کیفی اعظمی کی پیدائش Jan 14, 1919 کیفی اعظمی کا ا…

Jan 14, 1919
کیفی اعظمی کا اصل نام اطہر حسین رضوی تھا اور وہ 14 جنوری 1919ء کو اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے تھے ۔ کیفی اعظمی نے اپنی پہلی نظم 11 سال کی عمر میں تحریر کی ۔ 19 سال کی عمر میں وہ بھارت کی کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے
1940 کے اوائل میں کیفی اعظمی بمبئی آ گئے اور صحافت کے شعبے سے منسلک ہوگئے یہیں ان کی شعری کا پہلا مجموعہ “جھنکار” شائع ہوا۔
قیام ممبئی کے دوران کیفی اعظمی نے لاتعداد فلموں کے لئے نغمے اور مکالمے لکھے، جن میں بزدل، کاغذ کے پھول، ہیر رانجھا، گرم ہوا، سات ہندوستانی، پاکیزہ، ہنستے زخم اور ارتھ کے نام سرفہرست ہیں ۔
ان کے مقبول گیتوں میں فلم کاغذ کے پھول کا گیت “وقت نے کیا کیا حسیں ستم” پاکیزہ کا گیت “یونہی کوئی مل گیا تھا، سر راہ چلتے چلتے”، ہیر رانجھا کا گیت’’یہ دنیا یہ محفل‘‘ اور ارتھ کا گیت “تم اتنا جو مسکرا رہے ہو‘‘ شامل ہیں ۔
ان کی غزلوں اور نظموں کی مقبولیت کی اصل وجہ ان میں جذبات کا بے پناہ اظہار، الفاظ کی خوبصورتی اور غیر منصفانہ معاشرے کے خلاف بغاوت کا عنصر تھا۔
اردو شاعری کے فروغ کے لئے انتھک کام کرنے پر انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ، ساہتیہ اکیڈمی فیلوشپ، پدم شری ، نیشنل فلم ایوارڈ اور فلم فئیر ایوارڈ سے نوازا گیا، کیفی اعظمی معروف بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی کے والد اور شاعر جاوید اختر کے سسر تھے
کیفی اعظمی 10 مئی 2002 کو اس دنیا سے رخصت ہو ئے۔ وہ ممبئی میں آسودہ خاک ہیں
………………..
تم اتنا جو مسکرا رہے ہو
کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو


