وہ مسکرا کر آگئے آئے خانم نے ہاتھوں سے انھیں آگئے آنے سے روکا
"تمھیں کسی نے اجازت دیں ہے آگئے آنے کی ۔”
وہی سخت لہجہ جو وہ مردوں پہ استمعال کیا کرتی تھی
"مشرہ خور کیا ہوا سب خیریت تو ہے ۔”
وہ چونک پڑے
"تمھیں تو میں بتاو گی دین کہاں ہے ؟ ”
"دین ؟۔”
"ہاں دین ! اور اگر تم نے منہ سے جھوٹ بولا خان تو کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہو گے میری عمر سے یہ مت سمجھ لینا کے میں کمزور اور بے بس ہوگئی ہو ۔”
"خور کوئی بات ہوئی ہے ہم سے کوئی غلطی ۔”
"غلطی اگر خان تو نے غلطی کہی تو پھر میری جوتی ہوگی اور تمھارا سر گناہ کیا ہے میری تربیت کا تو نے یہ صلاح دیا ہے اور کدھر ہے تمھاری اولاد ۔”
وہ دھاڑی تھی کے آغا جان کا سر جھک گیا تھا
"میرے بزنس کے ساتھ ساتھ میری عزت جو میں نے برسوں سے بنائی ہے اس کو بھی مٹی میں ملاؤں گے تم ! یہ جو عزت اور نام ملا ہے مت بھولو یہ تمھیں میری وجہ سے ملا ہے ۔”
وہ خاموش ہوگئے
"اپنے اس طاقت پہ اتنا مت اکڑو خان ورنہ منہ کی کھاو گے ۔”
وہ سخت سے سخت الفاظ کہے جارہی تھی اور وہ خاموش تھے کیونکہ خاموشی ان کی مجبوری تھی
تایا بھی خبر ملتے ہی فورن ان کمرے پہنچے خانم کی نظر اس پہ پڑی اور ان کی ایسی نظریں تھی تایا جان بھی ٹہر گئی وہ سوچ رہے تھے اندر آئے یا پھر بھاگ جاے لیکن چونکہ خان کسی سے نہیں ڈرتے تو ہمت کر کے آگئے بڑھے
"پخیر خانم !۔”
"او بھئی چھوٹے خان تمھاری ہی کمی تھی ۔”
وہ ظنزیا مسکراہٹ سے بولی تھی اور تایا جی سمجھ گئے اب ان کے ظنز سے اللہ ہی بچاے ۔
••••••••••••••
وہ ڈرایو کررہا تھا جبکہ اس کی نظر سوئی ہوئی صبح پہ پڑی ابھی اتنا بول بول کر اچانک وہ جمائی لے رہی تھی پھر اس نے کہا کے اگر پہنچ جاے تو اسے اُٹھا لیجیے گا اتنی بہادر بچی اس نے آج تک نہیں دیکھی تھی اس کی نظروں میں وانی میں آتی ایسی کئی لڑکیاں جو اس کی عمر اور اسے بھی چھوٹی تھی جن کے چہرے پہ خوف ، وحشت بات بات پہ رونا کچھ تو شاکڈ سے بالکل خاموش ہوجاتی تھی مگر اس پر تو فل حال ایسے کوئی اثرات نہیں آئے تھے اس کی بڑی بہن کو دیکھ لیا جاے جو اس سے پانچ چھ سال بڑی تھی کیسی حالت ہوگی تھی ایک بار بھی اس لڑکی نے احتجاج کیا ہوا بہت فرق تھا بہنوں میں بہت زیادہ اور وہ اس لڑکی کی اس بہادری پر داد دیں رہا تھا جو اس کے ساتھ سفر بنا کسی خوف کے کررہی تھی گو کے اس کا وہ شوہر تھا مگر جو وہ کرنے جارہا تھا جس سے اس کی معصومیت چھن جاتی ۔ اس نے سگیرٹ ہنٹوں میں دبایا اور لائٹر جیب سے نکالنے لگا جب اسے بیپ کی آواز آئی اس نے وہم سمجھا لیکن جب بیپ کی آواز بار بار سُنائی دینے لگی اس نے فون چیک کیا لیکن اس کی تو اونچی رنگ ٹون تھی اس نے صبح کے ہاتھ میں پڑا آئی پوڈ دیکھا وہ بھی آف تھا
