ایک دن جنگل کی انتظامیہ نے اعلان کیا کہ ایک خرگوش کی اسامی خالی ہے۔ اتفاق ایسا ہ…

اتفاق ایسا ہوا کہ کسی خرگوش نے درخواست ہی نہ دی۔ لیکن حالات کا مارا، بے روزگار ایک ریچھ مجبوراً درخواست دے بیٹھا۔
کاغذات مکمل تھے، معلومات درست تھیں، اس لیے انتظامیہ نے بغیر زیادہ سوچے سمجھے ریچھ کو ہی خرگوش مان لیا اور اسے نوکری دے دی۔
کچھ عرصے بعد ریچھ کو ایک عجیب بات محسوس ہوئی۔ جنگل میں ایک ریچھ کی اسامی پر ایک ننھا سا خرگوش کام کر رہا تھا، اور اسے پورا ریچھ والی مراعات اور پروٹوکول مل رہا تھا۔
ریچھ کا دل جل اٹھا۔ وہ اپنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ خرگوش کی تنخواہ پر گزارا کر رہا تھا، اور ایک چھوٹا سا خرگوش ریچھ بن کر عیش کر رہا تھا۔
ریچھ نے اپنے دوستوں اور خیرخواہوں سے بات کی۔ سب نے ایک ہی مشورہ دیا: "یہ ناانصافی ہے، فوراً قانونی کارروائی کرو۔”
ریچھ سیدھا جنگل کے ڈائریکٹر کے پاس پہنچا۔ ڈائریکٹر گھبرا گیا۔ کوئی جواب نہ سوجھا تو اس نے فائل آگے انتظامیہ کو بھیج دی۔
انتظامیہ نے جان چھڑانے کے لیے چند سینیئر چیتوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی۔ کمیٹی نے خرگوش کو نوٹس بھیجا: "حاضر ہو کر ثابت کرو کہ تم واقعی ریچھ ہو۔”
اگلے دن خرگوش حاضر ہوا۔ اس نے فائلیں کھولیں، ڈگریاں دکھائیں، مہر لگی اسناد پیش کیں، اور یہ ثابت کر دیا کہ وہ باضابطہ طور پر ایک ریچھ ہے۔
اب کمیٹی نے ریچھ کو بلایا اور پوچھا: "کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ تم خرگوش ہو؟”
مجبوراً ریچھ نے بھی اپنے بنوائے ہوئے کاغذات نکالے اور یہ ثابت کر دیا کہ وہ قانونی طور پر خرگوش ہے۔
کمیٹی نے فیصلہ سنایا: "حقیقت یہ ہے کہ خرگوش ہی ریچھ ہے، اور ریچھ ہی خرگوش ہے۔ لہٰذا کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ دونوں اپنی اپنی جگہ خوشی سے کام کرتے رہیں۔”
ریچھ نے سر جھکا کر فیصلہ قبول کیا اور خاموشی سے واپس لوٹ گیا۔
دوستوں نے حیرت سے پوچھا: "اتنی آسانی سے ہار کیوں مان لی؟”
ریچھ مسکرا کر بولا، "میں چیتوں پر مشتمل اس کمیٹی کے خلاف کیا کہتا؟ اصل مسئلہ یہ نہیں تھا کہ وہ چیتے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ وہ دراصل گدھے تھے، اور ان کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے مکمل ڈگریاں اور کاغذات موجود تھے۔”
🐇🐇🐇🐇🐇🐇
نوٹ: اس پوسٹ کا حقیقت سے دوووور دوووور تک کوئی تعلق نہیں۔۔۔
Source



Funpaaray