اشوکِ اعظم کے 14 نکات مردان گڑی کپور,مانسہرہ راک…

اشوکِ اعظم کے 14 نکات ????????????????????
مردان گڑی کپور,مانسہرہ راکس، ہزارہ، خیبرپختونخواہ
مختصر تاریخ & ترجمہ از #مُسافرِشَب`
جنوبی ایشیا کے ایک اور عظیم راہنما اشوکِ اعظم کے 14 نکات بھی تاریخ میں درج ہیں۔ وہ اتنے خوبصورت اور دلکش ہیں کہ مجھے تحقیق و تراجم کرنا پڑے۔ سب سے پہلے اشوکِ اعظم کی مختصر تاریخ پڑھتے ہیں، پھر ترجمہ پیش کیا جائے گا۔
#تعرف:- تیسری صدی قبلِ مسیح میں بادشاہِ ہندوستان، موریا سلطان اشوکِ اعظم نے مشرقی ہند میں کالنگا کے مقام پر ایک جنگ لڑی اور جیت گیا۔ وہ فتح کی خوشی میں بے حد مسرور تھا۔ جشن کے دوران اُس نے ذرا سوچا کہ میدانِ جنگ ملاحظہ کیا جائے جہاں ابھی ابھی بھگوان نے فتح مُبین عطا فرمائی ہے۔ بس یہی ذرا سا خیال خطہء ہندوستان کی تاریخ بدل گیا۔
میدانِ کالنگا میں، مشروب کی چُسکیاں لیتے ہوئے، اُس نے ملاحظہ کیا کہ جہاں تک نظر دوڑتی ہے، انسانوں کے خون آلود چیتھڑے نظر آ رہے ہیں۔ نہایت ہی خون آشام منظر ہے۔ کہیں کہیں وہ جانور بھی خون میں لت پت ہیں جن کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی مگر انسانوں کی وجہ سے اُنہیں بھی موت کے گھاٹ اُترنا پڑ گیا۔
اچانک اُس کے ضمیر نے ملامت کی کہ اِس سرزمین کو سرخ کی بجائے ہرے رنگ سے لبریز نظر آنا چاہیے تھا، اشوکِ اعظم کا دل بدل گیا اور اُسے محسوس ہوا کہ قتلِ انسانیت نہایت خوفناک شے ہے۔ اُس نے ہندومت کو چھوڑ کر بدھ مت کو اپنا لیا کیونکہ اُس کے مطابق ہندو دھرم کی داستانیں اور پیروکار بادشاہ ہمیشہ خون خوار ثابت ہوئے ہیں، اِسی وجہ سے اُسے بھی بلا سوچے سمجھے خونخوار ہونا پڑ گیا تھا۔۔ لہذا اشوکِ اعظم مشرف بہ بُدھ مت ہو گیا۔ تب بدھ مت کو اپنی پوری تاریخ کا سَب سے عظیم دوام نصیب ہوا اور دورِ اشوکِ اعظم ہزاروں برس کی تاریخ میں سَب سے پُرامن اور تخلیقی دور ثابت ہوا۔ اِس دور پر تحقیق کریں تو نتیجا برآمد ہوتا ہے کہ امن قائم ہو تب انسان باذوق ہو جاتا ہے۔ علم و فن سے دشمنی بنیادی طور پر بدامنی اور بدتہذیبی کی نشانی ہے۔
موجودہ پاکستان میں گندھارا تہذیب بنیادی طور پر اشوکِ اعظم کی ہی مرہونِ منت ہے ورنہ گوتم بدھ اپنی زندگی میں یہاں تشریف نہیں لائے، دورِ اشوک میں بصورت راکھ ضرور تشریف لائے۔ آج ٹیکسلا اور تخت باہی کے سٹوپوں میں گوتم بدھ کی راکھ موجود ہے۔ ویسے بھارت کا سرکاری نشان دھرماچکرا بمع چار شیر اشوکِ اعظم کی زندہ یاد ہے۔
اشوکِ اعظم کی سلطنت موجودہ افغانستان، پاکستان، بھارت، نیپال، بنگلہ دیش اور برما تک پھیلی ہوئی تھی۔ قبولِ بدھ مت کے بعد اُس نے پوری سلطنت میں 30 مقامات پر بڑے بڑے پتھروں اور پتھریلے میناروں پر "اشوکِ اعظم کے 14 نکات" درج کروائے جن کی زبان خروشتی تھی۔ یہی زبان گندھارا کی آفیشل لینگویج بھی تھی جسے ٹیکسلا میں جُولیاں خانقاہ اور میوزیم میں موجود مجسموں پر دیکھا جا سکتا ہے۔