پھر یہ کہاں سے بج رہی تھی اس نے سگیرٹ منہ سے نکال کر سائڈ پہ کار روکی اور پھر اس چیک کیا آواز تو صبح کے پاس سے آرہی تھی اور تفصیل سے چیک کرنے کے بعد پتا چلا صبح میڈم کے پاس فون بھی ہے جو ان کی فراک کے اندر کی جیب میں پڑا ہوا ہے یعنی ارشد بھائی کی دھمکی ایسی نہیں تھی یہ لڑکی شاہد اور کچھ بھی لائی ہوگی
"اُف اسامہ خان یہ کس سے پالا پڑ گیا تمھارا ۔”
وہ کہتے ہوے اب کار دوبارہ سٹارٹ کرنے لگا لیکن کار سٹارٹ نہ ہوئی
"اسے کیا ہوا ؟۔”
اب وہ دوبارہ سٹارٹ کررہا تھا لیکن کار نے مزید چلنے سے ہار مان لی تھی
"ڈیم اٹ !۔”
اسامہ نے زور سے سٹیرنگ پہ ہاتھ مارا کہ صبح جو سورہی تھی اُٹھ
"اُف سونے دیں ۔”
وہ مندی مندی آنکھیں کھول کر غصے سے بولی
"اِدھر میری کار خراب ہوگئی ہے اور تم کہہ رہی ہو سونے دیں اب اس بھرے جنگل میں کون گاڑی ٹھیک کریں گا تم !۔”
اس نے پھر ٹرائی کیا مگر آوازیں نکلانے کی سوا اس نے کچھ نہیں کیا تو اسے غصہ آگیا تھا اسامہ کی عادت تھئ کے وہ چھوٹی باتوں پہ بہت زیادہ غصہ ہوجاتا کرتا تھا
"اچھا آپ بھی سوجائے صبح دیکھ لے گے ۔”
وہ مزے سے کہتی ٹانگیں مزید اوپر کرتئ شیشے کے ساتھ ٹیک لگا لی اسامہ اسے دیکھتا رہا پھر اس کا بازو پکڑ کر جنجھوڑا
"اُٹھو ! ۔”
"کیا ہے!۔”
وہ چڑتے ہوے بولی
اس کی جو نیند خراب کرتا تھا اس کو تو وہ کچا چبا جاتی تھی
"میری کار خراب ہوگئی ہے ۔”
"تو میں کیا آپ کو مکینک نظر آتی ہوں جو بار بار بول رہے ہیں مجھے اُٹھایا کیوں !!!!!!!!!۔”
وہ چڑ گئی تھی اور بہت بُرا چڑی تھی
"ایک بات تو بتاو تمھارے پاس کوئی فون ہے ۔”
اسامہ تیزی سے بولا تھا اسے یاد آیا تھا وہ ایک دم گڑبڑا گئی لیکن بنا ڈرے بولی
"ہاں ہے اور وہ میں بالکل نہیں دوں گی ۔”
وہ اس کے سچ بولنے پہ حیران ہوگیا
"اِدھر لاو دوں مجھے تم بالکل بھول گئی ہو کون ہو ۔”
وہ سختی سے بولا تھا ساری ہمدردی جیسے منٹو میں غائب ہوگئی تھی فطرت کا مارا بیچارا
"آپ کے پاس اتنا مہنگا آئی فون ایکس ہے میرا آئی فون فور کا کیا کریں گے ۔”
وہ منہ پہ آئے بالوں کو پیچھے کرنے لگی
"میں نے فون استمعال نہیں کرنا !۔”
وہ اب تحمل سے بولا تھا ورنہ دل تو پھر بھی کررہا تھا اس کو ایک دو تو لگاے کیسی لڑکی ہے
"تو پھر کیا کریں گے اس کو چاے میں تو ڈبونے سے رہے اب مجھے بہت نیند آرہی ہے آپ نے پھر سگیرٹ پی اللہ جی مجھے بچا لیجیے گا پلیز ورنہ یہ تو چاہتیے ہیں میں مرو ایر فریشنر ہے ۔”
اس نے شیشہ نیچے کرنا چاہا لیکن بٹن سے کچھ ہو ہی نہ رہا تھا
"یہ کھل کیوں نہیں رہا ؟۔”
وہ بار بار بٹن کو دبانے لگی
"چھوڑے خراب کرو گی اسے ۔”
اس نے صبح کا ہاتھ جھٹکا
"اُف کیا پتھر جیسے ہاتھ ہے اور اتنے رف کریم لگایا ۔”
