منتخب غزلیں

شکیل بدایونی شاعر کی وفات Apr 20, 1970 چودہویں کا…

شکیل بدایونی شاعر کی وفات
Apr 20, 1970

چودہویں کا چاند ہو جیسے سینکڑوں لازوال گیتوں کے خالق معروف شاعر شکیل بدایونی کی پیدائش 3 اگست 1916 کو اتر پردیش کے ضلع بدایوں میں ہوئی۔
ابتدائی تعلیم بدایوں سے حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے وہ 1932 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجوئشن کرکے کچھ عرصہ دہلی میں سرکاری ملازم رہے۔
علی گڑھ میں زمانۂ طالبعلمی کے دوران ہی شکیل نے شاعری شروع کی اور 1944 میں بمبئی منتقل ہونے کے بعد ان کی ملاقات معروف موسیقار نوشاد سے ہوئی اور فلم ‘درد’ سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا۔
جس کے گیتوں نے پورے ہندوستان میں تہلکہ مچا دیا تھا، خصوصاً ‘افسانہ لکھ رہی ہوں دلِ بے قرار کا’ تو آج بھی لوگوں کی زبانوں پر رواں ہے۔
اس کے بعد نوشاد اور شکیل بدایونی کے اشتراک سے متعدد سپر ہٹ گیت سامنے آئے جن میں فلم ‘میلہ’ کا یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے، فلم ‘دلاری’ کا سہانی رات ڈھل چکی، فلم ‘میرے محبوب’ کا میرے محبوب تجھے، اڑن کھٹولہ کا او دور کے مسافر، سمیت بیجو باورا کا گیت او دنیا کے رکھوالے قابل ذکر ہیں۔
تاہم اس جوڑی کا سب سے نمایاں کام فلم ‘مغلِ اعظم’ میں سامنے آیا جس کے ہر گیت نے مقبولیت حاصل کی، خصوصاً پیار کیا تو ڈرنا کیا تو لافانی حیثیت اختیار کرگیا۔
پچاس سے ساٹھ کی دہائی تک دیگر نغمہ نگاروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ گیت شکیل نے لکھے تھے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سب سے زیادہ فلمی گیت لکھنے والے نغمہ نگار شکیل بدایونی ہی رہے تھے۔
چودھویں کا چاند کے ٹائٹل گیت پر 1961 میں شکیل کو پہلا فلم فئیر ایوارڈ ملا۔
اگلے سال پھر فلم ‘گھرانہ’ کے نغمے حسن والے تیرا جواب نہیں پر اور 1963 میں ہیٹ ٹرک کرتے ہوئے فلم ‘بیس سال بعد’ کے گانے کہیں دیپ جلے کہیں دل پر تیسرا فلم فئیر ایوارڈ حاصل کیا۔
جبکہ ہندوستانی حکومت نے انہیں گیت کارِ اعظم کے خطاب سے بھی نوازا۔
ایک سو سے بھی زائد فلموں میں گیت نگاری کرنے والے اس البیلے شاعر کا انتقال 20 اپریل 1970 کو بمبئی میں ہوا۔
اگرچہ آج وہ ہم میں نہیں تاہم ان کے گانوں کو سن کر لوگ اب بھی جھومنے لگتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مری زندگی پہ نہ مسکرا، مجھے زندگی کا الم نہیں
جسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیں
مرا کُفر حاصلِ زُہد ہے، مرا زُہد حاصلِ کُفر ہے
مری بندگی ہے وہ بندگی جو رہینِ دیر و حرم نہیں
مجھے راس آئیں خدا کرے یہی اشتباہ کی ساعتیں
اُنہیں اعتبارِ وفا تو ہے مجھے اعتبارِ ستم نہیں
وہی کارواں، وہی راستے، وہی زندگی، وہی مرحلے
مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی تم نہیں، کبھی ہم نہیں
نہ وہ شانِ جبرِ شباب ہے، نہ وہ رنگ قہرِ عذاب ہے
دلِ بے قرار پہ ان دنوں، ہے ستم یہی کہ ستم نہیں
نہ فنا مری، نہ بقا مری، مجھے اے شکیلؔ نہ ڈھونڈیئے