شہنشاہ اشوکِ اعظم نے اپنی سلطنت میں جو تیس سے زاید مقامات پر میناروں اور پتھروں پر اپنے 14 نکات کنندہ کروائے تھے اُن میں سے ایک مقام گندھارا کی شمالی حد پر موجود شہر مانسہرہ کے قریب ہے۔ تاریخی پتھروں پر کنندہ فرمودات کا ایک اور مقام مردان کے قریب شہباز گڑھی ہے۔ ایک مینار سا پتھر رانی گھٹ بُنیر کے کھنڈرات میں ہے۔ 1937 میں جب جیمز پرنسیپ نے خروشتی زبان میں لکھے اِن نکات کو بالآخر ڈی-کوڈ کر لیا تو دنیا سکتے میں آ گئی کہ یہ کیسا بادشاہ گزرا ہے۔ اِس سے پہلے یقیناً اچھے اچھے بادشاہوں اور حکمرانوں کا ذکر بھی موجود تھا مگر اُنہیں تاریخ کی بجائے محض غریب عوام کی خواہشات کے زمرے میں لیا گیا۔ اشوکِ اعظم کے 14 نکات پر مبنی کنندہ چٹانیں اور مینار ٹھوس تاریخ کو ظاہر کرتی ہیں اس لیے نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔
مکمل 14 احکامات میں سے کچھ احکام بدھ مت کے اغراض و مقاصد اور کچھ پرامن معاشرے کے خدوخال کے متعلق ہیں۔ یہ تمام احکامات چیختے ہیں اور شور مچاتے ہیں کہ لڑائی جھگڑے بند کر کے پرامن رہو اور زندگی کی خوبصورتی محسوس کرو۔ یہ احکامات آج بھی نہایت اہم ہیں اور پوری دنیا کو چایے کہ انہیں سنجیدہ لے۔ اگر بعد از مرگ نوبل انعام برائے امن ممکن ہے تو اشوکِ اعظم کو ضرور دینا چاہیے۔
خروشتی زبان میں لکھے ہوئے اِن احکامات کو جو محقق جیمز پرنسیپ نے ڈی-کوڈ کیا تھا، یہ بھی بدھ مت کی خوش نصیبی تھی ورنہ مقامی آبادیاں اِن پتھروں کو کھرچنے کے لیے پرتول رہی تھیں۔
یہ بھی غور کیجیے گا کہ یہ فرمودات آج بھی نہایت اہم اور نسلِ انسانی کی بقا کے لیے کتنے ضروری ہیں۔ نہ صرف نسلِ انسانی بلکہ تمام جانداروں کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ہیں۔
پاکستان محمکہء آثارِ قدیمہ نے اشوکا راکس کو اقوامِ متحدہ نمونہء بین الاقوامی ثقافت میں شامل کروانے کا عمل شروع کر رکھا ہے لیکن ابھی تک شامل نہیں ہوئیں۔ راکس کو محفوظ کرنے کی خاطر اِن پر چھتیں ڈالی گئی ہیں۔ موسموں نے سینکڑوں برسوں سے انہیں معدوم نہیں کیا، اصل خطرہ اُس شدت پسندی سے ہے جو اِن پتھروں سے "غیر اسلامی مواد" ہٹا دینا چاہتی ہے۔ اگر اِن آثار کی درست طریقے سے رکھوالی نہ کی گئی تو یہ آثار ایک مشہور سیاسی شخصیت کی الیکشن کیمپین میں بھی استعمال ہو جائیں گے۔ چلاس کی تاریخی چٹانوں کو بھی یہی مسائل درپیش ہیں۔
•••
#ترجمہ: اشوکِ اعظم کے 14 نکات:-
1) آپ کے بادشاہ اشوک کا حکم ہے کہ سلطنت میں کہیں بھی کسی جانور کو نہیں مارا جائے گا۔ پہلے جو ہر وقت جانوروں کو مار کر بے تحاشہ کھایا جاتا رہا ہے، اِس سلسلے کو بتدریج کم کیا جائے گا۔
2) مشرق و مغرب، شمال و جنوب، پوری سلطنت میں انسانوں اور جانوروں کے لیے الگ الگ طِبی فوائد سے لبریز جڑی بوٹیاں کاشت کی جائیں گی۔ جن علاقوں میں جڑی بوٹیاں نہ اُگ سکیں وہاں حکومت خود پہنچائے گی۔ ہم جگہ جگہ کنویں کھدوا رہے ہیں اور سایہ دار درخت لگوا رہے ہیں تاکہ انسانوں اور جانوروں، سب کو فائدہ ہو۔
