منتخب غزلیں
شارق اجمیری کا یومِ پیدائش [ 31 جنوری 1941ء __ 23 …

شارق اجمیری کا یومِ پیدائش
[ 31 جنوری 1941ء __ 23 اپریل 2016ء ] .
وہ گلابی پیرہن میں یوں نظر آنے لگے
جیسے مرمر کے منارے پہ شفق چھانے لگے
———-
کیوں گریباں پہ ہاتھ جاتا ہے
آنے والی ہے کیا بہار ابھی
———-
فرشتہ کیا ہے، بڑی بات ہے اگر شارق
گزار دے جو بشر، زندگی بشر کی طرح
———-
زندگی کے تغیرات ہی کیا
صرف اتنی سی بات ، بات ہی کیا
زندگی کچھ تھی،کچھ ہے،کچھ ہوگی
بزم_ نیرنگی_ حیات ہی کیا
———-
بڑا غرور ہے خود اپنے بانکپن پہ جنھیں
تم ان کے سامنے اک بار آئینہ تو کرو
رہ حیات میں آتے ہی ہیں نشیب و فراز
ملے گی منزل مقصود حوصلہ تو کرو
وہ برف پگھلے گی اک روز دیکھنا شارقؔ
وسیع دل کی حرارت کا دائرہ تو کرو
———-
بھول جاؤں محال ہے یہ تو
زندگی کا سوال ہے یہ تو
جسم میں قید ہوکے رہ جائے
آدمی کا زوال ہے یہ تو
آدمی پست ، بلڈنگیں بالا
عہد_ نو کا کمال ہے یہ تو
………………….
[ 31 جنوری 1941ء __ 23 اپریل 2016ء ] .
وہ گلابی پیرہن میں یوں نظر آنے لگے
جیسے مرمر کے منارے پہ شفق چھانے لگے
———-
کیوں گریباں پہ ہاتھ جاتا ہے
آنے والی ہے کیا بہار ابھی
———-
فرشتہ کیا ہے، بڑی بات ہے اگر شارق
گزار دے جو بشر، زندگی بشر کی طرح
———-
زندگی کے تغیرات ہی کیا
صرف اتنی سی بات ، بات ہی کیا
زندگی کچھ تھی،کچھ ہے،کچھ ہوگی
بزم_ نیرنگی_ حیات ہی کیا
———-
بڑا غرور ہے خود اپنے بانکپن پہ جنھیں
تم ان کے سامنے اک بار آئینہ تو کرو
رہ حیات میں آتے ہی ہیں نشیب و فراز
ملے گی منزل مقصود حوصلہ تو کرو
وہ برف پگھلے گی اک روز دیکھنا شارقؔ
وسیع دل کی حرارت کا دائرہ تو کرو
———-
بھول جاؤں محال ہے یہ تو
زندگی کا سوال ہے یہ تو
جسم میں قید ہوکے رہ جائے
آدمی کا زوال ہے یہ تو
آدمی پست ، بلڈنگیں بالا
عہد_ نو کا کمال ہے یہ تو
………………….


