منتخب غزلیں
احمد فرازؔ سنگ دِل ہے وہ تو کیوں اُس کا گلہ میں ن…

احمد فرازؔ
سنگ دِل ہے وہ تو کیوں اُس کا گلہ میں نے کِیا
جب کے خود پتّھر کو بُت، بُت کو خُدا میں نے کِیا
کیسے نامانُوس لفظوں کی کہانی تھا وہ شخص
اُس کو کتنی مُشکِلوں سے ترجُمہ میں نے کِیا
وہ مِری پہلی محبّت، وہ مِری پہلی شِکست
پِھر تو پَیمانِ وَفا سَو مرتبہ میں نے کِیا
ہُوں سَزا وارِ سَزا کیوں، جب مُقّدر میں مِرے
جو بھی، اُس جانِ جہاں نے لِکھ دِیا، میں نے کِیا
وہ ٹھہرتا کیا، کہ گُزرا تک نہیں، جس کے لیے !
گھر تو گھر، ہر راستہ آراستہ میں نے کِیا
مُجھ پہ اپنا جُرم، ثابت ہونا ہو لیکن، فراز!
لوگ کہتے ہیں کہ اُس کو بے وَفا میں نے کِیا
احمد فرازؔ