میں کسی کا حسنِ خیال ہوں، مرا کچھ وجود و عدم نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِک عشق ہی کیا شعلہ فشاں میری غزل میں
پنہاں ہیں رموزِ دو جہاں میری غزل میں
تعمیر کے پہلوُ ہیں نہاں میری غزل میں
مِلتا نہیں رجعت کا نِشاں میری غزل میں
دیکھے تو کوئی دیدۂ ادراک و یقین سے
ہر منظرِ فطرت ہے جواں میری غزل میں
اُردو کو جس اندازِ بیاں کی ہے ضرورت
مِلتا ہے وہ اندازِ بیاں میری غزل میں
بچ بچ کے نِگاہ و دلِ اربابِ ہوس سے
پائی ہے محبّت نے اماں، میری غزل میں
محدُود نہیں دائرۂ رنگِ تغزّل !
ہر شعبۂ ہستی ہے نہاں میری غزل میں
ہر شعر ہے مجموعۂ احساس و صداقت
ہر لفظ ہے نشتر کی زباں میری غزل میں
منظوم ہے میرے ہی خیالات کی تاریخ
کیا ذکر حدیثِ دِگراں میری غزل میں
محبُوب کی خلوت پہ نظر میرے سُخن کی
مظلوُم کی آہوں کا دُھواں میری غزل میں
مسجد کے مراحل، کہیں میخانے کی باتیں
افسانۂ ہر پیر و جواں میری غزل میں
کچُھ سِلسلۂ چنگ و دف و بربط و مضراب !
کچُھ تذکرۂ تیغ و سِناں میری غزل میں
بھڑکے گی یُوں ہی آتشِ ماحول کہاں تک
جذبات کے دریا ہے رواں میری غزل میں
ہے ظلم شکیل اہلِ سیاست کا یہ ورنہ
گنجائشِ تنقیص کہاں میری غزل میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برائے نام جہاں دورِ بے سرور چلیں
شکیل کیوں نہ ہم اُس میکدے سے دور چلیں
نہ سمتِ وادئ ایمن، نہ سوئے طُور چلیں
نگاہ دل پر جمائیں، ترے حُضور چلیں
اس انجمن میں ریاکاریاں ہیں شاملِ عجز
چلو یہاں سے بصد نخوت و غرور چلیں
نسیمِ صبح میں نکہت نہ پھول میں خوشبو
یہی چمن ہے تو ایسے چمن سے دور چلیں
ہمارے سائے پہ بھی رشک تھا شکیلؔ جنہیں
خدا کی شان! وہ اب ہم سے دُور دُور چلیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غمِ عاشقی سے کہہ دو رہِ عام تک نہ پہنچے
مجھے خوف ہے یہ تہمت مرے نام تک نہ پہنچے
میں نظر سے پی رہا تھا تو یہ دل نے بد دعا دی!
تیرا ہاتھ زندگی بھر کبھی جام تک نہ پہنچے
وہ نوائے مضمحل کیا نہ ہو جس میں دل کی دھڑکن
وہ صدائے اہلِ دل کیا جو عوام تک نہ پہنچے
مرے طائرِ نفس کو نہیں باغباں سے رنجش
مِلے گھر میں آب و دانہ تو یہ دام تک نہ پہنچے
نئی صبح پر نظر ہے، مگر آہ یہ بھی ڈر ہے
یہ سحر بھی رفتہ رفتہ کہیں شام تک نہ پہنچے
یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارک
مگر ایسی بے رُخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے
جو نقابِ رُخ اُٹھا دی تو یہ قید بھی لگا دی
اُٹھے ہر نگاہ لیکن کوئی بام تک نہ پہنچے
انہیں اپنے دل کی خبریں، مرے دل سے مل رہی ہیں
میں جو اُن سے رُوٹھ جاؤں تو پیام تک نہ پہنچے
وہی اک خموش نغمہ ہے شکیلؔ جانِ ہستی
جو زبان پر نہ آئے، جو کلام تک نہ پہنچے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راہِ خدا میں عالمِ رندانہ مل گیا
مسجد کو ڈھونڈتے تھے کہ میخانہ مل گیا
آغازِ کائنات سے جس کی تلاش تھی
اوراقِ زندگی میں وہ افسانہ مل گیا
اہلِ جنوں کو تاب کہاں سوزِ حُسن کی
جلتے ہی شمع خاک میں پروانہ مل گیا
دیکھا نگاہِ یاس سے جب گل کدے کا رنگ
ہر گُل کی آڑ میں کوئی ویرانہ مل گیا
اِک اِک زباں پہ میری رُوداد ہے شکیلؔ
اپنوں کے ساتھ کیا کوئی بیگانہ مل گیا


