منتخب غزلیں

ہم تحفے میں گھڑیاں تو دے دیتے ہیں اک دوجے کو وقت …

ہم تحفے میں گھڑیاں تو دے دیتے ہیں
اک دوجے کو وقت نہیں دے پاتے ہیں
——
آج خوبصورت لب و لہجے کی نامور شاعرہ محترمہ فریحہ نقوی کا یوم پیدائش ہے
(پیدائش: 5 جنوری 1992ء )
——
منتخب کلام
——
آہ نہ بھر سکیں تو آپ واہ سے کام لیجیے
شعر پہ سیٹیاں نہیں! درد پہ تالیاں نہیں!
——
تمہارے بعد کسی کم سخن نے وحشت میں
بجھا کے سارے دیے ، آئنوں سے باتیں کیں
——
مرا دل یہ کہتا ہے وہ ان دنوں کچھ پریشان ہے
مگر یہ بھی طے ہے اسے میرا شانہ نہیں چاہیے
——
نہیں شاہزادے! حقیقت کی دنیا بڑی تلخ ہے
تجھے میرے خوابوں سے باہر نکلنا نہیں چاہیے
——
بہت سی خواہشوں میں سے(جو بے مراد رہ گئیں)
تمہارے ساتھ بارشوں میں بھیگنا بھی ایک تھی
——
کسی کے شہر کو بادل مبارک ہوں
ہمارے شہر میں آنکھیں برستی ہیں
——
درد کی اس شدت میں شریانوں کی خیر
یادیں اور یادیں بھی ان شاموں کی، خیر
ڈھیر محبت کرنے والوں کے صدقے
مٹھی بھر نفرت کرنے والوں کی خیر
——
آپ کو منہ نہیں لگایا
توآپ بہتان پر اتر آئے
——
چھوڑو جاؤ کون کہاں کی شہزادی؟؟
شہزادی کے ہاتھ میں چھالے ہوتے ہیں؟؟
——
عید کے دن یہ سوگوار آنکھیں
بد شگونی کا استعارہ ہیں
——
خوابوں کی مٹی سے بنے دو کوزوں میں
دو دریا ہیں اور اکٹھے بہتے ہیں
——
نئی کہاں یہ روایت بہت پرانی ہے
یہ صبر تو مِرے اجداد کی نشانی ہے
تمھارے پاس تو سب کچھ ہے،یعنی ہم بھی ہیں
ہمارے پاس فقط رنج رائیگانی ہے
——
اس کی جانب سے بڑھا ایک قدم
میرے سو سال بڑھا دیتا ہے
——
بس یونہی رنج کا ابر شعروں کی بارش میں ڈھلتا گیا
وارثان سخن ! کوئی تمغہ نہیں ہے کمانا مجھے
——
سن مرے خواب میں آنے والے
تجھ سیجلتے ہیں زمانے والے
——
میں نے ان سے ہٹ کر راہ نکالی ہے
رستہ روکنے والی دیواروں کی خیر!
——
سرخ چناروں والا رستہ خواب میں آتا ہے
نیند میں چلتی جاتی ہوں ، کشمیر بلاتا ہے!
——
قت کی آندھی لے اڑتی ہے کیسے کیسے لوگ
سوچ کے دل کو خوف آتا ہے ، اچھا خاصا خوف
——
تمہارے رنگ پھیکے پڑگئے نا
مری آنکھوں کی ویرانی کے آگے
——
دیکھ لے تیرے چاہنے والے
میری ہمت کی داد دیتے ہیں
——
یہ جو حق پر ڈٹی ہوئی ہوں میں
غاصبوں کو لڑی ہوئی ہوں میں
——
رد نہ کر پائے دلائل میرے
میرے دشمن بھی تھے قائل میرے
——
زمانے !!! اب ترے مد مقابل
کوئی کمزورسی عورت نہیں ہے
——
ترا مغرور ہوجانا بجا تھا
‘مجھے’ تجھ سے محبت ہوگئی تھی
——
ہم اداسی کے اس دبستاں کا
آخری ، مستند حوالہ ہیں
——
کیا کسی خواب کی تلافی ہے
آنکھ کا دھجیوں میں اڑ جانا
——
شام ہوئی تو گھر کی ہر اک شے پر آ کر جھپٹے
آنگن کی دہلیز پہ بیٹھے ویرانی کے سائے
——
اندر ایسا حبس تھا میں نے کھول دیا دروازہ
جس کو دل سے جانا ہے وہ خاموشی سے جائے
——
کھل کر آخر جہل کا اعلان ہونا چاہئے
حق پرستوں کے لئے زندان ہونا چاہئے
اس وطن میں مقتدر ہونے کی پہلی شرط ہے
آدمی کے روپ میں شیطان ہونا چاہئے
آپ جیسوں کو رعایا جھیلتی ہے کس طرح
آپ کو تو سوچ کر حیران ہونا چاہئے
نیم ملا خطرۂ ایمان ہوتا ہے اگر
پورا ملا غاصب ایمان ہونا چاہئے
دل سے شرمندہ ہوں یہ اشعار جو میں نے کہے
آپ کے اعزاز میں دیوان ہونا چاہئے
——
مرے لفظوں کو خیالوں سے جلا دیتا ہے
کون ہے وہ جو مجھے مجھ سے ملا دیتا ہے
جب بھی گزرے مرے آنگن سے وفا کا موسم
تیری چاہت کا نیا پھول کھلا دیتا ہے
اس سے خلوت میں ملاقات کا عالم کیا ہو
جو نگاہوں سے سر بزم پلا دیتا ہے
میں معافی تو اسے دے دوں مگر سچ یہ ہے
جھوٹ ہر رشتے کی بنیاد ہلا دیتا ہے
——
میناروں پر جیسے جیسے شام بکھرتی جاتی ہے
منظر اور دل دونوں میں ویرانی بھرتی ہے
شہر کے بارہ دروازے ہیں جانے کہاں سے آئے وہ
شہزادی یہ سوچ کے ہر در روشن کرتی جاتی ہے
مسجد کے دالان سے لے کر گھنگھرو کی جھنکار تلک
ایک گلی کئی صدیوں سے چپ چاپ گزرتی جاتی ہے
راوی تو اب بھی زندہ ہے لیکن اس کے سینے میں
دھڑکن دھڑکن بہتی ایک روایت مرتی جاتی ہے
زرد فصیلیں ڈھلتا سورج دیکھ کے ایسا لگتا ہے
قلعے پر اب دھیرے دھیرے رات اترتی جاتی ہے
——
بیتے خواب کی عادی آنکھیں کون انہیں سمجھائے
ہر آہٹ پر دل یوں دھڑکے جیسے تم ہو آئے
ضد میں آ کر چھوڑ رہی ہے ان بانہوں کے سائے
جل جائے گی موم کی گڑیا دنیا دھوپ سرائے
شام ہوئی تو گھر کی ہر اک شے پر آ کر جھپٹے
آنگن کی دہلیز پہ بیٹھے ویرانی کے سائے
ہر اک دھڑکن درد کی گہری ٹیس میں ڈھل جاتی ہے
رات گئے جب یاد کا پنچھی اپنے پر پھیلائے
اندر ایسا حبس تھا میں نے کھول دیا دروازہ
جس نے دل سے جانا ہے وہ خاموشی سے جائے
کس کس پھول کی شادابی کو مسخ کرو گے بولو!!!
یہ تو اس کی دین ہے جس کو چاہے وہ مہکائے
——


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/