منتخب نظمیں

میری امی ہر عید پر ایک اضافی جوڑا استری کر کے الم…

💔 میری امی ہر عید پر ایک اضافی جوڑا استری کر کے الماری میں رکھ دیتی تھیں… حالانکہ ہمارے گھر میں صرف تین لوگ تھے۔
ابو کے انتقال کے بعد جب میں نے وہ جوڑا کسی غریب کو دینے کی کوشش کی… تو امی پہلی بار مجھ پر چیخ پڑیں۔ اور پھر جو راز کھلا، اُس نے مجھے کئی راتوں تک سونے نہیں دیا۔ 🕯️

میرے ابو ریلوے میں کلرک تھے۔

سادہ آدمی۔

سادہ خواب۔

سادہ زندگی۔

وہ اُن لوگوں میں سے تھے جنہیں دنیا کبھی “خاص” نہیں سمجھتی، مگر گھر کی دیواریں اُن کے بغیر ادھوری لگتی ہیں۔

ہم لاہور کے ایک پرانے محلے میں رہتے تھے۔

چھوٹا سا گھر۔

بارش میں ٹپکتی چھت۔

اور صحن میں ایک نیم کا درخت، جس کے نیچے ابو ہر شام چارپائی ڈال کر چائے پیتے تھے۔

امی کی ایک عجیب عادت تھی۔

ہر عید سے ایک دن پہلے وہ تین نہیں… چار جوڑے استری کرتیں۔

ایک ابو کا۔

ایک میرا۔

ایک اپنا۔

اور چوتھا…

سادہ سفید کُرتا پاجامہ۔

بالکل نیا۔

میں بچپن سے پوچھتا:

“امی، یہ کس کے لیے ہے؟”

وہ ہمیشہ مسکرا کر کہتیں:

“مہمان کے لیے۔”

مگر عجیب بات یہ تھی کہ وہ مہمان کبھی نہیں آیا۔

ہر عید وہ جوڑا الماری میں واپس رکھ دیا جاتا۔

پھر اگلے سال نیا سِل جاتا۔

میں بڑا ہوا تو یہ بات بھول گیا۔

زندگی نوکری، بلوں اور ذمہ داریوں میں الجھ گئی۔

پھر ایک سرد دسمبر میں ابو اچانک دل کے دورے سے فوت ہو گئے۔

گھر جیسے آواز کھو بیٹھا۔

امی خاموش رہنے لگیں۔

وہ اکثر مغرب کے بعد اُس الماری کے سامنے بیٹھ جاتیں جہاں وہ اضافی جوڑا رکھا ہوتا تھا۔

اگلی عید آئی تو گھر میں پہلی بار خوشبو نہیں تھی۔

نہ سویاں بنیں۔
نہ قہقہے آئے۔

صرف خاموشی تھی۔

میں نے الماری کھولی تو ایک بار پھر نیا سفید جوڑا رکھا تھا۔

میرے اندر عجیب غصہ ابھرا۔

“ابو چلے گئے ہیں… اب یہ سب کیوں؟”

میں نے وہ جوڑا اٹھایا اور سوچا کسی غریب کو دے دوں۔

اتنے میں امی نے دیکھ لیا۔

اور پہلی بار…

پہلی بار اُنہوں نے مجھ پر اونچی آواز میں کہا:

“اُسے ہاتھ مت لگانا!”

میں ساکت رہ گیا۔

امی کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔

آنکھیں سرخ تھیں۔

میں نے دھیرے سے پوچھا:

“آخر یہ جوڑا ہے کس کے لیے…؟”

امی کافی دیر خاموش رہیں۔

پھر چارپائی پر بیٹھ گئیں۔

اور بہت آہستہ بولیں:

“تمہارے بڑے بھائی کے لیے…”

میرے جسم میں جیسے بجلی دوڑ گئی۔

“میر…ا کوئی بڑا بھائی نہیں ہے۔”

امی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

“تھا…”

پھر اُس رات مجھے وہ کہانی معلوم ہوئی جو میرے ابو نے پوری زندگی کسی کو نہیں بتائی۔

میری پیدائش سے پہلے امی نے ایک بیٹے کو جنم دیا تھا۔

اُن کا پہلا بچہ۔

مگر 1971 کے ہنگاموں اور نقل مکانی کے دنوں میں، ریلوے اسٹیشن کی بھگدڑ میں وہ بچہ اُن سے بچھڑ گیا۔

صرف تین سال کا تھا۔

ابو نے مہینوں ڈھونڈا۔

کیمپوں میں۔
ہسپتالوں میں۔
اخباروں میں اشتہار دیے۔

مگر وہ کبھی نہ ملا۔

لوگوں نے کہا:

“بھول جاؤ۔”

مگر والدین کبھی نہیں بھولتے۔

امی ہر عید اُس کے لیے نیا جوڑا سِلتی رہیں۔

اور ابو ہر سال عید کی نماز کے بعد ریلوے اسٹیشن ضرور جاتے۔

صرف اِس امید میں…

کہ شاید کہیں کوئی آدمی اُن کے پاس آ کر پوچھ لے:

“آپ… سلیم صاحب ہیں؟”

میں سن کر پتھر ہو گیا۔

“ابو نے کبھی بتایا کیوں نہیں؟”

امی ہنسیں۔

وہ ٹوٹی ہوئی ہنسی تھی۔

“کیونکہ اُنہیں ڈر تھا تم خود کو کم محبت یافتہ نہ سمجھو۔”

پھر آہستہ سے بولیں:

“مگر ماں کا دل کبھی گنتی نہیں بھولتا۔”

اُس رات میں دیر تک ابو کی خالی چارپائی کے پاس بیٹھا رہا۔

اور پہلی بار مجھے سمجھ آیا…

بعض لوگ زندگی بھر ایک دروازہ کھلا رکھتے ہیں، حالانکہ اُنہیں اندر سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید کوئی واپس نہ آئے۔

اگلی عید پر میں نے خود بازار جا کر سفید کُرتا خریدا۔

امی نے پوچھا:

“یہ کس کے لیے؟”

میں نے الماری کھول کر آہستہ سے کہا:

“بھائی کے لیے…
اگر وہ کہیں زندہ ہوا… تو اُسے پتا ہونا چاہیے گھر والوں نے اُس کا انتظار کبھی نہیں چھوڑا۔” 🕯️

افسانہ؛ انتظار
©️ انتخاب سخن

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/