منتخب غزلیں
جب ہوئی اُس کی توجہ میں کمی تھوڑی سی خود بخود آگئی…
جب ہوئی اُس کی توجہ میں کمی تھوڑی سی
خود بخود آگئی آنکھوں میں نمی تھوڑی سی
خود بخود آگئی آنکھوں میں نمی تھوڑی سی
بن گیا پھول بنانے تھے خد و خال اُس کے
رہ گئی میرے تخیل میں کمی تھوڑی سی
وہ جو آجاتا تو کیا کیا نہیں ہوتا پھر بھی
ذکر جب اس کا چھڑا بزم جمی تھوڑی سی
اُس کو بھی اپنی انا پر ہے بہت ناز تو پھر
ہم بھی دکھلائیں گے ثابت قدمی تھوڑی سی
رسمِ محفل ہی سہی حال تو پوچھا اُس نے
شدتِ گرمئ جذبات تھمی تھوڑی سی
یوں ہی اک حرف ِ شکایت تھا لبوں پر اُس کے
جس طرح پھول کی پتی پہ نمی تھوڑی سی
اُس نے رکھا ہی نہیں پاؤں زمیں کے اوپر
مل گئی جس کو تری ہم قدمی تھوڑی سی
اور دو آتشہ کردیتی ہے آہنگ ِ غزل—-!!!!
ہندوی لَے میں نوائے عجمی تھوڑی سی
(اشفاق حسین)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی



Achi hai
wah
خوب است
Wah
Wah