وہ ہاتھ سہلانے لگی
"یہ کھل کیوں نہ رہا آپ کی بو سی میں بے ہوش ہوجاو گی اور پھر ارشد بھائی ۔”
"اگر تم مزید کچھ آگئے سے بولی تو ارشد بھائی کے سامنے گولی سے اُڑا دوں گا ۔”
وہ پہلے دیکھتی رہی پھر کھلکھلا کر ہنس پڑی
"تھپڑ نہیں مار سکے گولی مارے گی مجھے تو اب یقین ہوگیا ہے آپ نے مکھی بھی نہیں ماری ہوگی ہی ہی ۔”
"او یو !۔”
وہ انگلی اُٹھا کر اسے کے آگئے جھکا
"تم بھول رہی ہو کچھ میں کیا چیز ہوں ۔”
"آپ چیز نہیں ہے اسامہ آپ انسان ہیں اور وہ بھی روندوں ۔”
وہ ہنس پڑی تھی اور اسامہ اپنے بال کھینچ لینا چاہتا تھا اسے اُٹھا کر وہ بہت پچھتایا تھا
"دیکھا وہی پھولی ہوئی ناک اس اینگری کی طرح ہاہاہاہا زیادہ غصہ مت کریں ناک اتنا موٹا ہوجاے گا ایک دن آپی بھی غصے میں تھی ان کا ناک کیا بتاو ۔”
وہ بولنے لگی اور وہ غصے سے اُتر گیا کے وہ پوری رات اس کی بکواس نہیں سُن سکتا تھا
"اُف اٹیوڈ کتنا ہے یار اب اس نے اُٹھا دیا مجھے بھوک لگنے لگی ہے ۔”
جب کار کا مسئلہ حل کر کے وہ سیدھا اندر آیا دیکھا تو صبح صاحبہ دُنیا سے بیگانی خواب خرگوش کی نیند لے رہی تھیں ، اسامہ نے اس چھوٹی چڑیل کو دیکھا جو آج تقریباً اس کا دو لیٹر خون چوس چکی تھی
وہ بہت تھک گیا تھا لیکن وہ جلد از جلد فارم ہاوس پہنچنا چاہتا تھا کیونکہ وہ مزید اپنا خون نہیں جلنا چاہتا تھا ۔
※※※※※※※※※※※
"یہ کوئی بھی فون کیوں نہیں اُٹھا رہا نہ امی ، نہ بابا نہ ہی نوری کہاں غائب ہوگئے ہیں ۔”
آج صلاح الدین نے واپس آنا تھا اور وہ دو دن سے مسلسل انھیں کال ملائی جارہی تھی لیکن کسی نے بھی فون نہیں اُٹھایا وہ باہر آئی دیکھا مورے ماسی سے صفائی کروارہی تھی اسے دیکھ جر مسکرائی
"ابھی سے تیار ہوگئی اچھا کیا آخر نئی نویلی دلہن کو ایسے ہی لگنا چاہیے۔”
وہ چھینپ گئی
"مورے میرے گھر والوں میں سے کوئی بھی فون نہیں اُٹھا رہا مجھے پریشانی ہورہی ہے ۔”
"تم اپنا فون لائی تھی ؟۔”
وہ اس کو دیکھ کر پوچھنے لگی
"نہیں مورے یہ تو دین کا فون ہے ۔”
وہ ایک دم کہہ کر لب دبا گئی تھی مورے کے سامنے دین بولنا اسے عجیب لگا مورے مسکرا پڑئ وہ سمجھ گئی اس کی جھجھک اور اس کے پاس آئی اور اس کا گال تھپ تھپا کر خوش رہو کہا
"گھر کے نمبر پہ ڈائل کیا بیٹی ؟۔”
"گھر کا نمبر کہہ رہے ہیں بند ہوگیا ہے باقی کی تو سمجھ سکتی ہوں مگر نوری کیوں نہیں اُٹھا رہی پتا نہیں عجیب سی گھبراہٹ ہورہی ہے ۔”
"ارے چندا فکر کیوں کرتی ہو ! ہوسکتا ہے تمھارے امی ابو نے تمھاری وجہ سے نمبر نہ تبدیل کر لیے ہو ۔”
"میری وجہ سے !۔”
"جانو لوگ فون کرنے لگ جاتے ہیں چسکے کے لیے ، مضنوعی ہمدری بانٹنے کے چکر میں گرما گرم خبر سُنتے ہیں اور اسے پھیلاتے ہیں یہی تو ان کی زندگی میں تفرئیع ہے ۔”
