آرزوؔ لکھنوی وہ کیا لِکھتا جِسے اِنکار کر…

وہ کیا لِکھتا جِسے اِنکار کرتے بھی حِجاب آیا
جوابِ خط نہیں آیا تو یہ سمجھو جواب آیا
قریبِ صبح یہ کہہ کر اجل نے آنکھ جَھپکا دی
ارے او ہجر کے مارے تُجھے اب تک نہ خواب آیا
دِل اُس آواز کے صدقے یہ مشکل میں کہا کِس نے
نہ گھبرانا نہ گھبرانا میں آیا اور شتاب آیا
کوئی قتال صورت دیکھ لی مرنے لگے اُس پر
یہ موت اِک خُوشنما پردے میں آئی یا شباب آیا
پرانے عہد ٹُوٹے ہو گئے پیماں نئے قائم
بنا دی اُس نے دنیا دوسری جو انقلاب آیا
گزر گاہِ محبت بن گئی اِک مُستَقِل بستی
لگا کر آگ آیا گھر کو جو خانہ خراب آیا
معمہ بن گیا رازِ محبت آرزوؔ یوں ہی
وہ مجھ سے پُوچھتے جِھجَکے مُجھے کہتے حِجاب آیا
المرسل: فیصل خورشید

