منتخب غزلیں
بچھڑے تو قربتوں کی دعا بھی نہ کر سکے اب کے تجھے سپ…

بچھڑے تو قربتوں کی دعا بھی نہ کر سکے
اب کے تجھے سپردِ خدا بھی نہ کر سکے
اب کے تجھے سپردِ خدا بھی نہ کر سکے
تقسیم ہو کے رہ گئے صد کرچیوں میں ہم
نامِ وفا کا قرض ادا بھی نہ کر سکے
نازک مزاج لوگ تھے ہم جیسے آئینہ
ٹوٹے کچھ اس طرح کہ صدا بھی نہ کر سکے
خو ش بھی نہ رکھ سکے تجھے ہم اپنی چاہ میں
اچھی طرح سے تجھ کو خفا بھی نہ کر سکے
ایسا سلوک کر کہ تماشائی ہنس پڑیں
کوئی گلہ گذار، گلہ بھی نہ کر سکے
ہم منتظر رہے، کوئی مشقِ ستم تو ہو
تم مصلحت شناس، جفا بھی نہ کر سکے
اعتبارؔ ساجد۔۔۔!!




Aala
واہ واہ واہ بہت اچھے
واہ کیا خوب لکھا ہے !!! بہت خوب جناب
بہت خوصورت کلام
عمدہ غزل
اب کہ تجھے سپرد خدا بھی نہ کر سکے ۔۔واہ ! بہت اعلی
بہت عمدہ
واہ
اعلیٰ