منتخب غزلیں

سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی احمد فراز سام…

سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی
احمد فراز
سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی
دل نے چاہا بھی اگر ہونٹوں نے جنبش نہیں کی

اہل محفل پہ کب احوال کھلا ہے اپنا
میں بھی خاموش رہا اس نے بھی پرسش نہیں کی

جس قدر اس سے تعلق تھا چلا جاتا ہے
اس کا کیا رنج ہو جس کی کبھی خواہش نہیں کی

یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے
اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی

اک تو ہم کو ادب آداب نے پیاسا رکھا
اس پہ محفل میں صراحی نے بھی گردش نہیں کی

ہم کہ دکھ اوڑھ کے خلوت میں پڑے رہتے ہیں
ہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی

اے مرے ابر کرم دیکھ یہ ویرانۂ جاں
کیا کسی دشت پہ تو نے کبھی بارش نہیں کی

کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لیے
مقتل شہر میں ٹھہرے رہے جنبش نہیں کی

وہ ہمیں بھول گیا ہو تو عجب کیا ہے فرازؔ
ہم نے بھی میل ملاقات کی کوشش نہیں کی


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/