کالم

ایوانِ اقتدار اور غلام گردشیں

جاوید کاہلوں
محلات اور ان کی غلام گردشیں، صدیوں سے انسانی زندگیوں پر اثر انداز ہوتی چلی آئی ہیں۔ ان محلات سے مراد دراصل راجوں، مہاراجوں اور بادشاہوں و شہنشاہوں کی وہ وسیع و عریض عمارتیں اور قلعے ہیں جن میں کہ کوئی حکمران اپنے سینکڑوں خداموں اور محافظوں کی فوج ظفر موج کے ساتھ رہتا تھاا ور خلقِ خدا پر اپنے سے انداز میں حکمرانی کرتا تھا۔ ایک دو صدیاں قبل ”جمہوری نظام“ کی روائت شروع ہوئی، سائنس نے تعمیرات میں ترقی کی تو پرانے قلعوں کی جگہوں پر جدید بلڈنگز بننا شروع ہو گئیں۔ اب ان میں رہائش پذیر حکمرانوں کو بھی راجہ یا بادشاہ وغیرہ کی جگہ وزیراعظم یا صدر وغیرہ کے القابات سے پکارا جانے لگا۔ اس طرح سے ظاہر میں تو کچھ تبدیلیاں رونما ہو گئیں مگر وہ پرانے بادشاہ اور راجے تھے یا آج کے صدر و وزیراعظم۔ ان کی رہائش گاہوں سے غلام اور کنیزیں تو رخصت ہو گئیں مگر وہ سازشیں، وہ تانے بانے، وہ باہمی رسہ کشیاں اور وہ پچھاڑنے اور لتاڑنے کی روایات جو کہ ان محلات اور ان کی گزر گاہوں میں چلتے پھرتے نوکر چاکر ترتیب دیا کرتے تھے، وہ منظر آج بھی کم و بیش جوں کا توں ہے۔ ہاں مگر، اگر کسی معاشرے کے ادارے اور جمہوری رویے مضبوط ہیں تو وہاں غلام گردشوں کی سازشیں بھی کچھ کمزور پڑ جاتی ہیں۔ لیکن وہ معاشرے جہاں ابھی صحیح جمہوریت نے رواج نہیں پایا، وہاں کے غلام اور کنیزیں آج بھی طرح طرح کے خوشامدی ہتھیاروں سے لیس ہو کر حکمرانوں سے بڑے بڑے مہلک فیصلے حاصل کر لیتے ہیں۔ اب ان غلاموں اور کنیزوں کے قائم مقام زیادہ تر بیوروکریٹ اور ٹیکنوکریٹ ہوتے ہیں۔ ان کی مدد کےلئے بہرطور چند ایک خصوصی نسل کے سیاسی کارکنان بھی ہوتے ہیں جن کو فنِ خوشامد میں کچھ بہتر مہارت حاصل ہووتی ہے۔ ایسے سیاسی لوگ اگر کسی چھوٹے یا بڑے سیاسی ایوان کے ممبر منتخب ہوں تو پھر ان کی زبان کی کاٹ میں بھی دو چند اضافہ ہو جاتا ہے۔
اگر کچھ غور کریں تو معلوم ہو گا کہ ایسے لوگ دیکھنے کو تو عام انسان ہی لگتے ہیں۔ وہی دو ہاتھ، دوپیر، دو بازو، دو آنکھیں، بتیس دانت اور ایک زبان وغیرہ۔ مگر یہ زبان ایک ایسی چیز ہے کہ یہ درحقیقت کسی بھی ایک انسان کو کسی بھی دوسرے سے علیحدہ منزل تک لے جاتی ہے۔ اور ضروری نہیں کہ یہ منزل اعلیٰ و ارفع ہی ہو۔ یہ اسی زبان کی بدولت اسفل سافلین تک پست بھی ہو سکتی ہے۔ شرط ایک ہی ہے کہ کوئی اپنی زبان اور بیان سے اپنے تئیں کسی قدر بلند یا پھر پست ہو سکتا ہے۔ یعنی کہ زیادہ تر کھیل اسی ایک زبان کا ہوتا ہے۔
خیر فلسفے سے اب کچھ حقیقت کی طرف آئیں۔ آزادی کے بعد بننے والا پاکستان ایک جمہوری معاشرہ تھا۔ بادشاہی یا پھر راجوں مہاراجوں کی منازل انگریز دور کی وجہ سے کہیں بہت دور پیچھے رہ چکی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ اب حکمران کسی شاہی قلعے میں نہیں بلکہ ماڈرن دور کے اسلام آباد کی عمارتوں میں رہائش پذیر ہو چکے تھے۔ اب کے محلات اور ان کی غلام گردشیں یہی اسلام آباد کی ماڈرن عمارات یا پھر صوبائی دارالحکومتوں کے گورنر و وزیراعلیٰ ہاﺅسز تھے۔ پاکستان بنتے ہی اکثریت سے بیوروکریٹ اور ٹیکنو کریٹ وہ لوگ تھے جن کو ہم کہتے ہی اہل زبان ہیں۔ یعنی کہ ایسے لوگ جو اُردو بولنے والے علاقوں سے ہجرت کر کے پاکستان آ کر آباد ہو گئے تھے۔ ان لوگوں کی زبان اور ہنر کے کمال گنوانے لگیں تو شائد دفتروں کے دفتر لکھ دیئے جائیں۔ پاکستان میں آ کر انہوں نے حکمرانی کے ایوانوں میں خوشامد کی ایسی ایسی تاریخ رقم کی کہ انسان ششدر رہ جائے۔