"شاہد آپ صحیح کہہ رہی ہیں واقی امی ابا میری وجہ سے سائڈ پہ ہوگئے ہیں کوئی بات نہیں میں اور صلاح الدین جاے گی نا ان سب کے پاس تو پھر سب ٹھیک ہوجاے گا ۔”
وہ پُر امید لہجے میں کہنے لگی وہ پھر مسکرا پڑی دین نے واقعی صحیح کہا تھا وہ بہت بھولی ہے مگر بہت صاف دل کی ۔
"ہاں میری جان چلو کھانے کو دیکھو میں تمھیں دین کی پسند بتاتی ہوں ۔”
وہ اس کو اپنے ساتھ کچن کی طرف لے کر گئی
**************
وہ رات کے بارہ بجے بلا آخر پہنچ گیا تھا اس نے ہارن بجایا کہی بار بجانے سے بھی نوری کی نیند میں خلل نہیں پڑا کیونکہ اس کی نیند گہری ہوچکی تھی
دروازہ پورے دس منٹ بعد کھولا گیا دیکھا تو یہاں کا ہی چوکیدار گل شیر خان نے کھولا اسامہ اپنی کار بہت بڑے پارکنگ ایڑیا کی طرف لے کر جانے کے بجاے سامنے بڑے بڑے پلر کے قریب لے گیا اور گاڑی روک دیں
"اُٹھو !!۔”
اس نے خاصی اونچی آواز میں کہا مگر صبح نے کوئی رسپونس نہیں دیا
"میں نے کچھ کہا ہے اُٹھو !!۔”
"اُف !۔”
گل شیر بھاگتے ہوے آیا اور دروازہ کھولا
"سلام اسامہ لالہ ! معاف کرنا ہم لیٹ ہوگیا تھا ۔”
"کوئی بات نہیں کمرے وغیرہ تو کھلوا دیں تھے ۔”
اس نے مڑ کر اُترتے ہوے کہا گل شیر نے دروازہ بند کیا
"لالہ کمرہ کیا ہم نے تو پورا گھر کھول دیا ہے آپ بے فکر رہو !۔”
"ٹھیک ہے تم سامان نکالو ، میں جارہا ہوں ۔”
"صاحب کھانا کھاے گا آپ لگا دوں ۔”
گل شیر کو یاد آیا تو مڑ کر بولا اسامہ کو یاد پڑا آج واقعی اس نے ایک لقمہ بھی صبح سے اپنے اندر نہیں اُتارا تھا
"نہیں رہنے دوں بس ایک کافی بنا کر میرے کمرے میں لا دوں ۔”
اس نے نور کی سائڈ کا دروازہ کھولا
"اُٹھو ! ۔”
"بات سُنو پہنچ چکے ہیں ہم ۔”
مگر وہ اتنی گہری نیند سوئی ہوئی تھی اسامہ اسے دیکھتا رہا پھر جھنجھوڑا
"او سونے دوں !!!۔”
بڑبڑا کر وہ پھر نیند کی وادیوں میں
"توبہ اسے اُٹھایا تو اس وقت بھی میرا سر کھائی گی ۔”
اس نے کچھ سوچتے ہوے بازو میں اسے اُٹھایا اور دروازہ بند کر کے اندر کی طرف بڑھا
لاوئنج میں آندھیرا تھا کافی
"ایک تو یہ لائٹ آن کیوں نہیں کرتا ۔”
وہ غصہ سے کہتے ہوے اوپر سڑھیوں کی طرف بڑھا
اور اپنے کمرے کے بجائے اسے ساتھ والے کمرہ جو کے ارباز کا تھا اس میں لے گیا آندھیرے کے باوجود وہ بنا لائٹ آن کیے بغیر اسے بستر پہ لٹا چکا تھا اور اس پر بنا کمبل ڈالے واپس مڑنے لگا کے ٹہر گیا اس نے لائٹ آن کی اور مڑتی ہی کمبل اس پر ڈالنے لگا وہ اسے دیکھتا گیا پھر گہرا سانس لے کر مڑ گیا
*****************
وہ اب تایا کی اتنی بے عزتی کرنے کے بعد گہرا سانس لیتے ہوے تھکے ہوے انداز میں بستر کے قریب بیٹھی