Related Articles

One Comment

  1. ساحر لدھیانوی نے ایک گیت لِکھا تھا ۔۔۔

    اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
    ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

    جس میں تاج محل اور تاج محل بنوانے والے مغل حکمران کے بارے میں تضحیک کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔۔۔ وہ گیت بےحد مقبول ہُوا۔۔۔مگر بہت کم لوگوں کے علم میں ہو گا کہ شکیل بدایونی نے بھی تاج محل کے متعلق اپنے منفرد تخیّل کا اظہار کیا تھا ۔۔ ، ۔۔۔۔
    ۔۔۔شکیل بدایونی کے اشعار بھی ملاحظہ کیجئے۔

    شکیل بدایونی۔۔۔۔۔
    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
    ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے
    اس کے سائے میں سدا پیار کے چرچے ہوں گے
    ختم جو ہو نہ سکے گی وہ کہانی دی ہے
    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
    تاج وہ شمع ہے الفت کے صنم خانے کی
    جس کے پروانوں میں مفلس بھی ہیں زردار بھی ہیں
    سنگ مرمر میں سمائے ہوئے خوابوں کی قسم
    مرحلے پیار کے آساں بھی ہیں دشوار بھی ہیں
    دل کو اک جوش ارادوں کو جوانی دی ہے
    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
    تاج اک زندہ تصور ہے کسی شاعر کا
    اس کا افسانہ حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں
    اس کے آغوش میں آ کر یہ گماں ہوتا ہے
    زندگی جیسے محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
    تاج نے پیار کی موجوں کو روانی دی ہے
    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
    یہ حسیں رات یہ مہکی ہوئی پر نور فضا
    ہو اجازت تو یہ دل عشق کا اظہار کرے
    عشق انسان کو انسان بنا دیتا ہے
    کس کی ہمت ہے محبت سے جو انکار کرے
    آج تقدیر نے یہ رات سہانی دی ہے
    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
    ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے
    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علاوہ ازیں
    ایک یادگار مستطیل کا معتبر حصہ
    شکیل بدایونی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔موسیقار نوشاد علی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گلوکار محمد رفیع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اداکار دلیپ کمار
    اور شکیل بدایونی
    اس”مستطیل”کو آج بھی ناقابِلِ فراموش تسلیم کیا جاتا ہے۔
    شکیل بدایونی نے ویسے تو بےشمار یادگار اشعار تحریر کئے ہیں مگر
    مغل اعظم
    آج بھی اسی طمطراق کے ساتھ موجود ہے ۔ مغل اعظم کی شاعری آج بھی دلکش ہے
    شکیل بدایونی کی شاعری”جام” کی محتاج نہیں تھی۔اس کا اظہار انہوں نے اپنے شاعری میں مختلف حوالوں کے ساتھ کیا ہے حکیم خلیق الرحمٰن

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/