3) ہر پانچ برس بعد ہمارے خاص نمائندے پوری سلطنت کا چکر لگائیں گے، مذکورہ تعلیمات (دھما) سکھائیں گے اور موجودہ حالات کو تحریر کر کے ہمیں پیش کریں گے: والدین کا احترام ضروری ہے؛ دوستوں اور رشتے داروں سے اچھے تعلقات قائم رکھیں؛ علم سکھانے والے معلمین اور روح کی تربیت کرنے والے درویش شدید محبت کے قابل ہیں؛ کسی جاندار کو مت مارنا نہ قتل کرنا؛ ضرورت سے زیادہ بچت اور خرچ درست نہیں، میانہ روی سے زندگی کا میعار بہتر ہو گا۔ یاد رہے کہ ہم اِن بظاہر سادہ احکامات پر عمل درآمد بھی کروائیں گے اور نتائج کو بصورتِ تحریر محفوظ بھی کریں گے۔
4) ہم سے پہلے جو عام انسانوں، معصوم جانوروں، اساتذہ اور دنیا تیاگ دینے والے درویشوں پر ظلم و ستم ہوتے رہے، اِسی وجہ سے آسمانی مدد نہ آتی تھی۔ پہلے ہر ذرا ذرا سی بات پر بے کار رسوم کا رواج تھا اور ڈھول بجا بجا کر سب کا جینا حرام کیے رکھا تھا، اب خاموشی کا راج ہو گا اور اچھی اخلاقیات (دھما) کی موسیقی بجے گی.
5) آپ کو اچھائی کے راستے میں مشکلات پیش آئیں گی، آپ نے گھبرانا نہیں۔ شروع میں مشکل پیش آتی ہے کیونکہ صدہا برسوں سے ہم نے اِن پر عمل نہیں کیا ہوتا۔ ایک بار معاشرے میں اچھائی جڑیں پکڑ لے گی تب سب آسان ہو جائے گا۔ اچھائی اور تہذیب کے راستے میں شاہی خاندان عام عوام کے مقابلے میں زیادہ مشکلات پاتے ہیں کیونکہ سَب سے زیادہ بگڑے ہوئے بھی یہی ہوتے ہیں۔ اس لیے یاد رکھیے کہ حکومت کو آپ سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہو گا مگر ہم گھبرائیں گے نہیں۔
ہم نے کچھ حکام مقرر کیے ہیں جو سلطنت میں کسی کا مذہب تبدیل کیے بغیر اچھی اقدار اور رفاہِ عامہ کو یقینی بنائیں گے۔ وہ حکام مغربی سرحدوں کے قریب آباد یونانی قبائل، کمبوجا، گندھارا، راستاریکا اور پاتینیکا میں بھی جا رہے ہیں اور پرامن اخلاقی اقدار کی تعلیم دیں گے۔ یہ حکام پوری سلطنت میں سَب کے ساتھ مل کر کام کریں گے جن میں فوجی، سردار، اہلِ علم، اساتذہ، گھریلو ملازمین، غریب لوگ، عمر رسیدہ اور نیک سیرت افراد شامل ہوں گے.. یوں یہ افراد بھی خوف و غم سے نجات پا لیں گے۔ ہم خصوصی طور پر قیدیوں پر توجہ کر رہے ہیں۔ اگر ہمارے حکام میں سے کوئی بہتر سمجھے گا تو بیمار، عمر رسیدہ یا گھر کے واحد کفیل قیدیوں کو آزاد بھی کر سکے گا۔ سلطنت میں جہاں بھی خواتین کے متعلق ادارے ہیں اُن کی بھرپور حفاظت بھی کی جائے گی اور اُن سے اچھے معاشرے کی بہتری کے لیے مدد بھی لی جائے گی۔ یقیناً آپ میں سے جو بھی اچھا انسان ہو گا، اُسے سَب سے زیادہ آسانیاں نصیب ہوں گی۔ اپنے علاوہ دوسرے انسانوں اور جانداروں کا ضرور سوچیے۔
6) پہلے زمانوں میں سلطنت میں جو بھی مسائل ہوتے تھے یا تو وہ بادشاہ تک پہنچتے نہ تھے یا اتنی دیر سے پہنچتے تھے کہ اُنہیں حل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ہم ایسا نظام بنا چکے ہیں کہ پوری سلطنت میں جس کسی کو جو بھی مسئلہ ہو، وہ اگر ہمارے نمائندے فوری حل نہ کر سکیں تو تیز رفتاری سے وہ مسئلہ مجھ تک پہنچا دیا جائے گا اور فوراً حل ہو گا۔ بے شک مَیں سو رہا ہوں، اپنے خاندان کے ساتھ ہوں یا سفر میں ہوں، وہ حکام جلد از جلد مجھ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم نے یہ احکامات اور مندرجات اِسی لیے جگہ جگہ پتھروں پر نقش کروائے ہیں تاکہ ہمارے بعد بھی قائم رہیں اور کسی کو کوئی شک نہ رہے۔