"تمھیں شرم سے مر جانا چاہیے خان مجھے تو تمھیں خان بھی نہیں کہنا چاہئیے اس زمانے میں بھی یہی طور طریقے اپناے ہوے ہیں تم لوگوں نے ، جانور بھی تم لوگ سے ہزار درجہ بہتر ہیں ۔”
وہ خاموش تھے
"بولتے کیوں نہیں ہو زبان کیوں بند ہوگئی میرے سامنے بھی اکڑ دکھاو آخر عورت ہوں تم مرد عورتوں کے سامنے بہادری دکھاتے ہو اور خود کو شیر سمجھتے ہو نام شیر ہے تمھارا مگر حرکتیں گیدروں جیسی اس گھر میں صرف ایک ہی مرد ہے صلاح الدین ورنہ میرے سے اس نے بھی جوتی کھانی تھی
"خانم بات ہادی کی تھی ایسے کیسے چُپ ہوجاتے ۔”
تایا ممنائے اتنی بے عزتی پر ان کا چہرہ سُرخ ہوگیا تھا
"تم تو اپنا منہ بند رکھو ورنہ یہ جوتی پڑے گی یہ مت سمجھنا میں کسی کا لحاظ کروں گی ہادی کی موت ایسی لکھی تھی جو کے ہم میں سے کوئی نہیں روک سکتا تھا اور اس لڑکی کے بھائی نے گولی تھوڑی ماری تھی اکسیڈنٹ ہوا تھا جان بوجھ کے تھوڑی کیا مگر نہیں جاہل اکھٹے ہوے ہیں حویلی سے باہر پھینکنے کا دل کرتا ہے۔”
ان کا جلال قابل دید تھا
"اب جاو یہاں سے میری نماز بھی گزر رہی ہے، تم سب کو سیدھا کرتی ہوں میں پہلے تو سوچ رہی تھی صرف ہفتے میں سب کچھ دیکھ کر واپس چلی جاوں گی مگر یہاں تو نظام ہی الٹ ہوگیا اب کم سے کم تم سب جب تک سیدھے نہیں ہوجاتے میں نے یہاں سے ایک قدم نہیں ہلنا اور میرے خلاف کسی نے بھی کوئی سازش کی تو اپنے انجام خود ہی سوچ لے ۔”
وہ سخت نگاہوں سے دیکھتی نماز شروع کرُچکی تھی
تایا نے غصے سے اپنے باپ کو دیکھا جو کے ان سے ڈرتے تھے آغا جان نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا تو اسے جانے کا کہا , وہ پہلے دیکھتے رہے پھر سر کا خم دیتے ہوے مڑ پڑے جبکہ وہ وہی اپنے بڑی بہن کی نماز ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے وہ اگر ایسے بدتمیزی دکھائیں گے تو یہ جتنی تھوڑی بہت سلطنت ملی ہے اس سے بھی ہاتھ دھو کر بیٹھے گے
*************
وہ کھانا بنا چکی تھی مورے نے زیادہ بنانے بھی نہیں دیا تھا کیونکہ ابھی بھی اس میں کمزوری تھی اور جسم میں زخم بھی فل حال نہیں بھرے تھے صرف صلاح الدین کا من پسند لزانیا اور پلاؤ بنا دیا جس پہ اتنا جتن بھی نہیں کرنا پڑا تھا مورے ماسی کے ساتھ کریم کے زریعے کچھ سامان لینے گئی تھی بتایا نہیں تھا اور نہ ہی ثمرن نے تفصیل پوچھی تھی وہ اب تیار تھی کھانا بن چکا تھا اس لیے سوچا اس کے کوئی کپڑے نکال دیں وہ کمرے کی طرف بڑھئ اور الماری کھولی اسے کمرے کی عجیب خاموشی سے گھبراہٹ ہورہی تھی سوچا جب تک کمرے میں ہے کسی چیز کئ آواز آئے اس نے ٹی وی آن کردیا اور الماری کی طرف بڑھی ٹی وی میں کسی نیوز چینل کی آواز آنے لگی وہ اب تھوڑی مطمن ہوگئی وہ دین کے لیے کیمل رنگ کئ شلوار قمیض نکال رہی تھی جب اس کا سکون پل میں غارت ہوگیا
