منتخب غزلیں

نہ تھیں ' تو دُور کہِیں دھیان میں پڑی ہُوئی ت…

نہ تھیں ' تو دُور کہِیں دھیان میں پڑی ہُوئی تِھیں
تمام آیتیں اِمکان میں پڑی ہُوئی تِھیں

کِواڑ کُھلنے سے پہلے ہی دن نکل آیا
بشارتیں ابھی سامان میں پڑی ہُوئی تِھیں

وہاں شکستہ قدَمچوں پہ آگ روشن تھی
وہی روایتیں اَن جان میں پڑی ہوئی تِھیں

ہم اپنے آپ سے بھی ہم سخُن نہیں ہوئے تھے
کہ ساری مشکِلیں آسان میں پڑی ہوئی تھیں

پس ِ چراغ ' مَیں جو سَمتیں ڈھونڈتا رہا ' تُرک !
وہ ایک لفظ کے دوران میں پڑی ہوئی تھیں

( ضیاؑ المصطفٰی تُرک )

— with Zia Turk.

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/