7) سلطنت میں اِس وقت جہاں جہاں جو مذاہب موجود ہیں، سَب کو حفاظت دی جائے گی۔ آپ کی مرضی ہے کہ اپنے مذہب پر مکمل عمل کریں یا بے عمل رہیں، ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن ہم سب نے مذہب سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے۔ ایک اہم بات بتاتا چلوں کہ اگر بے انتہا مذہبی ہو کر بھی انسانوں اور جانوروں کے لیے رحم کے جذبات نہ ابھریں تو آپ نے حقیقتاً اپنے مذہب پر عمل ہی نہیں کیا۔ اِس سلسلے میں بے رحم ہونے کے بعد جو آپ کو سکون ملتا ہے، وہ دھوکا ہے۔
8.) گزشتہ ادوار میں بادشاہ محض شکار اور سیرسپاٹوں کے لیے سفر پر نکلا کرتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہو گا۔ سفر پر تب ہی نکلا جائے گا اگر عوام کی حالت ملاحظہ کرنی ہو، اُن کے فوراً حل نکالنے ہوں، حالاتِ سلطنت کا جائزہ لینا ہو یا براہِ راست اخلاقی اقدار سکھانی ہوں۔ مزید یہ کہ اہلِ علم اور درویشی اختیار کرنے والوں کے در پر حاضری دینی ہو یا پھر غریب افراد کو اپنے ہاتھوں سے مال و اسباب دینے ہوں۔ یاد رہے کہ ہم جانوروں کو ایذا نہیں پہنچائیں گے اور نہ ہی پہنچانے دیں گے، اس لیے شکار پر پابندی ہے۔
9) عام طور دیکھا گیا ہے کہ بیماری کے دوران، صحت یاب ہونے پر، شادیوں کے موقع پر، بچوں کی پیدائش پر، سفر کا آغاز کرنے پر، اور بہت سے ایسے مواقع پر طرح طرح کے رسوم و رواج ہیں، کچھ رسوم میں فحاشی و عریانی بھی دیکھی گئی ہے۔ ہمیں اِن سَب تقریبات اور رسوم پر کوئی اعتراض نہیں اگر آپ کی خوشی اسی میں ہے لیکن ہم یہ ضرور بتانا چاہتے ہیں کہ اگر تو اِن رسوم و رواج سے کسی بھوکے کے پیٹ میں اناج جاتا ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ بہرحال اچھی اقدار کو ہاتھ سے کبھی نہیں چھوڑنا ورنہ آپ وقت ضائع کریں گے۔ اگر آپ کے ہاتھوں آپ کے ملازمین اور خواتین پریشان ہیں تو آپ وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اگر بے زبان جانوروں کی زندگیاں تنگ ہیں تو آپ وقت ضائع کر رہے ہیں، تیاگ دیں ایسے رسوم و رواج کو۔
10) آپ کے بادشاہ اشوک کو شہرت کی کوئی چاہ نہیں۔ لیکن اگر میرے مشہور و معروف ہونے کی وجہ سے عوام اچھی اقدار اپنا سکتی ہے تو پھر مجھے مشہوری پسند آئے گی ورنہ نہیں۔ مشہور ہونے کے مقابلے میں دل کا سکون بہتر ہے۔ لیکن اگر مجھے دل کا سکون مل رہا ہو اور عوام بے سکونی کی زندگی گزاریں تو مجھے اپنے لیے دل کا سکون بھی پسند نہیں۔
11) سلطنت میں ایک دوسرے کو قیمتی تحفے تحائف دینے کا سلسلہ بند کیا جا رہا ہے۔ اگر تحفہ دینا ہی ہے تو دوسرے کے لیے سکون کا باعث بنیں، یہی سَب سے بہترین تحفہ ہے۔ رقم کا بہترین استعمال یہی ہے کہ کوئی بھوکا نہ رہے اور اُسے سکون کی دولت نصیب ہو۔ اپنے ہاتھوں کو ظلم کرنے سے روکیں، یہی عظیم تحفہ ہے جو آپ کے ہاتھ سے کسی کو دیا جا سکتا ہے۔