"قطر ایرویز سے اسلام آباد آنے والی فلائٹ موسم کی تبدیلی کی باعث بچ نہیں پائی اور مارگلہ کے پہاڑ پہ جاگرا ہم آپ کو بتاتے ہیں کے پلین ۔۔۔۔۔۔
اس کا سانس اکھڑنے لگا دین بھی تو قطر ایرویز اس کا دین نہیں رہا اس دُنیا میں ابھی تو آیا تھا اس کے پاس یہ کیا کیا اللہ نے کیسی آزمائش میں ڈال دیا اس اس نے ہینگر سے تھامی اس کی قمیض کو دیکھا
"میں واپس آو تو مجھے پُرانی والی موشم چاہئیے ورنہ مجھ سے بات مت کرنا ۔”
آنسو بے اختیار ہوگئے
"الادین ! اتنی ب ب بڑی س س سزا ۔”
اس نے ٹی وی کی طرف نہیں دیکھا لیکن اس کی کان میں گرم سیسہ نیوز والے انڈیل رہے تھے اس نے نفی میں تیزی سے سر ہلا کر ریموٹ اُٹھایا اور بند کیا
"نہیں دین کو کچھ نہیں ہوگا وہ بالکل سلامت ہوگے ایسی کیسے جاے گے ابھی تو میں ٹھیک ہورہی تھی ، میرے ہاتھ کا کھانا کھاے گے مجھ سے بات کریں گے ڈھیر سارا پیار بھی کریں گے موشم بھی بولے گے نہیں دیں واپس آئے گے ضرور آگئے گے ۔”
اس نے قمیض کو اپنے ساتھ بھینچ لیا تھا اور صلاح الدین کے خشبو کو محسوس کر کے یقین دہانی کروارہی تھی کے نہیں دین زندہ ہے اور دین واپس آئے گا یہ جھوٹی بکواس خبریں جتنا وہ سسکیوں کو دبا رہی تھی اتنی ہی اس کے چیخے نکلنے لگی اور پھر پورا اپارٹمنٹ اس کی چیخوں سے بڑھ گیا تھا
**********************
وہ کافی کے سپ لے رہا تھا اور ساتھ میں سیگرٹ کے گہرے کش وہ کھبی بھی حویلی میں گھر والوں کے سامنے نہیں لیتا تھا یہ تو اس کی تنہائیوں کی ساتھی تھی اور وہ ہر ایک کش سے اُڑتے دھوے سے ماضی میں کھو جاتا تھا مگر آج ماضی سے ہٹ کر وہ سوچ رہا تھا وہ آج کرنے کیا جارہا تھا اگر اس کی ماں کی آواز اس کی قدموں کی زنجیر نہ بنتی تو وہ آج کیسے سر اُٹھا پاتا ساری زندگی ضمیر نے اس پر کوڑے برسانے تھے اور آخرت میں جب وہ اپنی ماں کے نام سے پکارا جاتا اور پھر اپنی ماں کا کیا منہ دکھاتا جس نے اسے نصیحت کی تھی
"اسامہ عورت جتنی بھی مضبوط کیوں نہ ہو مگر مرد کی محبت پہ نازک ابگینے کی طرح ہوتی ہے چاہیے وہ باپ کی محبت ہو ، بھائی کی ، شوہر کی یا بیٹے کی وہ اسے کمزور بنا دیتی ہے ان کی محبت کی خاطر اپنا آپ مٹا دیتی ہے بدلے میں کیا چاہئیے ہوتا صرف عزت محبت بیشک نہ دیں عزت بہت ضرور اس کے بغیر عورت بالکل خالی ہے اور میں کچھ نہیں چاہتی بس میرا سمی ایک اچھا باپ ، ایک اچھا شوہر ایک اچھا بیٹا اور بھائی بنے بس اور عورت کی عزت کو اپنی پہلے اولیت سمجھنا بس مجھے اور کچھ نہیں چاہیے تم سے ۔”
دھوے میں ماں کا عکس غائب ہوگیا تھا اور وہ حال میں واپس لوٹا
اس نے سامنے پڑئ اپنی امی کی تصویر دیکھی جو کتنی پیاری تھی کتنی خوبصورت تھی مگر باپ نے انھیں