افسر شاہی اگرچہ آج تک ان غلام گردشوں کی سرخیل رہی ہے، مگر عندالضرورت اس کارِ خیر میں سیاسی لوگ بھی محلات میں اپنا پورا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو ہمارے سیاستدانوں میں ایک بڑا نام ہے۔ کوئی عام انسان نہیں تھے مگر انہوں نے بھی اپنے سیاسی عزائم کے حصول کےلئے جیسے جیسے پاپڑ بیلے ، وہ اب ہماری تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔ غلام گردشوں کے ضمن میں ان کا بحیثیت ایک وزیر کے نیویارک امریکہ سے انگریزی میں اس وقت کے صدرا سکندر مرزا کو لکھا ہوا خط، تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔ اس میں موصوف صدر اسکندر مرزا کو قائداعظم سے بھی بہت اوپر کا ایک لیڈر بیان فرماتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں کوئی شک نہیں کہ جتنے وہ سمارٹ اور ذہین وزیر تھے، وہ اسکندر مرزا کی تمام اصلیت سے حقیقی طور پر خوب واقف تھے۔ یہی نہیں بلکہ اپنی منزل کو پانے کےلئے وہ عشرہ بھر ایوب خان کو بھی ڈیڈی، ڈیڈی کہا کرتے تھے۔ حالانکہ یہی جنرل ایوب ان کے پچھلے ممدوح کو صدارت کی کرسی سے دھکا دے کر خود صدر بن بیٹھے تھے۔ برا وقت پڑنے پر وہ اپنے اس ”ڈیڈی“ کو بھی نہ صرف چھوڑ گئے تھے بلکہ سیدھا سادھا اس کو کرسی سے دھکا دینے میں بھی جُت گئے تھے۔ آخر کار وہ پاکستان کے دو لخت ہونے پر اپنی من چاہی کرسی پر بیٹھ ہی گئے۔ بہرحال! بھٹو صاحب کے ساتھ جنرل ضیاءالحق نے بھی ویسا ہی ادلے کا بدلہ چکایا۔ انہوں نے نہ صرف وزیراعظم بھٹو کو کرسی سے نیچے دھکا دیا بلکہ اس کو تب تک نہ چھوڑا جب تک وہ تارا مسیح کے حوالے نہیں ہو گئے۔ آنےوالے سالوں میں جنرل ضیاءنے بھی اپنا ایک بچہ جمہورا پالا اور آہستہ آہستہ اسے پروان بھی یوں چڑھایا کہ اپنی عمر اس کو لگنے کی برسرعام دعا بھی کر ڈالی۔ بچے جمہورے کےلئے ایسی دعا کچھ یونہی حادثاتی طور پر نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کے پیچھے بھی صوبہ پنجاب کے اس نوجوان اور بالخصوص ان کے والد صاحب کی حکومتی محلات کے اندر پھیلائی گئی سازشیں تھیں۔ اور یہ دُعا انہیں غلام گردشی کارروائیوں کے نتیجے میں ہی ملی تھی۔ جنرل ضیاءالحق نیک انسان تھے۔ ان کی دُعا بھی من و عن قبول ہوئی۔ وہ ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہوگئے تو بعدازاں بھٹو صاحب والی پرانی کرسی پر نیا نوجوان نوازشریف براجمان ہو چکا تھا۔ المختصر وزارت عظمیٰ کی وہی کرسی لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور نوازشریف وغیرہ سے ہوتی ہوئی اب عمران خان کے تصرف میں ہے۔ مثالیں تو بے شمار اور بھی دی جا سکتی تھیں مگر کالم چونکہ محدود ہوتا ہے، اس لئے اب ہم اس مرکزی نقطے کی طرف آتے ہیں جو کہ آج کا ہمارا موضوع ہے۔
ہم نے دیکھا کہ پاکستان کی تاریخ گو کہ ابھی فقط سات دہائیوں پر محیط ہے۔ اس میں اقتدار پر متمکن انسان تو بدلتے رہتے ہیں گو کہ اس اقتدار کے کچھ فیکٹرز بغیر تبدیل ہوئے متواتر اسی طرح روایتاً چلتے رہتے ہیں۔ تو کیا یہ جاننا ممکن ہو سکتا ہے یا کیا یہ پیش گوئی کرنا ممکن ہو سکتا ہے کہ کب اقتدار کی کرسی اپنا مکین تبدیل کرنے کو ہی ہے؟ ہمارا جواب ہو گا کہ یقینا ایسا ممکن ہے۔ دراصل ایسا اندازہ تب ہی لگ سکتا ہے جب وقتاً فوقتاً آپ صاحب اقتدار کو دیکھتے رہیں اور سنتے رہیں اور آج کے میڈیا کے دور میں ایسا اب کوئی بھی کر سکتا ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے کچھ دیر بعد آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ صاحب اقتدار کی بدن بولی اور لہجہ تبدیل ہو چکا ہے۔ کیونکہ اس کے محلِ اقتدار میں داخل ہوتے ہی ادھر رسائی رکھنے والے اور کچھ ادھر پہلے سے غلام گردشوں میں موجود لوگ اس پر نت نئی خوشامدوں سے اثر انداز ہو کر اسے یقین کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ صاحب اقتدار جیسا دنیا میں کوئی دوسرا نہیں۔ وہ ایک سپر مین اور ہیرو ہے، جس کے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا اقتدار کی کرسی تک قطعاً نہیں پہنچ سکتا۔ جونہی وہ اس سطح پر پہنچتا ہے تو اس کی بدن بولی اور گفتار میں تغیر واقع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ کوئی بھی معمولی شُد بدھ رکھنے والا شخص ایسے بدن بولی کے تغیر سے آنے والے مہ و سال کی تبدیلی کی پشین گوئی کر سکتا ہے۔ (جاری ہے)
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/