12) ہماری سلطنت میں ہر طرح کی عوام موجود ہے اس لیے ایک دوسرے کے لیے اپنی زبانوں کو قابو میں رکھیے۔ کسی کے مذہب دھرم یا روایات پر تنقید کی اجازت نہیں۔ بے شک کسی کے سامنے اپنے مذہب دھرم کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے سے بھی اُس کا دل دُکھ سکتا ہے۔ اپنے آپ کو قابو میں رکھیے اور اچھی اقدار سے پیش آئیے۔ ہماری سلطنت میں مذہب کی بنیاد پر کسی کو کوئی برتری نہیں۔
13) جب ہم نے، یعنی بادشاہ اشوک نے تاج پوشی کے آٹھویں برس کالنگا کی جنگ لڑی تو اُس میں اپنے ڈیڑھ لاکھ سپاہ لے گئے جن کے ہمراہ بہت تعداد گھوڑوں اور ہاتھیوں کی بھی تھی۔ بے شک ہم وہ جنگ جیت گئے مگر ہمارے ایک لاکھ اور دشمن کے بھی لگ بھگ اتنے ہی فوجی مارے گئے۔ جانوروں کی موت بھی ہوئی۔ بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ ہمیں احساس ہو گیا تھا کہ جنگوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ہم اپنے کیے پر توبہ کر چکے ہیں اور آئندہ کبھی بھی کوئی جنگ نہ کرنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ اس کے بعد ہم نے فلاح کا راستہ پایا، سکون اور امن کا راستہ، انسانی اقدار کا راستہ۔ پوری سلطنت میں اب امن قائم ہو گا اور تمام انسان چرند پرند ایک اچھی زندگی گزاریں گے۔ جو ہو چکا سو ہو چکا، ہمیں اپنے ایک ایک فوجی کی موت پر بھی غم ہے اور اس دوران جو معصوم انسان مارے گئے، اُن کا بھی نہایت افسوس ہے۔ یہ دُکھ عمر بھر ہمارے ساتھ رہے گا۔ لیکن یاد رہے کہ امن و امان درہم برہم کرنے والے اس مغالطے میں نہ رہیں کہ ہم اُن کے ساتھ سختی سے نہیں نبٹیں گے۔ ہر مظلوم کو انصاف مل کر رہے گا۔ ظالموں کو سزا ضرور دی جائے گی۔
14) آخر میں یہ کہ یہ سب فرامین و احکامات مختصر ہیں۔ ہمارے خاص نمائندے یہ سب تفصیل سے سکھائیں گے۔ اِن فرامین کو پتھروں اور میناروں پر صرف اس لیے کنندہ کروایا گیا ہے تاکہ ہمارے بعد کوئی اپنی جانب سے اضافہ یا تبدیلی نہ کر سکے۔ ممکن ہے کہ قدرتی آفات یا عملیات کے باعث یہ فرامین کہیں کہیں سے مِٹ جائیں۔ ایسی صورت میں اپنے علاقے سے قریب ترین نقش شدہ فرمودات ڈھونڈیے، یہی فرمان وہاں بھی موجود ہوں گے۔ آپ کو راہِ راست تب نصیب ہو گی جب یقین ہو گا کہ جو بھی پڑھ رہے ہیں، من و عن پڑھ رہے ہیں لہذا مِٹ چکے فرمان پر اپنے اندازے مت لگائیے گا، تحقیق اور سفر کے ذریعے درست معلومات کا حصول ممکن بنائیے۔
آپ کا بادشاہ
اشوک
•••
اندازہ کیجیے، یہ قومی منشور ہے، عجب منشور ہے۔ خیر، انگریزی میں یہ سب فرمودات مندرجہ ذیل لوکیشن پر ملیں گے۔
شب بخیر، مُسافرِشب`
English Version: Ashoka Edicts
https://www.cs.colostate.edu/~malaiya/ashoka.html
???? Google Map Location:
Ashoka Rocks
N-35, Lohar Banda, Manshera, Mansehra, Khyber Pakhtunkhwa
https://maps.app.goo.gl/7ri12
Further reading:-
???? Mansehra Rock Edicts
https://en.m.wikipedia.org/wiki/Mansehra_Rock_Edicts
???? Edicts of Ashoka
https://en.m.wikipedia.org/wiki/List_of_Edicts_of_Ashoka
???? What is Edict?
https://en.m.wikipedia.org/wiki/Edict
Writing & translation by مُسافرِشَب
#Asoka #Ashoka #Edicts #Gandhara #History #Mansehra



بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2756601771237005



